یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

6

یہ سب کچھ جاننے کیلئے ڈاکٹر ریڈ کو ہزاروں صفحات کی چھان پھٹک کرنا پڑی اور تیس سال لگے۔ اس سارے عرصے میں ڈاکٹر ریڈ ان سب اساتذہ کو پڑھاتے ہوئے دیکھتیں اور مختلف رویوں کے بارے میں سیکھتیں، اپنی معلومات میں اضافہ کرتیں، اعدادو شمار تیار کرتیں اورآخر کار ان اساتذہ کی نشان دہی کرتیں جو کسی طالب علم کے ’’نکمہ‘‘ ہونے بارے پیش گوئی کو جھٹلاتے تھے۔ پھر وہ ان اساتذہ کی نشان دہی بھی کرتیں جو لائق طلباء کی لٹیا ڈبو دیتے تھے۔ ڈاکٹر ریڈ نے سنہری رویوں کو رائج کر کے کئی ریاستوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔ آخر کار ڈاکٹر ریڈ نے ان مخصوص رویوں کو سائنسی یقین کے ساتھ جان لیا جو بہترین نتائج کے حامل ہیں۔

خوشخبری یہ ہے کہ ایسی تحقیق کسی بھی ادارے میں کی جا سکتی ہے۔ میں خود بھی اثرا ندازی کا ادنیٰ طالب علم ہوں اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل افراد کو کام کرتے دیکھتا ہوں اور پھر ان کا موازنہ اسی ادارے میں کام کرنے والے ایسے افراد سے کرتا ہوں جو اچھے نظر آتے ہیں مگر کام میں زیادہ اچھے نہیں ہوتے۔ جب میں بہترین افراد کا دوسروں سے موازنہ کرتا ہوں تو مجھے ان بے مثال اور طاقت ور رویوں کا پتا چلتا ہے جو کامیابی کا سبب بنتے ہیں۔ میں سرسری انداز میں اس تلاش کو نپٹاتا ہوں اور نہ ہی کسی وقتی کامیابی کو اہمیت دیتا ہوں۔ میں مسلسل بہترین کارکردگی دکھانے والے لوگوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتا اور پتا چلاتا ہوں کہ ان کی اعلیٰ کارکردگی کے پس پردہ محرکات کیا ہیں؟

سنہری رویوں کی اصل آزمائش تب ہوتی ہے جب ہم انہیں کسوٹی پر پرکھتے ہیں، پھر لوگوں کو انہیں آزمانے کا موقع دیتے ہیں اور آخر میں نتائج اکٹھے کرتے ہیں۔ سنہری رویوں کی نشانی یہ ہے کہ ان میں سے بڑے نتائج نکلتے ہیں جب کہ عام روئیے معمولی فرق پیدا کرتے ہیں۔ تاہم سنہری رویوں کو پرکھتے ہوئے کڑی نگاہ رکھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی سنہری رویوں کا دعویدار ہو اور اس نے سنہری رویوں کا موازنہ عام رویوں کے ساتھ نہ کیا ہو، آزمایا نہ ہو، ٹھوس نتائج نہ نکالے ہوں، تو پھر ایسے لوگوں کے ساتھ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ صرف بڑے بڑے دعوے، سب بیکار کی باتیں ہیں۔

اگر آپ کھوج لگائیں تو پتا چلا لیں گے کہ ماہرین پہلے ہی کچھ سنہری رویے دریافت کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
ہمارے ارد گرد ہمیشہ کچھ لوگ ذرا ہٹ کر کامیابی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ذرا وکھری ٹائپ کے ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی سنہرے روئیے کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر ہم وہ سب کچھ دیکھ لیں جو عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے تو یہ ایک آزمودہ طریقہ ہے جو سنہری رویوں کی تلاش میں ہماری نمایاں مدد کر سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کا پہلا نظارہ میں نے افریقہ میں کیا جہاں گنی ورم نے تباہ کاری پھیلا رکھی تھی۔ شکر ہے یہ تباہ کن کیڑا جمی کارٹر کی مہم جوئی کے باعث ختم ہو چکا ہے۔ کارٹر سنٹر ڈاکٹر جان ہوپ کن کو ڈاکٹر ریڈ جیسی سہولت حاصل نہ تھی۔ کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا، تاہم ڈاکٹر جان کیلئے ان سنہری رویوں کا پتا چلانا ضروری تھا جو اس بیماری کا قلع قمع کر سکیں۔ انہیں کوئی ایسی حکمت عملی تلاش کرنا تھی جو پہلے ہی آزمودہ اور کارآمد ہو۔

ان سنہری رویوں کا پتا چلانے کیلئے ایسے لوگوں کی تلاش ضروری تھی جنہیں گنی ورم کی بیماری ہونا چاہیے تھی پر وہ اس سے بچے ہوئے تھے۔ اس طریقہ کار کو مثبت انحراف کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مثبت انحراف کی مدد سے سنہرے رویوں کی پہچان یوں کی جا سکتی ہے۔
اول: آپ اس ادارے، خاندان یا معاشرے میں گھس جائیں جہاں آپ تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
دوئم: ان لوگوں کا کھوج لگائیں جنہیں اس مسئلے میں پھنسا ہونا چاہیے تھا لیکن وہ بچے ہوئے ہیں۔ سوئم: ان وکھری ٹائپ کے لوگوں کی کامیابی کے کے پس پردہ اقدام کو پہچان لیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments