انتظار ظلم ہو گا!

2

مریض کی بربادی کا انتظار کرنے کے پس پردہ یہی یقین کار فرما ہوتا ہے کہ جونہی وہ پستی میں گرے گا وہ نشہ چھوڑ دے گا یا پھر بھاگا بھاگا مرکز علاج منشیات پہنچ جائے گا۔ ایں خیال است و محال است و جنوں! نشے کے مریض اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں۔ وہ بڑی خوبصورتی سے لوگوں کو شیشے میں اتارتے ہیں اور اپنے نشے کی غرض سے استعمال کرتے ہیں۔ وہ بار بار مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور لوگوں کا استحصال کرتے ہوئے صاف بچ نکلتے ہیں۔ لوگ ان کی حرکات پر شک کرتے ہیں لیکن وہ اپنی حالت زار کا پتا نہیں چلنے دیتے۔ جب بھی کسی مشکل میں پھنستے ہیں منشیات ان کے کان میں تسلی بخش پیغام دیتی ہیں ’’فکر کی کوئی بات نہیں، میں ہوں ناں!‘‘۔

ایک دفعہ میں شراب کی بیماری سے بحالی پانے والے کچھ ’دوستوں‘ کے ساتھ ڈنر کر رہا تھا۔ انہی میں ایک کی نشے سے بحالی کی پندرھویں سالگرہ تھی۔ وہ بھلا آدمی اپنی کہانی سنا رہا تھا کہ کس طرح وہ کئی سال تک ایک چھوٹے سے غلیظ کمرے میں جو حشرات الارض سے بھرا تھا کئی سال بلاناغہ شراب اوردیگر منشیات کا استعمال کرتا رہا۔ اس کی زندگی عبرت کا نمونہ تھی لیکن وہ عرصہ دراز تک اپنے آپ کو نشے کے استعمال سے روک نہ سکا۔ علاج سے قبل وہ کئی دفعہ موت کے منہ میں جاتے جاتے بچا۔ میری دائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے اسے کہا، ’’بس! آپ تیار نہ تھے!‘‘ ایک اور صاحب بولے ’’وقت وقت کی بات ہے، ابھی سب کچھ کھویا نہ تھا‘‘۔ وہ کہنے لگے ’’بس قسمت میں ٹھوکریں تھیں ‘‘۔سب لوگوں نے اثبات میں سر ہلایااورمیں ہکا بکا رہ گیا ۔ میرے دائیں بائیں کھانا کھاتے ، خوش گپیاں کرتے دوست یہ سوچ رہے تھے کہ بحالی کیلئے اس بھلے آدمی کی زندگی کے چند خوبصورت سال ضائع ہونا ضروری تھے؟ میں نے اس سے پوچھا ’’جب آپ منشیات کی دنیا میں غرق تھے تو آپ کے اہل خانہ کہاں تھے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’میری بیوی نے تو خلع لے لیا تھا اور بچوں نے کبھی پلٹ کر پوچھا ہی نہیں! انہوں نے اچھا ہی کیا، ایک طرح سے، میں باپ کہلانے کے لائق تھا بھی نہیں!‘‘ میں نے پوچھا ’’اگر آپ کے اہل خانہ اور دوست احباب مل جل کر آپ کے پاس بحالی کا ایک ٹھوس منصوبہ لاتے تو کیا ہوتا؟ کیاآپ محبت اور عزت کے ساتھ ملنے والی مدد قبول کر لیتے؟ کیا ایسا ممکن تھا کہ آپ جلد نشے سے نجات پا لیتے اور بیوی بچوں کیلئے کوئی بہتر صورت نکلتی؟ ہو سکتا ہے میاں بیوی کا رشتہ سلامت رہتا؟‘‘ اس نے لمحہ بھر کیلئے میری آنکھوں میں دیکھا اور کہا ’’میں نے پہلے کبھی اس پہلو سے سوچا ہی نہ تھا! کون جانے میں ان کی مدد قبول کر کے فلاح پا جاتا، ہو سکتا ہے میرا خاندان بکھرنے سے بچ جاتا!‘‘ اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو مجھے صاف نظر آ رہے تھے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4
  • 5

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments