یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

2

ڈاکٹر ویوٹ نے اندازہ لگایا کہ اگر طوائفوں کو قائل کر لیا جائے کہ وہ گاہگوں سے محفوظ جنسی اختلاط پر اصرار کریں گی تو تھائی لینڈ میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ ان کی بنیادی حکمت عملی بن گئی۔ وہ اس ایک نکتے پر سوچ بچار کرنے لگے کہ وہ طوائفوں کو محفوظ جنسی اختلاط پر کیسے ثابت قدم رکھ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر ویوٹ کے اس لائحہ عمل نے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے وہ کر دکھایا جوکسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ ان کے ساتھ گھنٹوں بات چیت کے دوران مجھے پتا چلا کہ یہ معجزہ کیسے رونما ہوا؟

ڈاکٹر ویوٹ کے طرز عمل سے میں نے سیکھا کہ کسی بڑی مصیبت سے نجات کے لئے سنہری حکمت عملی کیسے تلاش کی جاتی ہے۔ جب بہت سی ممکنہ گنجائشیں، امکانات اور راستے موجود ہوں تو سنہری رویوں کی تلاش ایک خوبصورت مہم جوئی سے کم نہیں، تاہم دوسروں کو کچھ خاص اقدامات پر قائل اور عمل پیرا کرنا ایک الگ داستان ہے۔ ڈاکٹر ویوٹ نے ایک سنہری قدم یعنی ’’محفو ظ جنسی اختلاط‘‘ تلاش کر لیا تو کام ختم نہیں ہوا بلکہ ایک پنڈورا باکس کھل گیا۔ ان کا واسطہ عصمت فروش عورتوں اور جنسی عیاشی کے جنون میں مبتلا مردوں سے تھا۔ ’’تعلیم بالغاں‘‘ کا یہ پروگرام کافی پیچیدہ تھا، تاہم وہ یکسو اور ثابت قدم رہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ ڈاکٹر ویوٹ جیسے لیڈر کوئی لچک نہیں دکھاتے، وہ اس وقت تک کسی حکمت عملی پر بھروسہ نہیں کرتے جب تک کہ ان مخصوص قدموں کی نشان دہی نہیں کر لیتے جن پر نتائج کا انحصار ہوتا ہے۔ یہاں بنیادی ضرورت یہ جاننا ہے کہ صورت حال کو بدلنے کے لیے دراصل کرنا کیا ہے؟

جب تک ہم لفظ ’’روئیے‘‘ کے معنی نہیں سمجھتے، یہ نظریہ بے اثر رہے گا۔ میرے دوست شیخ اکرم اپنا وزن کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، انہوں نے پوتوں، پوتیوں کی باتیں سننے کے بعد اپنا وزن 50 پونڈ کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں بہت کچھ سننا پڑتا تھا۔ ’’دادا جی! آپ جہاں بھی جاتے ہیں آپ کا پیٹ آپ سے پہلے ہی وہاں پہنچ جاتا ہے۔ یا پھر اگر آپ ہارس رائیڈنگ کرنا چاہیں گے تو گھوڑا ہاتھ جوڑ دے گا۔‘‘ یا پھر ’’اگر آپ کسی پر بیٹھ جائیں تو اس کا جنازہ اٹھ جائے گا۔‘‘

مختصر مگر جامع تبصروں نے انہیں وزن کم کرنے کیلئے سوچ بچار پر آمادہ کیا۔ اکرم شیخ نے فیصلہ کیا کہ “ان کا جسم جتنی کیلوریز استعمال کرتا ہے وہ اس سے کم کھائیں گے۔‘‘ ان کی حکمت عملی معقول تھی، اس طرح وزن کم کیا جا سکتا ہے، تاہم جب تک کہ انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کرنا کیا ہے یہ موثر نہیں ہو سکتی۔ دراصل وہ عملی قدم کی بجائے حکمت عملی کا ذکر کر رہے تھے۔ شاید وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر وہ کچھ ایسا کر گزریں کہ جتنی کیلوریز کھائیں، اس سے زیادہ استعمال ہو جائیں تو وہ وزن کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بنیادی سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم تھا کہ انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے؟ نتائج، فیصلے اور حکمت عملی کو عملی اقدام کے ساتھ گڈ مڈ کر دینا کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں۔ جب ہم ناکام حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایسی مثالیں ضرور ملتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر پالیسی ساز عملی اقدام کے معاملے میں کنفیوژ رہتے ہیں۔

میں نے ایک سیمینار میں سنا کہ ٹین ایجرز سے بات منوانے کے لئے پہلے ان کے ساتھ تعلقات کو اچھا بنانا ضروری ہے۔ دراصل یہ مشورہ نہیں بلکہ یہ مطالبہ تھا؟ دراصل صلاح دینے والا آپ کو یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہے، “کچھ کرو، مجھے نہیں پتا کہ وہ کیا ہے لیکن پھر بھی تم کچھ ایسا کرو کہ جس کا نتیجہ آپ کے اور ٹین ایجرز کے درمیان اچھے تعلقات کی صورت میں نکلے۔‘‘

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments