نشئی جادوگر ہوتے ہیں!

3

جب خالد نذیر کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا تواس نے یوں ظاہر کیا جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ والدین اور بہن بھائیوں کو بتایا کہ یہ تو بند گلی تھی، ترقی کا کوئی امکان نہیں تھا اور یہ بھی کہ وہ تو پہلے ہی عاجز آ چکا تھا۔ اس کا کہنا تھا “سچ پوچھیں توانہوں نے نوکری سے فارغ کر کے مجھ پر احسان کیا ہے کیونکہ اب میں آزاد ہوں”۔ اس کا سرد مہری اور لاپرواہی پر مبنی رویہ دیکھ کر اہل خانہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہیں؟ جب اس کی بیوی نے شراب کو نوکری سے چھٹی کا ذمہ دار قرار دیااس نے اپنی توپوں کا رخ بیوی کی طرف موڑ دیا اور کہا، ’’سارے فساد کی جڑ یہی عورت ہے۔ اسکی چخ چخ، بے مروتی، کج بحثی، بے اطمینانی اب میرے لیے قابل برداشت نہیں‘‘۔ پھر وہ پرانے قصے چھیڑنے لگا اور اس کے میکے کی برائیاں شروع کر دیں، بیوی کو اپنی ہی پڑ گئی اوروہ سب کچھ بھول کر اپنا دفاع کرنی لگی۔ اصل بات اس دوران گول ہو گئی ۔

مے نوشی سے توجہ ہٹانے کے لیے بلانوش سب کچھ جائز سمجھتے ہیں۔ خصوصاً ایک نشئی اچھی طرح جانتا ہے کہ حملہ آور ہونا ہی بہترین دفاع ہے۔ ایک اور طریقہ جو مریض لوگوں کی آنکھو ں میں دھول جھونکنے کے لئے استعمال کرتے ہیں وہ ہے اچانک کوئی انوکھی حرکت کر دکھانا۔

شہزاد نامی ایک بیٹا نشے کے گورکھ دھندے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنی ماں کی سالگرہ میں شامل نہ ہوا اور اگلی صبح آ کر ماں کے آگے پیچھے پھرنے لگا۔ پھولوں کا گلدستہ دے کر تو اس نے ماں کو حیران کر دیا اور کہنے لگا، ’’میں چاہتا تھا کہ سالگرہ میں بس ہم دونوں ہوں اور کوئی نہیں۔ اگر میں کل شام پارٹی میں آتا تو حسب معمول سب نے ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ جانا تھا‘‘۔ اس نے ماں کے پاس بیٹھ کر مزے سے ناشتہ کیا، کافی پی، کچھ دیر ماں کو ہنساتا رہا اور پھر یہ جا وہ جا۔ ماں خوشی سے پھولے نہیں سمائی۔ بعد میں جب بہن بھائیوں نے اس پر تنقید کی تو ماں نے اس کا بھرپور دفاع کیا اور کہنے لگی ’’اگر تم سب لوگ پنجے جھاڑ کر اس بیچارے کے پیچھے نہ پڑو تو وہ گھر میں ہی رہے ، اسے در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے یہ میں ہی جانتی ہوں۔‘‘

جب کوئی بلانوش ایمانداری اور کھل کر بات کرنے کا انداز اختیار کرتا ہے تو یہ بھی ایک ڈھکوسلا ہوتا ہے۔ اہل خانہ شک کا فائدہ اسے ہی دینا چاہتے ہیں، اس طرح یہ ڈھکوسلا بھی کامیاب رہتا ہے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments