نشہ بھی کوئی زندگی ہے!

2

معاشرے میں دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ پینے پلانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کچھ ’’اصولوں‘‘ کی پاسداری کی جائے۔ اس نظریے کو ماننے والے شرابی اسے قرار دیتے ہیں جو کمزور ارادے کا مالک ہو، پیے تو رک نہ سکے اور اخلاقی ضابطے توڑے۔ یہ لوگ ’’کنٹرول‘‘ کو بہت اہم مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے آپ پر قابو رکھنے والے بلانوش نہیں بنتے۔

دوسرے نظریے کے حامل شراب پینا گناہ کی بات اور قابل گردن زنی سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں اچھے لوگ شراب نہیں پیتے اس لئے وہ شرابی بننے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ شراب پینا بذات خود علت ہے چاہے مےنوشی پر مبنی ہو یا بلانوشی پر۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شراب اور بدکاری میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور بے راہ روی کا شکار لوگ یہ لعنت خود اپنے آپ پر مسلط کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’جب لوگ اچھی زندگی گزارنے پرآمادہ ہو جاتے ہیں تو وہ شراب کی بیماری سے شفا پا لیتے ہیں۔ ‘‘

دونوں نظریات کے حامی طبقے بیماری کے نظریے کو سمجھ نہیں پاتے، ایک گروہ اسے کمزور قوت ارادی کا نتیجہ اور دوسرا مستی اور بے راہ روی سمجھتا ہے۔ دونوں مسئلے کی گہرائی کو نہیں سمجھتے اور توقع رکھتے ہیں کہ اگر بلانوش محض کچھ قوت ارادی کا مظاہرہ کریں تو صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ شراب کے رسیا اپنی بلانوشی پر قابو پانے کی بے حد کوشش کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کامیاب بھی رہتے ہیں، لیکن وہ مستقل اور قابل بھروسہ تبدیلی نہیں لا پاتے۔ بیماری کی بجائے کردار کی خرابی کا نظریہ ماننے والے یہ نہیں جانتے کہ شراب کی بیماری قوت ارادی کو بھی کھوکھلا اور دیمک زدہ کر دیتی ہے۔ محض قوت ارادی کے بل بوتے پر شراب سے دور رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جوں جوں بیماری آگے بڑھتی ہے تو پینے پر قابو رکھنا جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔ جو شراب پیتے ہیں لیکن مریض نہیں بنتے، اگرچہ احساس جاگنے پر اپنے طور طریقے بدل لیتے ہیں، تاہم شراب کے مریض مدد کے بغیر شفا نہیں پاتے۔ عام پینے والے اتنے مجبور نہیں ہوتے، وہ چاہیں تو پئیں چاہے تو نہ پئیں، ایسے لوگ فیصلہ کر لیں تو آسانی سے شراب چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر کچھ خاص قسم کے زیادہ پینے والے بھی کسی خاص وجہ سے شراب نوشی ترک کر سکتے ہیں یا سنبھال کر پینا شروع کر سکتے ہیں جیسے خرابی صحت، کسی کی محبت کے زیر اثر، ماحول بدل جانے سے یا پھر ڈاکٹر کی تنبیہ سے۔ تاہم ان کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ’’اصلی تے وڈے‘‘ شرابیوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ ضروری نہیں کہ وہ شروع میں ہی زیادہ پینے لگیں، لیکن پیتے پیتے ایک مرحلے پر وہ مچھلی کی طرح پینا شروع کر دیتے ہیں محض اس فرق کے ساتھ کہ مچھلی شراب نہیں پیتی! ایک وقت آ تا ہے کہ پھر وہ کنٹرول کھو دیتے ہیں اور رک نہیں سکتے۔ دیوداس بن جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے کیلئے بحالی کے موثر پروگرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

میرے ایک ڈاکٹر دوست اچھی طرح سمجھتے تھے کہ بلانوشی ان کی فیملی میں موروثی حیثیت رکھتی ہے، اکثر ان سے شراب کی بیماری پر بات ہوتی رہتی ہے۔ ان کے والدین اور دادا جی بَلا کے پینے والے تھے لیکن ان سب حقائق سے چشم پوشی برتتے ہوئے وہ پینے پلانے میں مگن رہتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے بتایا، ’’میں بالکل فکرمند نہیں، میں اپنی مےنوشی پر کڑی نگاہ رکھتا ہوں‘‘ انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا، ’’اگر مجھے کبھی خطرے کی جھلک دکھائی دی تو میں شراب پینا چھوڑ دوں گا۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’آپ کے خیال میں آپ کو خطرے کی کوئی ’’جھلک‘‘ کس شکل میں دکھائی دے گی اور آخر دوسرے لوگ اس ناگہانی آفت کو کیوں نہیں دیکھ پاتے؟‘‘ سچ تو یہ ہے کہ نشے کی بیماری میں ابتداء سے خود فریبی کا جال بننا شروع کر دیتی ہے۔ لہذا پینے والے اس بَلا کو آتے ہوئے دیکھ نہیں پاتے۔ شراب کی بیماری میں کلوروفارم جیسے زہریلے مادے خون میں گردش کرتے ہیں جن سے حواس خمسہ سست پسماندہ اور شکستہ ہو جاتے ہیں اور پھر وہ کیا کہتے ہیں کہ ’’ہم وہاں ہیں، جہاں سے ہم کو ہماری خبر نہیں آتی‘‘ کہ مصداق فکر مندی سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ شراب پینے سے خون میں زہریلے مادے بنتے ہیں لیکن 90 فیصد لوگوں میں یہ پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتے ہیں، تاہم 10% میں یہ جمع ہو کر دیر تک گردش کرتے ہیں۔ ان زہریلے مادوں کا شراب کی بیماری سے گہرا تعلق ہے، یہی شراب پینے جنون کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، قوت ارادی اس جنون کے سامنے ریت کی دیوار بن جاتی ہے۔ شراب کی بیماری ایک جسمانی معاملہ ہے جس کا تعلق جینز سے ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments