انتظار ظلم ہو گا!

4

ایک باپ تین بچوں کے ساتھ شراب کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ بچے سکول سے سیدھا گھر جانا چاہتے تھے لیکن باپ ڈرائیور کو شراب کی تلاش میں یہاں وہاں جانے کے لیے کہہ رہا تھا حتٰی کہ بچوں نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔

ایک 52 سالہ خاتون افسر نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر ایک ماں بیٹی کو گاڑی کے نیچے دے دیااور واپس مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ دونوں نے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ خاتون نے تین دن پولیس لاک اپ میں گزارے، اتفاقی حادثے کا مقدمہ درج ہوا، شراب میں دھت ہونے کا معاملہ گول کر دیا گیا، آپ جانتے ہوں گے کیسے؟

ایک نوجوان نے جو نشے میں دھت پارٹی سے واپس آ کر بستر پر اوندھے منہ گرا اور اپنی قے نگل لی اور سانس بند ہونے سے موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس کا ایک بھائی ایک سال پہلے ہیروئن کی بڑی مقدار سونگھ لینے سے موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔

یہ تمام کہانیاں ان خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں جن کے صدمے اور تکالیف بیان کرنے کے لیے ڈکشنری میں الفاظ نہیں ملتے۔ نشے کے مریضوں کے سنبھلنے یا علاج پر رضامند ہونے کیلئے کسی ان دیکھی بربادی کا انتظار ظلم ہو گا۔

بہت سی تکلیفیں تو وقتی ہوتی ہیں مگر جب نشے کے پروانوں کی زندگی میں بربادیاں مسلسل چل رہی ہوتی ہے وہ تب بھی نشہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ سر پر مصیبت آن پڑے تو کبھی کبھی وقتی طور پر نشہ چھوڑ بھی دیتے ہیں لیکن جونہی معاملات کچھ ٹھنڈے پڑ جائیں پینا پلانا پھر شروع ہو جاتا ہے۔ منشیات سے متاثرہ دماغ نشے کو مسائل کی جڑ تسلیم نہیں کرتا، ذرا بحران کم ہو، دباؤ ذراہٹ جائے تو شراب ’’بیسٹ فرینڈ‘‘ بن جاتی ہے اور ایڈکشن اپنے گھناؤنے روپ میں سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی ہے، نشئی کے دل میں نشہ بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ مریض ہر مشکل میں نشے سے رجوع کرتا ہے توایک طرح سے وہ چوری چوری نشے کو خدا مانتا ہے۔

تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ نشے کی بیماری اور دیگر علتوں میں مبتلا انسان اپنے پیار کرنے والوں کو تکلیف دینا نہیں چاہتے، وہ اپنے اندر اعلٰی صفات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، بس ان سے ایسا ہو نہیں پاتا۔ کئی دفعہ تو انہیں اپنی حرکتیں سمجھ ہی نہیں آتیں۔ جونہی ان کی زندگی میں نشے کا غلبہ ہوتا ہے اور مصیبتیں چاروں طرف سے انہیں گھیرنا شروع کرتی ہیں، وہ ہر طرح ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی چلتی رہے لیکن نشے کی بیماری کے سامنے کسی کی ایک نہیں چلتی اور وہ ایک کے بعد دوسری مصیبت میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ چھوٹے بڑے مسائل ان کو گھیرے رکھتے ہیں۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • اگلا صفحہ:
  • 5

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments