آٹھ سوالات : نقصانات …

2

سوال نمبر۴: میرا ایسا بہترین دوست جس نے میری عزیز کے انتقال سے پہلے ہی موقع پر میرا ساتھ دیا مگر اب مجھے وقت ہی نہیں دیتا۔ میرا دوست میری مدد کیوں نہیں کر رہا؟
جواب: تلخ حقیقت یہ ہے کہ عزیز کی موت نے آپ کو بدل دیا ہے۔ کسی عزیز کی موت کے بعد لوگ وہ نہیں رہتے جو پہلے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا دوست اب آپ کے دکھ کو سمجھ نہی پا رہا ہو۔ آپ اپنے دوست کے ساتھ مل بیٹھیں اور کھل کر ہر وہ بات چیت کریں جو آپ کو لگتا ہو کہ دوری کی وجہ ہے۔ آپ اپنے دوست کو بتائیں اس کی صحبت آپ کے لیے بہت معنی خیز ہے۔ ایک اور حقیقت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بہت سارے لوگ سوگ والے حالات سے دور بھاگنے لگتے ہیں کہ ایسے موقع پر کچھ غلط کہہ یا کر نا دیں۔ وہ ایک حد تک فاصلہ بنا کر رکھنے میں بھلائی دیکھتے ہیں۔

سوال نمبر ۵: سوگ اور دکھ کی حالت میں میں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں؟
جواب: سوگ کی حالت میں ہر کوئی بہت سی غلطیاں کرتا ہے۔ کوئی بھی ایسا عمل ہو سکتا ہے جس پر لوگ بعد میں پچھتاتے ہیں یا کسی سے ایسی گفتگو کر دیتے ہیں جو کبھی توقع نہیں کی ہوتی۔ آپ کیطرف سے یہ ہی کافی ہے کے آپ ان نقصانات کو تسلیم کریں اور اگر خطرناک نہیں اور ضروری ہے تو ان کی بھر پائی کر دیں۔ اگر کوئی آپ کو معاف کرنے پر راضی نہیں ہے یا بات کرنے پر راضی نہیں ہے تو اس چیز کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔ ان کے ساتھ بھی احترام سے پیش آئیں۔ آپ کے بات کرنے پر چیزیں بہتر ہو جاتی ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔
grief-willingways-2
سوال نمبر ۶: میرا تھراپسٹ چاہتا ہے کہ میں دوائی کھاؤں لیکن میں دوائی نہیں کھانا چاہتا۔ ایسی صورتحال میں کیا کروں؟
جواب: آپ اپنے تھراپسٹ سے کھل کر پوچھ سکتے ہیں کہ دوائی کھانا کیوں ضروری ہے اس کے بعد فیصلہ آپ کا اپنا ہو گا۔ مگر آپ کو اس بارے میں اپنے تھراپسٹ سے مشورہ کرنا ہو گا۔ بیماری کی علامات کے مطابق دوائی آپ کو مدد کر سکتی ہے اور دوائی کھانا ایک بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے۔ تھراپسٹ کے ساتھ بات کریں اگر وہ کہتا ہے کہ اس کے بنا بہتری ممکن نہیں تو دوائی استعمال کر لیں۔

سوال نمبر ۷: جب میں بہت سوگ میں تھا میرے سسرال والوں نے میری مدد نہیں کی اور اگر مدد کی بھی تو اس کے پیچھے ان کی اپنی ضرورت تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی انہوں نے ایسا کیوں کیا؟
جواب: ممکن ہے کہ ان لوگوں کو اپنا سوگ آپ سے کہنا نہ آ رہا ہو۔ وہ بھی سوگ میں سے گزر رہے ہیں اور اپنے عزیز کی جان کے نقصان سے نبرد آزما ہو رہے ہیں۔ آپ کو ان سے بات چیت کرتے ہوئے تلخ لہجے سے گریز کرنا ہو گا۔ تلخ لہجہ رشتوں میں دراڑ پیدا کرتا ہے۔

سوال نمبر۸: میں خود کو تن تنہا محسوس کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہو کہ مجھے کوئی نہیں سمجھتا کیا کوئی مجھے کبھی سمجھ پائے گا؟
جواب: دکھ یا سوگ میں ہر کوئی اپنے انداز میں ردعمل دیتا ہے کیونکہ ایک اپنی نوعیت کا تجربہ ہوتا ہے۔ حتی کہ ایک جیسے سوگ پر بھی ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ بعض اوقات مدد دینے والے گروپس میں بھی لوگ سکون محسوس نہیں کر پاتے۔ اس وقت بہت ضروری ہے کہ آپ ایسے دوستوں اور رشتہ داروں کا تعاون حاصل کریں جن کے ساتھ آپ اپنے آپ کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔

حادثات اور خاص کر ایسے حادثات جو وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جو غم سے نڈھال کر دیتے ہیں اور سوگ کے پاتال میں لے جاتے ہیں۔ سوگ کے اس دردناک چکر سے نکلنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے ماہرانہ مدد لی جا سکتی ہے۔ جو آپ کے غم کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ یہی وہ وقت ہے جس میں پوری قوم کو اپنے غم سے نمٹنے کے لیے مظبوط ہو کر مقابلہ کرنا ہے۔ ہمارا مستحکم ہونا ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اپنے پیاروں کو کھو دینے کے نقصان اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کے قرب میں مبتلا ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments