یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

7

کارٹر سنٹر کے ارکان نے گنی ورم کی روک تھام کے لیے یہی طریقہ کار اختیار کیا۔ وہ افریقہ کے دیہی علاقے میں پہنچے اور ان دیہاتوں کو تلاش کیا جہاں گنی ورم کی بیماری ہونی چاہیئے تھی پر نہ تھی، حالانکہ سب دیہاتوں میں لوگ ایک جیسا پانی پیتے تھے۔

جلد ہی ماہرین کو پتا چل گیا کہ ہو نہ ہو کچھ نہ کچھ گڑ بڑ پانی لانے اور ذخیرہ کرنے میں ہے۔ جس گاؤں میں گنی ورم بیماری نہیں تھی وہاں کی عورتیں بھی ویسے ہی جوہڑ سے پانی لاتی تھیں، مگر وہ گھر آ کر اسے ایک اور برتن میں چھان کر ڈالتیں، اس مقصد کے لئے وہ اپنا فراک استعمال کرتی تھیں۔ چھاننے کے عمل سے لاروا پانی سے باہر نکل جاتا اور بیماری سے تحفظ ملتا۔ واہ! کیا بات ہے، یہی تھا وہ سنہری رویہ، جو انہوں نے اپنے طور پر ایجاد کر لیا تھا۔ اس طریقے سے دوسرے دیہاتوں کیلئے راہنما سنہری رویہ سامنے آ گیا۔ پھر ایک ایسے فلٹر کا اہتمام کیا گیا جو جدید تھا اور فراک کا بہترین نعم البدل تھا، یوں کایا پلٹ گئی اور گنی ورم کا صفایا ہو گیا۔

آئیے ایک اور معاملے پر نظر ڈالتے ہیں۔ جب ہم علاج معالجے کیلئے کسی ہسپتال جائیں تو بے احتیاطی، جدید طبی سہولتوں کی عدم دستیابی، اور عملے کی بے حسی سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ ناخوشگوار تجربہ عام ہے۔ تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہو تا ہے کہ علاج کا معیار اچھا ہو تب بھی مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کا علاج توجہ اور اعلٰی معیار کے ساتھ نہیں کیا جا رہا۔ جب لاہور کے ایک مشہور ہسپتال کو ایسے ہی مسائل کا سامنا ہوا تو انہوں نے مجھ سے مدد چاہی۔ میں نے ہسپتال کے سربراہ سے کہا کہ آپ سب کو کچھ ایسا کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کی اعلٰی کارکردگی شبنم کے قطروں کی طرح پھولوں کی پتیوں پر نظر آنے لگے گی۔ ہسپتال میں کام کرنے والے 400 لوگ جب مل کر چند سنہری روئیے اپنائیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا، کلائنٹس آپ کی بہترین خدمات کو سراہنے لگیں گے۔

انہوں نے کہا ’’کیا‘‘ اور ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ جواب کی تلاش کے لیے چھ بہترین ملازمین پر مشتمل دو ٹیمیں بنائی گئیں، ہر رکن ہسپتال کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ انہیں “وکھری ٹائپ کے لوگوں” کا پتہ چلانے کیلئے کہا گیا جنہیں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں مہارت تھی۔ ان لوگوں کا پتا چلانے کیلئے الگ سے بندوبست کیا گیا جن کی کارکردگی ریکارڈ کے مطابق بے داغ تھی لیکن مریض اور اہل خانہ ان کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے تھے۔ دونوں ٹیموں کو ادارے کے نظام، مشینوں، تنخواہ یا ان کے لاؤنج میں بچھے ہوئے قالین سے ہٹ کر کچھ ایسے روئیے تلاش کرنے کیلئے کہا گیا جو قابل قبول، قابل عمل اور سنہری ہوں۔ یاد رہے کہ سنہری روئیے سونا اگلتے ہیں اور خوشحالی لاتے ہیں۔

دونوں ٹیموں نے سینکڑوں مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کیں اپنے رفقاء کار کے نظریات معلوم کیے، ہسپتال کے ریکارڈ کو کھنگالہ ویب سائٹس سرچ کیں اور دوسرے ہسپتالوں سے موازنہ کیا۔ دراصل وہ جاننا چاہتے تھے کہ جن ڈاکٹروں کا ڈنکا بجتا ہے وہ ایسا کیا کرتے ہیں جو انہیں جلد ہی دوسروں سے ممتاز بنا دیتا ہے۔ بالآخر ان ٹیموں نے 5 ایسے رویوں کا پتا چلا لیا جو مریضوں کے لیے شفاء سے بڑھ کر اطمینان کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے ان پانچ رویوں کی نشان دہی کی۔
اول: مسکراہٹ
دوئم: آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا
سوئم: اپنا تعارف کرانا
چہارم: لوگوں کو بتانا کہ وہ ان کے لئے کیا کرنے والے ہیں اور
پنجم: یہ کہنا کہ آپ اور کیا چاہیں گے؟
ہے نہ سونے پر سہاگہ والی بات۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments