یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

8

بعد ازاں ایگزیکٹیوز نے ان رویوں کو باقاعدہ اور موثر بنانے کے لئے مضبوط حکمت عملی بنائی، جس کے تحت، ادارے کے چار سو ملازمین نے ان پانچ سنہری رویوں کو پریکٹس کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی کلائنٹس نے معیاری علاج کو کھل کر تسلیم کرنا شروع کر دیا۔ علاج کا معیار حسب سابق تھا لیکن ادراک نے احساس کو خوبصورت بنا دیا۔ ایک سال کے اندر ہسپتال نیک نامی اور کارکردگی کا حامل مثالی ادارہ بن گیا۔

یہاں میں سنہری رویوں سے منسلک ایک اور اصول بیان کرنا چاہوں گا۔ لوگ سنہری رویوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش میں ہر صورت غلطیاں کریں گے۔ ان کے ازالے کیلئے تیر بہدف منصوبہ بندی ضروری ہے۔

میں واپس گنی ورم پروگرام کی طرف آنا چاہوں گا جہاں دیہاتیوں نے لاروے کو پانی کے ساتھ جسم میں داخل ہونے سے روکنے کا چارہ کیا، وہاں انہوں نے ایک حکمت عملی بھی وضع کی جو کہ ممکنہ ناکامی کا سدباب کرنے کیلئے تھی۔ یعنی اگر کسی بندے کے جسم میں کیڑے کی موجودگی کا پتا چلے تو پھر کیا کیا جائے؟

دیہات کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ جب گنی ورم کسی شخص کے جسم سے نکلنا شروع ہو جائے تو وہ بیماری پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔ اس پر طرہ کہ وہ ایک ایسی درد اور جلن کا سامنا کرتا ہے کہ متاثرہ حصے کو پانی میں ڈبونے سے ہی چین ملتا ہے۔ مجبوراً وہ جوہڑ کے پانی میں بیٹھ جاتا ہے اور آنے والے پورے سال کے لئے لاروے پانی کو آلودہ رکھتے ہیں۔ کارٹر سنٹر نے پتہ چلایا کہ”وکھری ٹائپ کے دیہات” بیماری کے منحوس چکر کو توڑنے کے لیے دو اقدام کرتے ہیں۔
اول: یہ کہ جب بھی کوئی اس بیماری سے متاثر ہو تو پڑوسی اس بارے میں لوگوں سے بات کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے وہ دیہاتی شرمندگی کی وجہ سے چپ سادھ لیتا ہے۔ جب پڑوسی اس بارے میں بات کرتے ہیں’ یعنی ’’سول سوسائٹی‘‘ اس کی ذمہ داری لیتی ہے تو پورے گاؤں کو کسی ایک کی ’’غلطی‘‘ کا خمیازہ بھگتنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
دوئم: متاثرہ شخص کے جسم سے اس کیڑے کے نکلنے میں کئی ہفتے لگتے ہیں، اس دوران سب گاؤں والوں کو یہ امر یقینی بنانا ہوتا ہے کہ وہ شخص کسی صورت تالاب کے قریب نہ جا پھٹکے۔ غلطی کے ازالے اور تلافی کے لئے دوسرا رویہ کس قدر کارآمد ہے آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔

جب گاؤں کا ہر فرد ان دو رویوں یعنی “بیماری کے بارے میں بات کہہ دینا” اور “متاثرہ شخص کو پانی کے ذخیرے سے دور رکھنا” کو صرف ایک سال کے لیے عمل پیرا رہتا ہے تو کوئی نیا لاروا پانی میں داخل نہ ہوتا، گنی ورم اس علاقے سے چلا جاتا اور یہ بیماری ناپید ہو جاتی۔ اسی طرح کارٹر سینٹر نے پندرہ ملکوں میں گنی ورم کا خاتمہ کر دیا۔ ایک موثر حکمت عملی کی وجہ سے پوری دنیا میں یہ مرض صرف 1% رہ گیا ہے۔ جن دو رویوں پر توجہ دی گئی وہ آخر کار سنہری ثابت ہوئے۔

“مثبت انحراف” کا پتہ چلانے کے لیے انہی طریقوں کا اطلاق تقریباََ ہر معاملے میں کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ایک بڑے مینو فیکچرنگ ادارے نے مجھے ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی۔ بعد میں کمپنی نے بتایا کہ ٹریننگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ملازمین کے لئے پروگرام سمجھنا مشکل تھا۔ انہیں پروگرام سکھانے میں کئی ہفتے لگ گئے۔ تاہم زیادہ تر ملازمین کورے ہی رہے اور انہیں نئے طریقے اختیار کرتے ہوئے کسی نے نہ دیکھا۔ اس ناکامی کا پس منظر جاننے کیلئے میں نے اپنے کچھ ساتھیوں سے مل کر کمپنی میں “وکھری ٹائپ کے لوگوں” کی تلاش شروع کی۔ میری توجہ ان دو اہم سوالوں پر تھی۔ ادارے میں سے کتنے لوگوں نے ان طریقوں کو بروئے کار لانے میں کامیابی حاصل کی؟ اگر ایسا ہوا تو باقی لوگوں کی راہ میں کیا مشکلات حائل تھیں؟ ہمیں ان چار لوگوں کو ڈھونڈنے میں زیادہ دیر نہیں لگی جنہوں نے اس ٹریننگ کے نتیجے میں بے پناہ کامیابیاں حاصل کی تھیں جب کہ بیشتر لوگوں نے کوشش ہی نہیں کی یا پھر انہوں نے چند ابتدائی کوششوں کے بعد اس پروگرام کو ترک کر دیا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments