ایڈکشن / نشے کے متعلق پانچ خدشات۔۔۔

3

5) علاج کا مقصد نشہ کرنے والے افراد کو ان کے صحیح مقام پر پہنچانا ہے۔
نشے سے متعلق بڑی بڑی تنظیمیں بھی ایسا ہی سوچتی ہیں کہ نشے کی بیماری دائمی بیماری ہے جیسے دل کی بیماری، شوگر یا کینسر جیسی دائمی بیماریاں ہیں۔ مگر نشے سے متاثرہ افراد کا علاج ابھی بھی ہمارے معاشرے میں دوہری شخصیت کے حامل افراد کی طرح ہی کیا جاتا ہے۔ بہت سی علاج گاہیں یہ مانتی ہیں کہ نشے سے متاثرہ افراد کو علاج کی طرف مائل کرنے کے لیے محاز آرائی یا شرم آموز طریقے ہی مناسب سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس تحقیق کے مطابق نشے کی بیماری کو بیماری کے طور پر ماننے یا لوگوں کو اس کے علاج سے روکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ جو کسی بھی فرد کو دوبارہ سے نشے کی طرف مائل کرتی ہے وہ شرم کا پہلو ہے۔ حتیٰ کہ میڈیا کے تسلسل سے یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ شفایاب ہونے کے دو طریقے ہیں جو کہ ایک اچھا راستہ تصور کیا جاتا ہے اور ایک بُرا اور اس کا علاج جو مہنگا اور آرام دہ مانا جاتا ہے کافی بُرا تصور کیا جاتا ہے۔ ایک ہالی وُڈ رپورٹر نے حال ہی میں ایک آرٹیکل میں ہالی وڈ پروڈیوسرز، سابقہ اداکاروں، وکیلوں اور دیگر مایہ ناز کے بارے میں بتایا ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ اعلیٰ درجے کی علاج گاہیں ایسی سہولیات فراہم کرتی ہیں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں اور دیگر طریقے جیسے نیورو فیڈ بیک یا ایکوئن تھراپی کا استعمال کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس طرح کے طریقے معالج اور مریض کے درمیان تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں جس سے مریض ایک لمبے عرصے تک شفایاب رہتا ہے اور اس سے علاج میں رہنے کا مواقع بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں مگر میڈیا زیادہ تر اسی طرح کے پیغامات آگے پہنچاتا ہے کہ نشے سے متاثرہ افراد ہمیشہ ہی نشے سے متاثر رہتے ہیں۔
myths1

نشے کی علت پر کیسے قابو پایا جائے؟ ڈاکٹر صداقت علی کی یہ ویڈیو دیکھیئے۔

نشے کے متعلق خدشات یا غلط فہمیاں نہ صرف نشہ کرنے والے فرد کے لیے بلکہ اس کے خاندان اور ہم سب کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ کیا ہو گا اگر تمام با اثر کاروباری حضرات، پُر تاثر فنکار، مصنفین، تاریخ دان، سیاستدان ان لوگوں کی صف میں شامل ہیں جنہوں نے نشے کی بیماری کو بہت اچھے طریقے سے کنٹرول کیا ہوا ہے اور اس سے شفایاب ہو چکے ہیں مگر شرمندگی کے پہلو کی وجہ اس مسئلے پر بات س کرنے سے قاصر ہیں اور خاموشی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ نشے کی بیماری کو ایک ذہنی بیماری تصور کرنا اور اس سے متاثرہ افراد کو اس بات کی اجازت دینا کہ وہ اس سے مناسب طریقے سے شفایاب ہو سکیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ اس طرح سے ہم اس معاشرے کے سب سے بڑے عوامی صحت کے مسئلے میں اہم کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments