نشئی جادوگر ہوتے ہیں!

5

جادوگر تب کامیاب ہوتے ہیں جب ان کو اپنے فن پر عبور ہو اور ان کی کارکردگی بے داغ ہو۔ اگر حاضرین کو بھنک پڑ جائے کہ درپردہ وہ کیا گل کھلا تے ہیں اور وہ راز کی بات جان لیں تو سمجھیں ان کی دکانداری چوپٹ ہو جائے گی۔ بھول چوک ہو جائے تو یہی انجام نشہ کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ حسن کارکردگی ہر روز لازم ہے۔ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، انہیں ہر دم اپنی گرفت مضبوط رکھنا پڑتی ہے کیونکہ پھر دوسرے لوگ صرف وہی کچھ دیکھتے ہیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ دوسروں پر ان کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، اس قسم کی ’’اعلیٰ‘‘ کارکردگی کے لیے جادوگر دو باتوں کا خیال رکھتے ہیں، لو گ کیا مان سکتے ہیں ؟ کیا کچھ نظروں سے اوجھل رکھنا ضروری ہے؟ نشہ کرنے والے بھی دو سوالوں پر توجہ دیتے ہیں: اہل خانہ کیا کچھ جانتے ہیں؟ اور ان سے کیا چھپانا ہے؟

کچھ گھر والے تنگ آ کر نشہ کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھنے لگتے ہیں۔ وہ ان پر بالکل اعتبار نہیں کرتے اور ہر چالبازی کو پکڑنے کیلئے چوکس رہتے ہیں۔ جادوگروں کا طلسم اعتبار نہ کرنے والوں پر نہیں چلتا۔ جب تماشائیوں کو پکا پتا ہو کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے تو پھر وہ چوکنے ہو جاتے ہیں۔ جب اہل خانہ دھوکہ کھانی پر آمادہ نہ ہوں اور چکر میں آنے سے صاف انکاری ہوں تو وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے وہ بازی جیت گئے، پر یہ سچ نہیں ہوتا۔ نشہ کرنے والا سوچتا ہے جیت ہر صورت میری ہو گی، وہ میری بات مانیں یا نہ مانیں، ان کا رد عمل میرے ہاتھ میں ہے۔ ہر حالت میں میرا جادو سر چڑھ کر بولے گا۔ وہ سب نہیں جانتے کہ آگے کیا ہو گا؟ جبکہ میں یقین سے جانتا ہوں۔‘‘ ہر کوئی بیماری کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے، مریض بھی اور اہل خانہ بھی، گھر میں ایڈکشن کی حکمرانی ہوتی ہے۔ کچھ اہل خانہ بتاتے ہیں کہ انہیں مریض کی نشہ بازی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حالانکہ انہیں یقیناً فرق پڑتا ہے۔ کیا وہ جاننا چاہیں گے کہ ان کا ردعمل کہاں جنم لیتا ہے؟ فرق بھی وہاں پڑ تا ہے۔

کسی کی توجہ حاصل کر لینا خود اسے قابو میں کر لینے کے مترادف ہے۔ نشے کا مریض ایک محور بن جاتا ہے جس کے ارد گرد اہل خانہ کی زندگی بھٹک رہی ہوتی ہے تاہم اہل خانہ ایڈکشن کو خارج از امکان تصور کرتے ہیں۔ ان کی توجہ ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہے وہ سچ کو تلاش نہیں کر پاتے۔ جب ایڈکشن چھپی رہتی ہے تو سب مریض کے رحم و کرم پر رہتے ہیں اور مریض اپنی بیماری کے در کا پجاری۔ گھر والوں کی توجہ کسی روح کی طر ح ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہے وہ ایڈکشن کو براہ راست چیلنج نہیں کر پاتے۔ پینے والے کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کو ایسے اقدامات پر قائل کر لے جو پینے پلانے میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ جب اہل خانہ نشہ بازی کے خلاف اپنا ردعمل بتاتے ہیں تو فوراً پتا چلتا ہے ان کا پیارا چکر دینے میں کتنا ماہر ہے؟ منشیات کا دفاع کرنے میں مریض کوئی ’’کوتاہی‘‘ نہیں کرتے، وہ نشے پر آنچ نہیں آنے دیتے، نشے سے اپنی وفا پر بھی آ نچ نہیں آنے دیتے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • اگلا صفحہ:
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments