جو چاہو بدل ڈالو

2

چونکہ ہم میں سے زیادہ ترلوگ مسائل حل کرنے کے لیے نئے طریقے آزمانے کی بجائے فرسودہ ذرائع پر انحصار کرتے ہیں، اس لئے ناکامی سے دو چار ہوتے ہیں۔ فرسودہ طریقوں کے پس پردہ سہل پسندی کار فرما ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں ہم ہر ناکامی پر ایک نئی حکمت عملی آزمائیں تو مسائل ختم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ کیا آپ مانتے ہیں کہ بے بسی شاذو نادر ہی ایک سچی اور اٹل حقیقت ہوتی ہے دراصل لوگ خود کو موثر بنانے کی بجائے حالات کو برداشت کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ سچ بتائیے! کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک دن آپ بھی موثر شخصیت بنیں گے؟ اگر ہمیں اس کا ادراک ہوتا تو اپنی اثر انگیزی بڑھانے کے لیے خاطر خواہ کوششیں کرتے اور کامیابی کے نت نئے طریقے کھوج نکالتے، انعام و اکرام سے کام نہ نکلتا تو کوئی نئی ترکیب آزماتے، ذہانت سے کوئی راستہ نکال لیتے لیکن کبھی دھمکیوں پر نہ اترتے۔ اس بات کا شکوہ کرنا مناسب نہیں کہ دوسرے خود ہی کیوں نہیں بدل جاتے، نہ ہی اس بات پر دکھی ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دوسروں کو حسب منشاء بدلنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ہم گھورتے ہیں، بڑبڑاتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں اور تمسخر اڑاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم کھلاڑیوں کی زندگی کا جائزہ لیں تو ناکامی کا سامنا ہونے پر ہر کھلاڑی نہ صرف اپنی استعداد بڑھانے کی تگ ودو کرتا ہے بلکہ سوچ بچار سے کامیابی کی نئی راہیں تراشتا ہے۔ بار بار کی چوٹیں بھی اسے دوبارہ میدان میں اترنے سے نہیں روک پاتیں۔

لوگوں میں حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بدرجہ اتم صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ہم دوسروں کو بدلنے کی بجائے سمجھوتہ یا نباہ کرنے پر تل جاتے ہیں۔ عام طور پر ہم خود کو بدلنے کی بجائے گزارہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماضی کے رویوں سے شناسائی، انسیت اور اپنائیت کا گورکھ دھندہ گزارہ مزارہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تبدیلی کا ایک انجانا خوف کہتا ہے کہ نہ بدلنے میں تحفظ ہے۔ اسی وجہ سے اگر خاوند بلانوشی میں مبتلا ہو تو اہل خانہ علاج کی بجائے نشے کے نتائج پر توانائی خرچ کرتے کرتے ہلکان ہو جاتے ہیں یا تنگ آ کر اپنے دل کا غبار نکالتے ہیں۔ حالات کو بدلنے کے خیال سے ہی ہمیں انجانے خوف گھیر لیتے ہیں۔ جانی پہچانی مصیبت ایک خیالی اور انجانی مصیبت سے کم تکلیف دہ نظر آتی ہے۔ اسی طرح جب وزن کم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم پلان پر عمل درآمد کی بجائے مختلف سائز کے کپڑے رکھ لیتے ہیں اور اپنی تسلی کے لیے خود کو موٹا کہنے کی بجائے خود کو ’’کھاتے پیتے گھرانے سے ہیں‘‘ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ صورت حال سے سمجھوتہ کرنے کا یہ رویہ قومی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔

دہشت گردی کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں اور ہر واقعہ کے بعد انتظامات کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ اس میں %90 گفتگو دہشت گردی کے نتائج سے نپٹنے کے بارے میں ہوتی ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی مدد کرنا بہت اہم ہے تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے بھی اہم کیا ہے؟ اس بات پر بہت کم غور کیا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا قلع قمع کیسے ہو؟ اسے کیسے روکا جائے؟ ایسی کسی میٹنگ میں دہشت گردی کے خاتمے پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ چوٹ لگنے سے پہلے وافر مرہم اکٹھی کر لی جائے پر چوٹ لگنے سے روکنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے! کیا یہ ہماری طرف سے خاموش اعلان نہیں کہ ہم انسانی سوچوں اور رویوں کو بدلنے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ہم ہار مان چکے ہیں۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments