یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

5

سنہری رویوں کی تلاش کیسے کی جاتی ہے؟ میری یہ جستجو مجھے سالٹ لیک سٹی امریکہ لے گئی، جہاں میری ملاقات ڈاکٹر ایتھناریڈ سے ہوئی۔ طلباء کو تعلیم میں کامیابی دلانے کیلئے انہوں نے جو تکنیکس دریافت کی وہ ہمارے لئے راہنمائی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ڈاکٹر ریڈ اساتذہ کو سکھا رہی تھیں کہ طلباء میں مطالعے کی عادت کو کیسے پختہ کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے اساتذہ سے پوچھا “آپ جس طرح پڑھا رہے ہیں کیا وہی بہترین طریقہ ہے؟ جواب ملا کہ وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کی بات معقول تھی کیونکہ کسی نے بھی مروجہ طریقوں کے نتائج کو پرکھا نہیں تھا۔

ڈاکٹر ریڈ نے نتائج جانچنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک مقامی سکول فون کر کے مدد چاہی۔انہیں بتایا گیا کہ اسکول میں گزشتہ بیس سال کے ایسے اعدادو شمار موجود ہیں جن کی بنیاد پر پیشن گوئی کی گئی تھی کہ طلباء آنے والے برسوں میں کیسی کارکردگی دکھائیں گے؟ یہ سُن کر ڈاکٹر ریڈ ہکابکا رہ گئیں۔ یہ صورت حال المناک تھی کیونکہ بچوں کو ایک خاص لیبل کے تحت اپنے کیرئیر میں آگے بڑھنا ہوتا تھا اور ان کی مدد کا کوئی موثر نظام موجود نہ تھا۔
ڈاکٹر ریڈ نے اس صورت حال کو بہتر بنانے کا تہیہ کر لیا۔

وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آیا کچھ اساتذہ طلباء کے بارے میں بری پیش گوئی غلط ثابت کرنے کا چارہ کرتے تھے؟ ہونہار طلباء اور مایوس کن نتائج دینے والوں کے درمیان اصل فرق کیا تھا؟

یہی وہ موقع تھا جب ڈاکٹر ریڈ کی دانش مندی اور مستقل مزاجی کام آئی۔ انہوں نے اعدادو شمار پر توجہ دی اور ایسے اساتذہ کا پتہ چلا لیا جو طلباء کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائیں اور پیش گوئی کو غلط ثابت کیا۔ انہوں نے ایسے اساتذہ کا بھی پتا چلایا کہ جن کے طلباء نے پیش گوئی کے برعکس پست کارکردگی دکھائی۔ ڈاکٹر ریڈ نے ایسے ایک درجن اساتذہ کو اکٹھا کیا جن کے طلباء نے توقع سے بڑھ کر نتائج دیے، تاہم وہ اپنی کامیابی کی وجہ نہیں جانتے تھے۔ پھر انہوں نے ایسے اساتذہ سے بات کی جن کے شاگردوں نے توقع سے برے نتائج دیے تھے، تاہم وہ بھی اس کا سبب نہیں جانتے تھے۔

ڈاکٹر ریڈ نے اگلے پانچ سال ایسے طریقوں پر غور کیا جو کچھ اساتذہ کو ممتاز بناتے تھے، یوں انہوں نے سنہری رویوں کو پہچاننے کا مرحلہ طے کیا۔ انہوں نے یہ بھی پتا چلا لیا کہ یہ سنہری روئیے ہر رنگ، نسل، علاقے، مذہب اور کلچر میں یکساں کامیاب تھے۔ ان میں سے ایک اہم رویہ سزا کی بجائے تعریف پر بھروسہ کرنا ہے۔ ممتاز اساتذہ کلاس روم میں محنت، مستقل مزاجی اور مثبت انداز اپناتے ہیں جبکہ بری کارکردگی دکھانے والے اساتذہ محنت سے گھبراتے ہیں اور طلباء سوال کریں تو چڑتے اور بڑبڑاتے ہیں ’’کیا میں نے یہ چیز دو منٹ پہلے تمہیں نہیں بتائی؟” یہاں نتائج کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ حوصلہ افزائی اور تعریف سے سیکھنے کا عمل پھلتا پھولتا ہے۔

ممتاز اساتذہ کاایک اور اہم رویہ پڑھانا اور پوچھنا اور پھر پڑھانا اور پھر پوچھنا ہے۔ دوران تدریس وہ طلباء کو سوال کرنے کا موقع دیتے ہیں، یوں وہ طلباء کو سیکھنے کے عمل میں شامل کر لیتے ہیں، اس دوران وہ تیزی سے طلباء کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، پھر جہاں ضرورت ہوتی ہے سمجھانے کیلئے تصحیح و تشریح بھی کرتے ہیں۔ پست کارکردگی دکھانے والے اساتذہ اُلٹے روئیے اپناتے ہیں اور ہمیشہ وقت سے پیچھے چلتے ہیں۔ وہ نصاب کا بیشتر حصہ طلباء پر ہی چھوڑ دیتے ہیں، اس طرح کوئی بھی ان کی اصلاح نہیں کرتا اور طلباء غلطیاں دہراتے اور پکاتے رہتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments