یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

3

اول اول ڈاکٹر ویوٹ کو بھی یہی مسئلہ پیش آیا۔ وہ روایت کے مطابق آگاہی کی مہم پر نکل پڑے، “سنو، سنو! ایک دہشتناک بیماری آ رہی ہے اور جلد ہی ہم میں سے ہر چوتھا آدمی اس کا شکار ہو جائے گا”۔ لوگ ڈر گئے لیکن یہ نہ سمجھ پائے کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے آخر کیا کرنا ہو گا؟ وہ عوام کو عملی اقدامات نہ بتا سکے کیونکہ وہ طے نہیں کئے گئے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیماری پھیلتی چلی گئی۔ دوسری طرف ایڈز کے بارے میں گلی کی ہر نکڑ سے ملنے والی ناگوار اور جسم پر کپکپی طاری کر دینے والی معلومات نے شہریوں کو پریشان اور خوفزدہ کر دیا۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، ہمارے ہر ایکشن کے نتائج ہوتے ہیں، اچھے یا برے، اس لیے کچھ کرنے سے پہلے محتاط ہونا چاہیے۔ جب کسی مسئلے کا سامنا ہو تو پہلے کچھ مفید اقدامات کی نشاندہی کریں پھر خود کو اور دوسرے کو شوق دلانے اور متحرک کرنے کا بیڑا اٹھائیں۔

جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں اسے رویہ کہا جا سکتا ہے۔ روئیے نظر آتے ہیں اور انہیں ناپا اور تولا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں یاد دلاتا رہوں گا کہ روئیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ محض چند رویوں کو دیکھ کر ماہرین نفسیات پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ کسی شادی شدہ جوڑے میں علیحدگی ہو گی یا نہیں؟ اہم بات یہ ہے کہ اگر شادی شدہ جوڑوں کو چند خاص رویے اختیار کرنے میں مدد دی جائے تو ان کے درمیان طلاق یا ناچاقی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ ان کی دلچسپیاں یکساں ہیں یا مختلف؟ یا وہ کن حالات میں پلے بڑھے؟ یا وہ ایک دوسرے کے ساتھ کیا کیا ’’ظلم و ستم‘‘ کرتے ہیں؟ آپ صرف یہ دیکھیے کہ وہ تبادلہ خیالات کیسے کرتے ہیں؟ اگر ماہرین جوڑے کو پندرہ منٹ تک بحث کرتے ہوئے دیکھ لیں تو وہ %90 درست پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ اگلے پانچ برسوں میں ان میں علیحدگی ہو گی یا پھر ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہوں گے؟ ان پندرہ منٹوں میں ماہرین جوڑے کو کسی اختلافی موضوع پر گفتگو کی دعوت دیں گے، اگر بحث کے دوران الزام تراشی، گرما گرمی، ایک دوسرے کی بات کاٹنا اور پھر پسپائی اور خاموشی اختیار کر لینا شامل ہے تو اس جوڑے کا مستقبل تاریک ہے، اس کے برعکس اگر میاں بیوی باہمی احترام کے ساتھ بات شروع کرتے ہیں اور جذباتی طوفان کے آگے بند باندھے رکھتے ہیں، چاہے اس کے لیے گفتگو میں وقفہ ہی کیوں نہ دینا پڑے تو اس جوڑے کا مستقبل تابناک ہو سکتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان عزت و احترام سے گفت و شنید کو ہم سنہری روئیے کی نادر مثال کہیں گے۔

پیچیدہ اور پرانے مسائل حل کرنے میں صرف چند سنہری رویے نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں، اس کا جیتا جاگتا ثبوت میں نے ڈاکٹر میمی سلبرٹ کے ہاں دیکھا۔ اس کیلئے میں خاص طور پر سان فرانسسکو کیلی فورنیا جیسے دور دراز مقام پر گیا۔ میں نے ڈاکٹر صاحبہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے کام کرتے دیکھا، وہ حیرت انگیز قابلیت کی مالک ہیں اور ڈیلانسی فاؤنڈیشن چلاتی ہیں۔ ان کے بقول جو لوگ کچھ بھی کرنا نہیں جانتے اور جاہل مطلق ہیں تو ان پر کلام نرم و نازک بے اثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو آپ کا واسطہ ایسے لوگوں کے ساتھ پڑتا ہے جنہیں سلام کریں تو جواب دینا گوارا نہیں کرتے، ان پر آپ کی چکنی چپڑی باتیں کوئی اثر نہیں کرتیں۔ ان کیلئے دو تین اہم روئیے تجویز کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ڈھیروں کام سونپ دیں گے تو وہ ناکام ہو جائیں گے۔ آپ کسی کی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو آپ کو اقدار، عقائد، اکتا دینے والی نصیحتوں اور جذباتی اپیلوں کی بجائے فقط دو تین سنہری رویوں کی ضرورت ہو گی۔ ایک دفعہ آپ سنہری رویوں کی نشاندہی کر لیں تو پھر کمر کس لیں اور انہی پر ہی توجہ رکھیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments