یاد رکھئیے: روئیے بھی سونے، چاندی اور کانسی کی طرح ہوتے ہیں

9

جب ہم نے ’’ناکام‘‘ لوگ سے بات چیت کی تو دلچسپ انکشافات ہوئے۔
اول: جب انہوں نے نئے طریقوں کو آزمانے کی بات کی تو ان کے سپر وائزر نے عموماََ انہیں ڈانٹ دیا۔
دوئم: ان کی ٹیم کے جو ارکان کوتاہی کرتے تھے انہیں پوچھنے والا کوئی نہ تھا، ان پر ہاتھ ڈالنے میں خطرہ تھا۔ وہ ٹریننگ پروگرام کے ناقص ہونے کی بات کرتے تھے اور
سوئم: انتظامی ڈھانچہ خود بہتری کی راہ میں حائل تھا اور لوگ بے بس تھے۔

دوسری طرف کامیاب لوگ ہر پہلو سے مختلف تھے۔ وہ رکاوٹ کی صورت میں آگے بڑھ کر بات کرتے تھے جبکہ ناکام رہنے والے بات کرنے سے کتراتے تھے۔ جب سپروائزر رکاوٹ پیدا کرتا تو یہ لوگ پرجوش ہو کر لیکن احتیاط سے چیلنج کرتے تھے۔ وہ اپنے ان ساتھیوں سے بے لاگ گفتگو کے عادی تھے جو کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے تھے۔ انہوں نے حساس گفتگو کرنا سیکھ لیا تھا۔ وہ سنئیر مینجرز کے ساتھ بھی بات کر لیتے تھے۔ ناکام رہنے والے یہ ہنر سیکھنے کی بجائے چپ رہتے تھے یا پھر کج بحثی اور طعنہ زنی کرتے۔

ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ان لوگوں کی کامیابی کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے ٹریننگ میں مہارت حاصل کی تھی یا انہیں اتھارٹیز کی پشت پناہی حاصل تھی بلکہ وہ ایسا اس لئے کر پائے کہ ان میں مشکل موقعوں پر مشکل لوگوں سے بات کرنے کی صلاحیت قدرتی طور پر موجود تھی۔

“مثبت انحراف” کے بارے میں اچھی خبر یہ ہے کہ کوئی بھی چاہے تو ضرورت پڑنے پر ان اہم رویوں کا پتا چلا سکتا ہے۔ بس دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سارا سامان تو ہمارے پاس ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ آپ چاہے کسی سوسائٹی،ادارے یا معاشرے کو بدلنا بیڑا اٹھائیں، آغاز میں مثبت انحراف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یعنی ان لوگوں کا پتا چلائیں جنہیں اس ’’مسئلے‘‘ میں پھنسے ہونا چاہیے تھا پر بچ نکلے۔ پھر ان وکھری ٹائپ کے لوگوں کے انوکھے رویوں کا پتہ چلائیں جو انہیں استثنیٰ دیتے ہیں۔ جب آپ “مثبت انحراف” کی تکنیکوں کا اطلاق خود پر کریں تو اپنا موازنہ اپنے ساتھ کریں۔ اس وقت کے بارے میں پھر سے سوچیں جب آپ کامیاب تھے، اس چیز کی نشان دہی کریں جو آپ نے کی اور کامیابی کا باعث بنی۔ آخر میں ان رویوں کی نشان دہی بھی کریں جن سے آپ اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرتے رہے۔

تحقیق کرنے والے اعلی کارکردگی اور ادنیٰ کارکردگی کا موازنہ کرتے ہیں، مشاہدے سے رویوں کو مرتب کرتے ہیں، ان کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور آخر میں وہ اپنی اعلٰی دماغی صلاحیتوں کی مدد سے طے کرتے ہیں کہ کس وجہ سے کیا ہوتا ہے؟ یہاں ایک خطرہ بھی ہے۔ کسی ایک ذہن کو حتمی نتائج اخذ کرنے کی اجازت دینا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ کوئی شخص آسانی سے بوگس نتائج اخذ کر سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں سکالرز اس وقت تک کامیاب چیزوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، جب تک کہ انہیں پتہ نہیں چل جاتا کہ آخر بہترین کارکردگی موازنے میں کیسے مختلف ہے؟ آخر کامیابی کی وجہ کیا ہے؟

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments