یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

11

“مثبت انحراف” سے متعلق تحقیق کرتے ہوئے وہ خود اپنے آپ کو تختہ مشق بنا سکتے ہیں۔ وہ اپنا موازنہ اپنے ساتھ کر سکتے ہیں۔ کامیاب ڈائٹنگ والا دن کس طرح کامیاب ڈائٹنگ والا دن بنتا ہے؟ مثلاََ اگر اکر م شیخ اپنی زندگی کے ان دنوں پر غور کریں جب وہ صحیح ڈائٹنگ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے وہ سمجھ جائیں گے کہ رات کا کھانا انہیں خطرناک راستے پر ڈالتا تھا۔ اگر وہ ریستوران جانے سے پہلے ہی سوچ لیں کہ وہ کیا کھائیں گے تو مناسب غذا کا آرڈر دیں گے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے، بوفے ڈنر کو ترجیح دیتے ہیں تو بہت سی غلط سلط چیزیں کھاتے رہیں گے۔ اسی طرح شاپنگ کا وقت بھی خطرناک ہوتا ہے۔ جب وہ چکنائی والی اشیاء خریدتے ہیں تو پھر وہ چکنائی والی چیزیں ہی کھاتے ہیں۔ یاد رکھیے! غیر صحت بخش غذا خریدنے سے پہلے خود کو روکنا زیادہ آسان ہے، اگر آپ انہیں خرید کر گھر لے آئیں تو انہیں کھانے سے رک جانا مشکل ہے۔ جب شیخ اکرم کھابہ گیری کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر ان پر مایوسی غلبہ پا لیتی ہے، وہ الٹا سوچنے لگتے ہیں، ’’جب میں اپنی ڈائٹنگ کو سبوتاژ کر ہی چکا ہوں تو پھر کیا فرق پڑتا ہے، اب میں ساری حسرتیں نکالوں گا‘‘۔ پھر آج کا ارمان نکالنا عموماََ ایک ہفتے پر محیط ہو جاتا ہے اور وہ مزید پانچ پونڈ وزن بڑھا لیتے ہیں۔ تاہم اب شیخ اکرم ان چیزوں کے متعلق سوچنے لگے ہیں جو ان کے وزن گھٹانے کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اب وہ جان چکے ہیں کہ ایک دفعہ پٹری سے اترنے کے بعد اگر وہ فوری نہیں سنبھلیں گے تو پھر لڑھکتے ہی جائیں گے۔ چنانچہ آئندہ وہ کسی ڈھلوان سے پھسلیں تو پہلے سے بندوبست رکھیں گے کہ اپنے آپ کو سنبھالنا کیسے ہے؟
کھابہ گیری کا ازالہ کرنے کیلئے نئی حکمت عملی پہلے سے طے شدہ ہو گی۔ اب وہ فاقہ کشی اور زیادہ ورزش کر کے اپنا کھویا ہوا ردھم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے، بس وہ اپنے ہیلتھ پلان کی طرف لوٹ آئیں گے اور اس پر احتیاط کے ساتھ عمل کریں گے۔ شیخ اکرم موثر روئیے سیکھنے کیلئے درجنوں چھوٹے چھوٹے تجربات کریں گے۔ وہ ورزش، کھانے پکانے کی ترکیبوں، شاپنگ کے انداز اور ریستورانوں میں کھانے کے رجحانات کا جائزہ لیں گے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک وہ یہ نہ جان لیں کہ ان کے لیے سب سے اچھا کیا ہے؟

ہمیشہ یہ امر یقینی بنائیں کہ آپ سنہری رویوں پر توجہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر آپ پہلے ہی جان چکے ہیں کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نتائج آپ کو شوق دلا سکتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ صرف سنہری رویے ہی بڑے نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ ایکشن اور نتیجے کا آپس میں رشتہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ محتاط رہیں کہ اگر کوئی ماہر مشورے کے دوران نتیجہ ڈیمانڈ کر رہا ہے تو وہ مشورہ کارآمد نہیں، ہاں اگر وہ کوئی رویہ اپنانے یا قدم اٹھا نے کی بات کر رہا ہے جو مطلوبہ نتائج پیدا کر سکتا ہے تو یہ کارآمد ہو گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments