نشہ بھی کوئی زندگی ہے!

3

اپنے طرز زندگی میں شراب نوشی کو چننے والوں کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ بلانوش بنیں گے یا محض پینے پلانے کا مشغل کرتے رہیں گے۔ کچھ رہنما اصول بہرحال موجود ہیں۔ والدین میں سے ایک بلانوش ہو تو آدھے بچوں میں جینز منتقل ہو سکتی ہیں، اب یہ بچے شراب پئیں تو بلانوشی کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ حد میں رہ کر شراب پی سکیں گے نہ ہی بےحساب پی کر محفوظ رہ سکیں گے۔ یاد رہے کہ بلانوشی کے سارے قوانین ایڈکشن پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ تحفظ صرف شراب اور منشیات سے دور رہنے میں ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد موروثی خطرے کو نظرانداز کر کے شراب نوشی شروع کر دیتی ہے اوراس بیماری کے چنگل میں پھنس جاتی ہے۔ یہ لوگ خود کو قائل کرتے رہتے ہیں کہ جلد ہی شراب کی طلب اور مقدار پر قابو پا لیں گے۔ دس ہزار سال سے لو گ ایسے ہی خود کو قائل کر رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں خود کو قائل کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔

بلانوشی کی نشانیاں زیادہ تر قابل شناخت نہیں ہوتیں، خاص طور پر آغاز میں تو ماہرین بھی مرض کی تشخیص میں مشکل حسوس کرتے ہیں۔ بلانوشوں کی ایک بڑی تعداد انتہائی کامیاب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کی زندگی کا ہر پہلو نپاتلا ہوتا ہے تاہم بلانوشی اس قدر دبے پاؤں آتی ہے کہ انہیں بھی پتا نہیں چلتا۔ قرین قیاس ہے، اگر یہ لوگ بیماری کو آتا دیکھ لیتے تو وہ اس کے راستے سے ہٹ جاتے۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ایسا نہیں کرتے، کیونکہ وہ بیماری کو آ تے ہو ئے دیکھ نہیں پاتے۔ شراب تو بہت ’’مزے‘‘ کی بیماری ہے، لوگ ذیابیطس اور دل کی بیماری کو آتا دیکھ کر بھی راستے سے نہیں ہٹتے۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ منشیات کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے؟ چلیں میں واضح کر دیتا ہوں، جب ہم منشیات کی بات کرتے ہیں تو شراب بھی اس میں شامل ہو تی ہے۔ حتٰی کہ بہت سی ادویات جو ڈاکٹر صاحبان لکھتے ہیں وہ بھی منشیات میں ہی شمار ہوتی ہیں جیسے زینکس، ویلیم اور ساسی گون وغیرہ۔ ہم کچھ منشیات سے متعلق زیادہ اور کچھ کے بارے میں کم حساس ہوتے ہیں۔ کچھ کوبرا، کچھ کو کم برا اور کچھ کو تو اچھا سمجھتے ہیں۔ ہم منشیات سے تعصب برتتے ہیں اور منشیات ہم انسانوں سے تعصب برتتی ہیں۔ ہم میں سے کچھ کے ساتھ برا اور کچھ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں، حتیٰ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منشیات اپنی دوستی کو دشمنی میں بدل لیتی ہے۔ پہلے اپنا اعتماد جماتی ہیں اور پھر عین مشکل وقت آنے پر پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتی ہیں۔

منشیات کے عادی تمام افراد بیمار نہیں ہوتے، ان میں سے صرف 10% کا براحال ہو جاتا ہے۔ گلیوں میں بکنے والی منشیات کی نسبت شراب کوئی دھبہ نہیں، بلکہ اونچے طبقے میں حد درجہ قابل قبول ہے۔ شراب پی کر گاڑی چلانا جرم سمجھا جاتا ہے لیکن کسی پارٹی میں ایک دو جام چڑھانے پر کوئی ابروچشم نہیں ابھرتی جبکہ دھت ہو کر گرنااور غل غپاڑہ کرنا بدنامی کا باعث بنتا ہے، لیکن ان حرکتوں کے لیے بھی نرم گوشہ رکھنے والوں کی کمی نہیں، تاہم اگر آپ منشیات کے عادی ہوں اور عین پارٹی کے عروج میں منہ کے بل گرے ہوں تو پھر آپ کو آئندہ منہ نہیں لگایا جائے گا۔ اگر سب دوست منشیات کے رسیا ہوں اور آپ ہی کی طرح منہ کے بل گرتے ہوں تو پھر چاہے آپ کتنے ہی گل کھلائیں سب آپ کی حرکتوں کو ہنسی میں اڑا دیں گے۔

کسی نشے سے متعلق ہم کچھ بھی جذبات رکھتے ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ڈرگز کے خطرناک ہونے میں کوئی کلام نہیں، تاہم کون سا نشہ زیادہ یا کم خطر ناک ہے اس کا فیصلہ کو ئی سقراط بھی نہیں کر سکتا۔ سب منشیات برباد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، ان میں فرق صرف رفتار کاہوتا ہے۔ کیا آپ سلوپوائزننگ کے لیے آمادہ ہیں؟ کسی ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا بھی معزز نہیں ہوتی اور سٹریٹ ڈرگز کی طرح نشے کی بیماری پیدا کر سکتی ہے۔ ڈرگز کے لیگل ہونے نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا مٹھائی لیگل نہیں ہوتی؟ کیا ذیابیطس کی مرض میں آپ مٹھائی کھا سکتے ہیں؟ نشہ لیگل ہو یا ڈاکٹر کا تجویز کردہ، اس سے کوئی تحفظ نہیں ملتا۔ موروثی عنصر اور حالات مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آخرکار انجام کیا ہو گا؟ اگر نشہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے حاصل ہو جیسے چرس یا افیون تو بھی تلوار سر پر لٹکتی رہے گی۔ شراب جسے بہت سے گھرانے کھانے کی میز پر رکھتے ہیں، نے ہمارے ملک کو اتنا نقصان پہنچایا ہے جتنا سب منشیات مل کر بھی نہیں پہنچاسکیں۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments