نشئی جادوگر ہوتے ہیں!

4

مصطفٰی ملک نے اپنی بیٹی شمائلہ سے اس کی بلانوشی پر بات کرنا چاہی تو فٹ سے بولی، “ابو جی میں تو پہلے ہی آپ سے بات کرنے والی تھی، لیکن میری ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ طلاق کے بعد مجھ پر کتنے پہاڑ ٹوٹے، ایسے میں شراب کا سہارا نہ لیتی تو میں پاگل ہو جاتی! آپ کو دکھی کرنے پر میں بہت شرمندہ ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ سب کچھ جلدی ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ والد محترم ٹھہرے بھلے مانس، بیٹی نے انہیں آسانی سے مطمئن کر دیا اور وہ خوشی خوشی چل دئیے، انہیں ذرا بھی شک نہ گزرا کہ بیٹی نے ان کی توجہ اصل مسئلے یعنی شراب سے طلاق کی جانب موڑ دی جو در حقیقت بلانوشی کا نتیجہ تھی۔ بیٹی نے وہی کیا جو جادوگر تماشائیوں کا اعتماد جیتنے کے لیے کرتے ہیں یعنی ایک ایسی ذہنی کیفیت پیدا کرنا جو بات ماننے پر مائل کرتی ہے۔ کچھ ذہن تیار بیٹھے ہوتے ہیں بس بیوقوف بنانے والا چاہیے۔

نشے کے مریض اپنے طلسم کو قائم رکھنے کے لیے وقت کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ چکما دینے کیلئے بھانڈہ پھوٹنے اور قابو آنے کے درمیان وقت کو لمبا کرتے ہیں جس سے اہل خانہ بے بسی کی تصویر نظر آتے ہیں۔ جب وہ دھت ہونے کے بعد کوئی نقصان کر کے لوٹتے ہیں اور بیوی بات کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہوتی ہے تو وہ قابو میں نہیں آتے جب تک کہ بیوی کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو جائے۔ ایک اور کام وہ یہ کرتے ہیں کہ نشے میں دھت ہونے اور بات کی نوبت آنے کے درمیان کوئی ایسا کام بھی کر گزرتے ہیں جس سے ان کے لیے بیوی کے دل میں نرم گوشہ پیدا ہو جائے۔

جب مجاہد حسین مسلسل تیسرے دن دھت ہو کر گھر لوٹا تو بیوی غصے میں آگ بگولہ تھی۔ وہ سیدھا بستر پر جا کر گرا اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا، صبح بیوی کو پتہ ہی نہ چلنے دیا اور چپکے سے کھسک گیا، شام کو کام سے لوٹا تو دور ہی سے نعرہ لگایا۔ ’’بچو! جلدی سے تیار ہو جاؤ، پہلے ہو گی آئس کریم اور پھر دیکھیں گے سلمان خان کی فلم دبنگ۔‘‘ بچوں کے چہرے کھل اٹھے! بیگم صاحبہ میں اب حوصلہ نہیں تھا کہ وہ شراب اور نشے میں دھت ہونے کا ذکر چھیڑے۔ رات واپسی پر کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔ رات گئی بات گئی۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • اگلا صفحہ:
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments