انتظار ظلم ہو گا!

5

خراب روئیے، بے تکے فیصلے اور جذباتی اتار چڑھاؤ، یہ سب نشے کی بیماری کے شاخسانے ہیں جو کہ دماغ کو شکستہ اور روح کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ اہل خانہ کنفیوژ رہتے ہیں۔ وہ بالکل نہیں جانتے کہ ان کے پیارے کو کیا ہو رہا ہے؟ ان کے منہ سے اکثر نکلتا ہے کہ کب سدھرے گا یہ؟ لیکن نشے کے مریض خود سے نہیں سدھرتے کیونکہ ایڈکشن ان پر اپنا شکنجہ کستی رہتی ہے اور وہ ہتھیار پھینکنے پر مجبور اور بے بس نظر آتے ہیں۔ جب میں کبھی نشے کے مریضوں کے دماغ میں جھانکتا ہوں تو مجھے وہ اس ادھیڑ بن میں نظر آتا ہے۔

’’ مجھے اپنا ہی رویہ سمجھ میں نہیں آتا، میں جو کچھ کرتا ہوں وہ اصل میں کرنا نہیں چاہتا۔ میں وہ کچھ کرتا رہتا ہوں جس سے میں نفرت کرتا ہوں۔ جو اچھے کام میں کرنا چاہتا ہوں وہ مجھ سے نہیں ہوتے اور جو برے کام میں نہیں کرنا چاہتا وہ میں کر گزرتا ہوں۔‘‘

قول و فعل کے اس کھلے تضاد کو درست کرنے اور اس معمے کو حل کرنے کیلئے رو دھو کر ایک شراب کے بیمار کے پاس آخری چارہ کار کیا ہے؟ ایک اور جام!

منشیات، شراب اور دیگر علتیں گھروں کا امن و سکون تباہ کر دیتی ہیں۔ علتوں میں مبتلا انسان اصلاح کی طرف پہلا قدم خود نہیں بڑھاتے، یہ بیڑہ ان سے پیار کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ علاج کا فیصلہ مریض کے ارد گرد صحت مند دماغوں سے ابھرتا ہے۔

منشیات کا استعمال بیمار اور لاچار کر دیتا ہے۔ یہ بیماری تباہ کن ہے۔ تاہم تسلی رکھیں یہ قابل علاج ہے۔ منشیات، شراب اور دیگر علتوں سے نجات کے کئی راستے ہیں۔

سب کو داخلے کی ضرورت نہیں ہوتی، ایڈکشن کی ابتداء ہو تو مریض کا علاج میں آنا ضروری نہیں، اہل خانہ ٹریننگ کے ذریعے اپنے پیارے کو علت سے نجات دلا سکتے ہیں۔ ایڈکشن قدم جما چکی ہو تو مریض کو آؤٹ ڈور میں آنا پڑتا ہے۔ بیماری بہت پرانی ہو تو داخلہ ضروری ہو تا ہے، مریض میں علاج کی خواہش اور جذبہ کیسے پیدا کریں، آپ کو یہ سمجھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ صداقت کلینک ایڈکشن کی بے مثال علاج گاہ ہے، جہاں کلائنٹس کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کی تعمیر نو کر لیتے ہیں۔
آپ نے جس معجزے کا انتظار کیا، وہ اب آپ کا انتظار کر رہا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments