ایڈکشن / نشے کے متعلق پانچ خدشات۔۔۔

2

2) نشہ کرنا ایک انتخاب ہے۔
نشے سے بحالی قوتِ ارادی کی طرح ایک عام فہم کام نہیں ہے۔ نشے کی بیماری کا انتخاب کوئی بھی اپنی مرضی سے نہیں کرتا جیسے کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا کہ وہ کینسر کی بیماری کا شکار ہوں۔ وراثت نشے کی بیماری لاحق ہونے میں کافی اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ اس کا صرف پچاس فیصد حصہ ہی ہے۔ باقی کا پچاس فی صد حصے میں ماحولیاتی عوامل جیسے کہ خاندانی نشوونما اور دوست احباب کا کردار بھی پچاس فیصد میں شامل ہے۔ دماغ کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کے مطابق نشے کی بیماری کی وجہ دونوں ہی عوامل ہوتے ہیں ایک وہ لوگ جو نشے کا استعمال کرتے ہیں اوردوسرے وہ لوگ ہیں جو کسی قسم کے نشے کا استعمال نہیں کرتے ان کے دماغ میں نیورو بائیولوجیکل اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جب ایک انسان نشے کا استعمال کرتا ہے تو دیر پا نشے کے استعمال سے دماغ میں واضح تبدیلیاں رونُما ہوتی ہیں جس سے روزمرہ کے معمولات میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ جیسے بے چینی محسوس ہونا، کھانا کھانے میں زیادہ مزا ملنا اور ڈرگ کے اوپر زیادہ توجہ برقرار رہتی ہے۔

عِلتوں سے متعلق ڈاکٹر صداقت علی کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیئے۔

myths4
3) لوگ عام طور پر ایک ہی ڈرگ کے نشے میں گرفتار ہوتے ہیں۔
کسی زمانے میں ہم اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ نشے کی بیماری صرف ایک خاص قسم کے نشے سے ہی ہوتی ہے اور باقی نشہ آور اشیا نشے کی بیماری کا باعث نہیں بنتیں۔ آج کل ایک سے زیادہ ڈرگز کا استعمال عام سمجھا جاتا ہے جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ کچھ لوگ ایک سے زیادہ ڈرگز کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ مزا ملے (مثال کے طور پر کوکین اور ہیروئن کا ایک ساتھ استعمال کرنا) جبکہ بعض افراد ایک سے زیادہ نشوں کا استعمال ایک نشے کے اثر کو کم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جیسے الکوحل کا استعمال کسی اور نشے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ دوائیوں کا استعمال بھی نشے کے طور پر کرتے ہیں اور یہ آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ایک سے زائد نشوں کا استعمال ان نوجوانوں میں عام پایا جاتا ہے جو چھوٹی عمر سے ہی نشے میں لگ جاتے ہیں۔ وہ افراد جو ایک سے زائد نشوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں ذہنی امراض لاحق ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں اور ان کو علاج میں زیادہ پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

4) وہ افراد جو دوائیوں کا نشہ کرتے ہیں ان لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں جو غیر قانونی نشوں میں ملوث ہوں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے دوائیوں کا نشہ ایک متعدی بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ وہ دوائیں جو کہ ڈاکٹر حضرات تجویز کرتے ہیں ان نشوں کی نسبت بہتر نشہ ہیں جو کہ سڑک چھاپ لوگوں سے لیا جاتا ہے۔ ایسی تجویز شدہ دوائیاں جیسے کہ ویکوڈن، زینکس یا ایڈریل وغیرہ عام طور پر لوگ انشے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب ایک انسان تجویز شدہ دوائی کی مقدار ضرورت سے زیادہ استعمال کرتا ہے تو اس کا اثر اتنا ہی ملتا ہے جتنی مقدار میں اگر کوئی ڈرگ لیتا ہو اور پھر یہ بھی ویسے ہی ذہن پر اپنے منفی اثرات مرتب کرتی ہے جیسے کوئی اور نشہ۔ نا صرف وہ نوجوان جن کو اتنی معلومات نہیں ہوتی ہے ایسا رویہ رکھتے ہیں بلکہ ان کے والدین بھی اسی طرح کا رویہ رکھتے ہیں۔ حالیہ ایک سروے جو کہ پارٹنر شپ ایٹ ڈرگ فری ڈاٹ کام نے کیا اُن کے مطابق ’’صرف چودہ فی صد والدین نے تجویز شدہ دوائیوں کا ذکر اپنے بچوں سے کیا جب وہ ڈرگ یا نشوں پر بات کر رہے تھے اور چھ میں سے ایک فیصد والدین نے یہ بھی تجویز کیا کہ ایسی دوائیاں محفوظ ہوتی ہیں بجائے ان نشوں سے جو کہ کہیں سے بھی آرام سے مل جاتی ہیں‘‘۔

نشہ کرنے کے دوران دماغ کی کارکردگی سے متعلق ڈاکٹر صداقت علی کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیئے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments