یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

4

واضح رہے کہ سنہری روئیے چند ایک ہی ہوتے ہیں درجنوں نہیں۔ آپ ایک وقت میں ایک درجن چیزیں بدلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے کامیابی نہیں ملے گی۔ ڈاکٹر میمی سلبرٹ نے ایسے سنہری روئیوں کا پتہ چلا لیا جن سے منشیات کے عادی اور جرائم پیشہ افراد کو مہذب شہری بنانے میں مدد ملتی ہے۔ چودہ ہزار سے زائد ایسے ’’کلائنٹس‘‘ کے ساتھ کام کرنے کے بعد ڈاکٹر سلبرٹ قائل ہو گئیں کہ ان کے دریافت کردہ دو سنہری روئیے تیزی سے تبدیلی کا راستہ ہموار کرتے ہیں اور ان پر توجہ اور توانائی خرچ کرنے سے مثبت نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سلبرٹ نے مجھے بتایا کہ ہمارے ’’کلائنٹس‘‘ نے گلیوں سے دو تباہ کن روئیے سیکھے ہوتے ہیں۔
اول: صرف اپنا خیال رکھو اور
دوئم: کسی پیٹی بند بھائی پر نکتہ چینی نہ کرو۔

اگر آپ یہ دو تباہ کن روئیے بدل دیں تو پھر آپ ہر چیز تبدیل کر سکتے ہیں۔ ڈیلانسی میں رہنے والوں کو مسائل کا سامنا کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہم کینہ پرور، بھٹکے ہوئے اور نشے کے شکنجے میں جکڑے ہوئے افراد کو اصلاح کی راہ پر ڈالتے ہیں اور پھر وہ سب مل جل کر مہذب زندگی گزارنا سیکھتے ہیں۔ اگر چہ ان حالات میں اپنے آپ کو پرسکون رکھنا ایک دشوار کام ہے، تاہم اسٹریٹ کلچر بدلنا ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سلبرٹ وہاں رہنے والوں کو گفتگو کرنے میں مدد دیتی ہیں جس سے بالآخر اسٹریٹ کلچر ختم ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ہر شخص کسی دوسرے کی کامیابی کی ذمہ داری لے اور کسی بھی خلاف ورزی پر دوسرے کا محاسبہ کرے۔ ہر شخص حق سچ کی آواز بلند کرے۔ ان نظریات میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے ہر نشئی کو ذمہ دار بنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً ڈیلانسی میں آنے کے بعد سات روز کے اندر آپ سے پہلے آنے والا کوئی شخص آپ کو اپنی نگہداشت اور نگرانی میں 8 لے لے گا اور آپ کو سکھائے گا کہ کیفے میں میز کیسے لگاتے ہیں؟ ایک ہفتہ بعد جب کوئی نیا فرد ادارے میں آتا ہے تو آپ اس کے انچارج بنا دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ آپ کا حال نہیں پوچھتے بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کا ’’عملہ ‘‘ کیسا کام کر رہا ہے؟ اس کے بعد یہاں رہنے والے ان لوگوں سے بات کرنا سیکھتے ہیں جو قواعد توڑتے ہیں، بے کار وقت گزارتے ہیں جارحانہ گفتگو یا کسی اور لحاظ سے غلط برتاؤ کرتے ہیں۔ نشئی افراد کیلئے اس طرح کے مسائل پر بات کرنا راکٹ سائنس کا درجہ رکھتاہے۔ اس کے باوجود ڈاکٹر سلبرٹ ادارے میں مقیم لوگوں کو ان کی اقدار، طرز عمل حتیٰ کہ دل بدلنے میں مدد کرتی ہیں مگر یاد رہے کہ وہ ایسا صرف انہی دو سنہرے قدموں پر چلتے ہوئے کرتی ہیں۔

میں نے ڈاکٹر سلبرٹ اور ڈاکٹر ویوٹ سمیت جتنی بھی بااثر شخصیات کا اب تک جائزہ لیا ہے، وہ سنہری اقدامات کی تلاش دانائی اور دور اندیشی سے کرتے ہیں، یہ انداز ان کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے۔ وہ مسئلے کے حل کے لیے فضول بھاگ دوڑ کرتے ہیں اور نہ ہی ذہن میں آنے والی ہر حکمت عملی پر اچھل پڑتے ہیں، وہ ایسے سنہری اقدامات تلاش کرتے ہیں جو مطلوبہ نتائج دے سکیں۔ محققین بہت سے رویوں کا پتہ لگا چکے ہیں جو پیچیدہ اور تکلیف دہ مسائل میں مثالی کامیابی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے روئیے جن کے ذریعے وزن کم کیا جا سکتا ہے، کارکردگی بڑھائی جا سکتی ہے، لوڈ شیڈنگ کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے اور دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ آپ کو کیسے پتہ چلے کہ کسی نے کہیں وہ انتہائی مفید طریقہ دریافت کر رکھا ہے جو آپ کے مسئلے کو تیزی سے حل کر سکتا ہے؟

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments