جو چاہو بدل ڈالو

2

مشکلات میں ہم کچھ ہاتھ پاؤں مارتے ہیں لیکن پھر تھک ہا ر کر مایوس ہو جاتے ہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ یا پھر ہم ان چیزوں کی طرف توجہ دینے لگتے ہیں۔ جو ہمارے دائرہ اختیار میں نظر آتی ہیں اور جنہیں ہم بدل سکتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو بے بسی کے ساتھ سر پھوڑتے رہنے کی بجائے ایسی چیزوں پر توجہ دینا اچھی حکمت عملی ہے، تاہم کبھی کبھی یہ کوشش سہل پسندی کا راستہ بھی ہو سکتی ہے۔ انفرادی سطح پر مشکل چیزوں میں ترک منشیات جواء اور وزن میں کمی سے لے کر طلاق سے بچاؤ تک ہر چیز شامل ہے۔ قومی سطح پر دہشت گردی، کرپشن اور لوڈ شیڈنگ بھی بہت گھمبیر مسئلے ہیں تاہم یہ کوئی ایسے مسائل نہیں کہ جن کا حل موجود نہ ہو، بس ہمیں وہ حل صحیح جگہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جن مسائل میں ہم ناکام ہوتے ہیں، انہی میں کوئی اور شخص کسی نہ کسی جگہ کامیاب اور اپنی عقل سلیم کے ذریعے فرق پیدا کر رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص جانتا ہے کہ جہاں خود اور دوسروں کو بدلنے کی بات آتی ہے تو وہاں ہمیں “ہمت” کے ساتھ ساتھ “مہارت” کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ہماری زندگی، ادارے حتیٰ کہ دنیا کے تمام پیچیدہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ ان کا حل بھی پیچیدہ ہو، بعض اوقات بس ذرا مختلف انداز میں سوچنے اور قدم اُٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے پاس مطلوبہ مہارت نہیں، ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ماہرین پہلے سے ہی ان مسائل کا حل تلاش کر چکے ہیں۔ ماہرین نے ہر گتھی سلجھا لی ہے اور یہ دنیا کا اہم ترین راز ہے۔ ہمیں ہر چیز کو نئے سرے سے سیکھنے کی بجائے مسئلے کا جو حل کہیں تلاش کر لیا گیا ہے اسے آزمانا چاہیے۔ ہمیں نئے سرے سے پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جب ہم اپنے چھوٹے مسائل پراثر انداز ہونے کی مہارت حاصل کر لیں گے تو ہمیں اپنا دائرہ اختیار وسیع کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی اور گزرتے وقت کے ساتھ پھر معمولی باتوں سے ہمارا سکون بھی خراب نہیں ہو گا۔

ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر وہ شخص جو ماتھے پر تیوڑی ڈالے گھوم رہا ہے، موثر شخصیت نہیں رکھتا، شخصیت کو موثر بنانے کے لیے عصر حاضر کے سلوشن اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کالم کا مقصد ہی یہ ہے کہ دنیا میں تبدیلیاں لانے والے ذہین لوگوں کے طریقے اور مہارتیں آپ تک پہنچائی جائیں تاکہ آپ وہ سب کچھ بدل ڈالیں جو آپ بدلنا چاہتے ہیں۔

دوسروں پر اثر انداز ہونے کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں بہترین الفاظ کے چناؤ اور گفتگو کے فن جیسے روایتی طریقوں پر زور دیا جاتا ہے، تاہم میں انہیں موثر نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک اکثر موقعوں پر مرد نادان پر کلام نرم و نازک بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ دراصل دوسروں کو بدلنے کے لیے باتوں سے بڑھ کر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ ایک جمبو سائز برگر کھا رہے ہوں اور بیوی توند کی طرف اشارہ کر کے یہ کہہ دے کہ آپ اپنے دانتوں سے اپنی قبر کھود رہے ہیں؟ تو کیا آپ پر کوئی اثر ہو گا اور توبہ کر لیں گے؟ نہیں ناں۔۔۔ میں جانتا ہوں۔ سوائے بدمزگی کے اور کچھ نہیں ہو گا۔

اسی لیے عادتیں بدلنے اور بہتری لانے کے لیے میں زبانی جمع خرچ پر زور نہیں دیتا بلکہ ہر مسئلے کے لیے ایک ایسی حکمت عملی کا پرچار کرتا ہوں جو دنیا بھر میں موثر لوگ اپناتے ہیں اور جن کا اطلاق بڑے انسانی مسائل پر بھی کیا جا سکتا ہو۔

بہت سی کمپنیوں میں ملازمین کی چھانٹی ہوتی ہے، جبکہ دوسری کمپنیوں میں مزید ملازم بھرتی کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کمپنیوں میں ملازمین کے کیرئیر کو عروج پر پہنچا دیا جاتا ہے اور ملازمین اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments