یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

10

ایک اہم بات! جب آپ کمپیوٹر کی مدد سے کئے گئے تجزیوں سے ہٹ کر اندازے لگاتے ہیں تو آپ خطرناک حد تک اس لائن کے قریب چلے جاتے ہیں جو سائنس کو دیگر تمام چیزوں سے الگ کرتی ہے۔ ایسے موقع پر جوشیلے، متعصب اور فرضی نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں اور اصل خرابی کا عمل تب شروع ہوتا ہے، جب کمپنیوں میں اوپر کے لوگ ان مشتبہ نتائج کو قبول کر لیتے ہیں، یوں کمپنیاں مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہیں۔ گنی ورم کی مثال لیں تو رویوں کی تلاش کا سفر شروع کرنے سے قبل ماہرین میڈیکل سائنس کی مدد سے کیڑے کی زندگی کے نشیب و فراز کو تفصیل سے جانتے تھے، لہذا جب مقامی ماہرین نے خواتین کو پانی اپنی فراک کے ذریعے چھانتے ہوئے اور متاثرہ شخص کو پانی کے قریب جانے سے روکتے ہوئے دیکھا تو وہ چونک گئے۔ انہیں پتا تھا کہ خواتین لاروے کو پانی سے نکال رہی تھیں اور جب دیہاتی متاثرہ شخص کو پانی میں بیٹھنے سے روک رہے تھے تو دراصل وہ پانی کو آلودہ ہونے سے بچا رہے تھے۔ مشاہدے کے بعد ماہرین نے فوری اور صحیح نتیجہ اخذ کیا لہذٰا ان مخصوص طریقوں کے ذریعے اس خطرناک بیماری کا قلع قمع کیا گیا۔

یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ مشکل موقعوں پر مشکل لوگوں سے موثر گفتگو اداروں میں ٹریننگ کو موثر بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے تاہم جو لوگ کامیاب نظر آتے ہیں، ان میں مشکل موقعوں پر مشکل لوگوں سے گفت و شنید کی صلاحیت زیادہ نظر آتی ہے۔ یہاں میں ان کا موازنہ ناکام رہنے والے لوگوں سے کر رہا ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کھل کر بات کرنا ہی فرق کا حقیقی سبب بنا؟ میرا تاثر یہی ہے۔

لازم ہے کہ نتائج کو جمع تفریق کر کے پرکھ لیا جائے کیونکہ حساب کتاب سے زیادہ قابل اعتماد مضمون اور کوئی نہیں، اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے مجوزہ سنہری روئیے ان لوگوں کو سکھائیں جو ناکامی سے دوچار تھے اور پھر جائزہ لیں کہ وہ سنہری روئیے واضح اور مثبت نتائج لا رہے ہیں یا نہیں؟ میں نے بھی یہی کیا، میں نے کمپنی میں اعلیٰ کارکردگی کے جزیرے دریافت کئے اور ان کے سنہری روئیے ان لوگوں کو سکھائے جو ناکام تھے۔

اب آئیے گھر کی طرف، یہاں پائے جانے والے مسائل میں سنہری رویوں کی تلاش کا کھیل کیسے کھیلا جائے؟ اگر آپ گنی ورم پر کام کر رہے ہوں اور نہ ہی کسی فیکٹری کے منتظم اعلٰی ہوں اور آپ کی اس چھوٹی سی دنیا میں مسائل کا انبار ہو تو آپ سنہری روئیے کیسے تلاش کریں گے؟ میرے دوست اکر م شیخ اپنا وزن گھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ سنہری رویوں کی تلاش میں انہیں یقیناً دلچسپی ہو گی جو وزن کم کرنا آسان بنا سکتے ہیں۔ یقیناً وہ اس وزن میں کمی کو برقرار بھی رکھنا چاہیں گے۔ ماہرین اکرم شیخ کے لیے مفید روئیے تلاش کر چکے ہیں۔ ماہرین نتائج، حکمت عملی اور ایکشنز کو الگ الگ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ مثلاآپ 10 کلو وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اسے ہم نتیجہ کہیں گے۔ آپ جتنی کیلوریز لیتے ہیں اس سے زیادہ استعمال کریں تو آپ کا وزن کم ہو جائے گا، یہ حکمت عملی کہلائے گی ایکشنز سے مراد وہ روئیے ہیں جو نظر آتے ہیں اور جنہیں ناپا جا سکتا ہے اور جو تبدیلی لانے کا باعث بنتے ہیں۔ اکرم شیخ کیلئے ماہرین سنہری رویوں کی نشان دہی پہلے ہی کر چکے ہیں۔ جن لوگوں نے تیس پاؤنڈ وزن کم کیا اور چھ سال تک اسے برقرار رکھا، ان کی کامیابی کا تجزیہ کرنے سے تین سنہری رویوں کا پتا چلا جو یہ ہیں۔
اول: گھر میں روزانہ ایکسر سائز کرنا،
دوئم: باقاعدہ ناشتہ کرنا اور
سوئم: ہر روز اپنا وزن تولنا۔
یہ تین ایکشنز شیخ اکرم کو وزن گھٹانے میں اچھا آغاز دیں گے مگر یہ محض آغاز ہو گا۔ اس کے بعد ان ایکشنز کو یقینی بنانے کیلئے کئی طرح کی مدد حاصل کرنا ہو گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments