یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

12

انقلابی راہنما جانتے ہیں کہ چند خاص رویے بڑی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ وہ احتیاط سے سنہری رویئے تلاش کرتے ہیں جو تبدیلی کے لیے آبشار جیسا کام کرتے ہیں۔ یاددہانی کے لئے آپ کو بتا دوں کہ مسئلہ بڑا اور مسلسل نوعیت کا ہو اور آپ درجنوں روئیے اپنا لیں جو معمولی اثر ڈالنے والے ہوں تو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملے گی۔ جبکہ دو تین سنہری رویے کایا پلٹ دیں گے۔ توانائی کا بڑا حصہ سنہری رویوں پر خرچ کریں۔ ایک محدب عدسہ کس طرح سورج کی کرنوں کو نکتے پر مرکوز کر کے کاغذ کو آگ لگا دیتا ہے، قابل غور بات ہے۔ سنہری رویوں کی تلاش میں مشکل پیش آئے تو اس ماحول پر نظر ڈالیں، جہاں مسئلہ چھایا ہوا نظر آتا ہے، غور کرنے پر اسی ماحول میں مسئلے سے استثنیٰ بھی نظر آئے گا۔ یہ استثنیٰ دراصل وکھری ٹائپ کے لوگوں میں پایا جاتا ہے جو اپنی فہم فراست اور چھٹی حس کی مدد سے سنہری روئیے اپنا لیتے ہیں۔ ان جگہوں کا پتا چلائیں جہاں زیادہ تر لوگ اس مسئلے میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں تاہم غور کرنے پر کچھ وکھری ٹائپ کے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو اس مسئلے سے مبرا ہیں۔ اس کے بعد ان منفرد رویوں کا پتا چلائیں جو فرق کاباعث بنتے ہیں اور کامیابی و ناکامی کے درمیان لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ جو لوگ غلطیاں کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر ہمت ہار جاتے ہیں مگر کچھ مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے جلد ہی واپس کامیابی کی راہ پر چلنے لگتے ہیں۔ مثلاََ شیخ اکرم نے سیکھا کہ اپنے ڈائٹ پلان پر چلنے میں ناکامی خود رہنمائی کرے گی کہ انہوں نے آخر کہاں غلطی کی؟ ایک دفعہ اس بنیادی غلطی کی نشاندہی ہو جائے تو اس کا ازالہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جا سکتی ہے۔ شیخ صاحب وقتی ناکامی کو دل پر نہیں لیتے اور ہمت ہار کر نہیں بیٹھتے۔ ٹھوکر کر کھا کر گرنا اور پھر سنبھلنا بڑے دل گردے کا کام ہے لیکن اس کیلئے بھی ایک ایکشن پلان کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ’’حادثے‘‘ کیلئے پورے منصوبے میں ابتداء سے ہی طے شدہ بندوبست ہونا چاہیے۔

جب تک شیخ اکرم نے اس طرح کے رویوں کا پتا نہیں چلا لیا تب تک وہ ڈائٹ پلان پر دو قدم آگے چلتے اور تین قدم پیچھے لڑھکتے تھے۔ اب وہ کوئی بدپرہیزی کر بیٹھیں تو پیچھے لڑھکنے کا احتمال نہیں ہوتا۔ وہ تجزئیے اور اعداد شمار کی مدد سے دوبارہ مضبوط قدموں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ناکامی کی وجہ سے وہ اپنے طے شدہ ڈائیٹ پلان کو ترک نہیں کر تے۔ یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ ٹھوکر کھا کر سنبھلنے کا ایکشن پلان کامیاب لوگوں کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ اپنے منہ میاں مٹھو نہ بنیں بلکہ نتائج کی زبان میں بات کریں۔
آپ نے جو رویے تلاش کیے ہیں اگر وہ آپ کو سنہری نظر آتے ہیں تو پھر بھی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں، طے شدہ اصولوں کے مطابق نتائج کو ناپیں تولیں۔ اہم بات یہ ہے کہ صرف رویوں کے اہم اور سنہری نظر آنے پر مطمئن نہ ہوں بلکہ کڑی چانچ پڑتال بھی کریں اور دیکھیں کہ آیا ان سے مطلوبہ نتائج مل رہے ہیں؟

کسی سنہری طرز عمل کو تلاش کرنے اور پرکھنے کے لئے چھوٹے چھوٹے تجربات کریں۔ نتائج کے حوالے سے ہمیشہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔ زمین اور آسمان کے قلابے نہ ملائیں شیخ چلی جیسے باتیں بھی نہ کریں اگر آپ”مثبت انحراف “تلاش کر رہے ہیں تو ہمیشہ چیزوں کی گہرائی میں اتریں۔ ان لوگوں سے رجوع کریں جو پہلے ہی کارگر طرز عمل کی نشان دہی کر چکے ہیں۔ ادھر ادھر مت دیکھیں۔ پہلا مشورہ دوستوں یا سسرال والوں سے نہ لیں۔ کسی شاعر کے خیال پر بھی انحصار نہ کریں بلکہ ہر معاملے میں سائنسی خیالات کو اہمیت دیں۔ دنیا سائنسدانوں کی کاوشوں سے ایک خوبصورت سانچے میں ڈھل رہی ہے تو سائنس سے رجوع کیوں نہ کیا جائے؟ باقی باتوں کی فصلیں کاشت کرنے والوں کی تو کبھی کمی نہیں رہی۔ ہر معاملے میں سنہری طرز عمل اختیار کریں گے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ سب لوگ خواب دیکھتے ہیں، لیکن ایک جیسے ہر گز نہیں، کچھ لوگ رات کی تاریکی میں اور نیند کی گہرائی میں خواب دیکھتے ہیں جو دماغ کی بھول بھلییوں میں کھو جاتے ہیں اور جاگنے پر کچھ یاد نہیں رہتا، لیکن کچھ لوگ دن چڑھے سورج کی تیز روشنی میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں، یہ لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ خطرناک!!! جی ہاں! خطرناک! کیونکہ ان کے خواب پورے ہو جاتے ہیں۔

* ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ موثر زندگی گزاری جا سکتی ہے اور اس کے لئے دو سنہری رویے پہلے ہی دریافت کئے جا چکے ہیں۔
اول: روزانہ چار مرتبہ اپنی بلڈ شوگر ٹیسٹ کریں اور نتیجے کو کسی عملی قدم میں بدل دیں۔
دوئم: اپنی انسولین کی درست مقدار کا تعین کرتے رہیں۔ یہ سنہری رویے شوگر کنٹرول کرنے میں یقینی مدد کرتے ہیں۔
ہرتین ماہ بعد خون کے ٹیسٹ سے ٹھوس سائنسی نتیجہ سامنے آتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments