جو چاہو بدل ڈالو

2

چلیں کچھ مسائل اور اس کے خلاف ردعمل دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ جوئے کی لت کا کیا حل ہے؟ اپنے پیارے سے کچھ قسمیں اور وعدے لیں اور اسے قرض سے باہر نکال لیں۔ اگر آپ کے دفتر کا آئی ٹی سیکشن مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا پا رہا تو کیا کریں؟ کوئی مسئلہ نہیں، اسے ختم کر کے باہر سے کام کرا لیں۔ اگر آپ اپنے شریک حیات سے پریشان ہیں تو کیا کریں؟ طلاق کتنا آسان حل ہے۔ اگر رہا ہونے والے مجرم جلد ہی پھر جرائم کی طرف راغب ہونے لگیں تو انہیں اتنی جلدی رہا نہ کیا جائے۔ اسی طرح اپنے بلانوش خاوند کا علاج کرانے کی بجائے اسے مدہوشی کی حالت میں روزانہ باتھ روم سے بستر پر لا کر ڈالیں اور پھر سکون کے لیے دعا کریں۔

گذشتہ برس پی-آئی-اے اور ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہوا، اسی اثناء میں ڈائیوو بس سروس نے اس سال کروڑوں روپے منافع کمایا اور اس کی آمدنی میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈائیوو بس سروس والے ایسا کیا کرتے ہیں جس کے بارے میں ریلوے اور پی-آئی-اے والے نہیں سوچتے؟

یقیناً انہوں نے کوئی موثر حکمت عملی بنا رکھی ہے جو ایسے رویوں کو جنم دیتی ہے جن سے کمپنی بہترین نتائج دیتی ہے اور یہ حکمت عملی خفیہ نہیں بلکہ روز روشن کی طرح نظر آتی ہے۔

یہ تو تھی اپنی دنیا کی مثال، ادھر ترقی پذیر ملک بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں ایک انقلابی ڈاکٹر یونس نے چالیس لاکھ لوگوں کو غربت کے چنگل سے نکال لیا۔ اسی طرح ہزاروں امریکی باشندوں نے سنہری رویے اپنا کر وزن کم کیا۔ ایک مثال تھائی لینڈ کی ہے جہاں ایک خاموش طبع انقلابی نے پچاس لاکھ لوگوں کو ایڈز سے بچا لیا۔ امید کی کرن باقی ہے، بے بسی کو سیکھنے والوں سے دنیا بھری پڑی ہے تاہم ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانی رویوں کو بدلا جا سکتا ہے۔ قلب و نظر کیسے بدلتے ہیں اور انقلاب کیسے برپا ہوتا ہے، میں نے تبدیلی ہر لمحہ ظہور پذیر ہوتی دیکھی اور پس پردہ عوامل پر غور ہمیشہ میرا چلن رہا۔ میں جانتا ہوں کہ تبدیلی کے یہ علم بردار پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور عالم گیر سطح پر بیماریوں کی روک تھام سے لے کر امتیازی قوانین کو بدلنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ میں نے ان حیرت انگیز شخصیات میں ایک خاتون می می سلبرٹ کا کام بھی قریب سے دیکھا جو جرائم پیشہ اور سزا یافتہ لوگوں کی کایا پلٹ رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخصیات کچھ خوبیوں سے مالا مال ہونے کی وجہ سے کامیابی حاصل کرتی ہیں، تاہم غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ قدرت کے کچھ ایسے قوانین کے ساتھ چلتے ہیں جو کامیابی کی ضمانت ہیں اور انہیں ہر کوئی سیکھ سکتا ہے، ان میں آپ بھی شامل ہیں۔

یہ کالم میں ہر ماہ لکھا کروں گا، ان لوگوں کی کہانیوں پر مبنی ہو گا جو دنیا بدل رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں میرے ایک لیکچر کے دوران ایک طالبعلم نے کھڑے ہو کر کہا کہ ’’آپ کی باتیں ہمارے لئے نہیں ہیں آپ لوگ آج کی نسل کو سمجھیں جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے پاس کیا تھا؟ ہم سب ایک الگ دنیا میں بیدار ہوئے ہیں۔ آج ہمارے پاس ٹی وی ہے، ہوائی جہاز ہے، خلائی جہاز ہے، ایٹمی طاقت ہے،کمپیوٹر ہے۔‘‘ جب طالب علم نے سانس لیا تو میں نے جواب دیا، جب ہم آپ کی عمر میں تھے یہ چیزیں نہیں تھی جب ہم جوان تھے ہم نے انہیں تسخیر کیا۔ آپ بھی وہ سب کر سکتے ہیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ نا ممکن ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments