نشے میں کہیں وہ تنہا نہ رہ جائے!

3

روز مرہ زندگی میں دوسروں کے پھڈے میں ٹانگ نہ اڑانا بہت اچھا طرز عمل ہے لیکن ہمارا واسطہ اپنے پیارے کی بے رحمانہ اور نہ ٹلنے والی نشہ بازی سے ہو تو ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے جو قدم بہ قدم مطلوبہ نتائج دے۔ ان حالا ت میں غم و غصے کی بجائے ذمہ دارانہ اور حفظ ماتقدم کی بنیاد پر تیار کی جانے والی حکمت عملی چاہیے۔

نشہ ایک بندہ کرتا ہے لیکن تکلیف سب گھر والے اٹھاتے ہیں۔ یہ بیماری اردگرد کے لوگوں کی زندگی میں مناسب دخل اندازی سے باز نہیں آتی، بلا اجازت اہل خانہ کی زندگی میں فساد برپا کرتی ہے۔ یہ زبردستی توجہ مانگتی ہے اور مریض کے ہر چاہنے والے کی گود میں خوف، درد اور غم بھر دیتی ہے۔ اس کا ڈنگ ناقابل برداشت ہوتا ہے اور ختم ہونے میں نہیں آتا۔ جب ہمیں مسلسل اس ڈر خوف، بے چینی اور حقیقی مسائل کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جو نشہ کی بیماری کے ساتھ آ تے ہیں تو کسی بھی وقت اچھا محسوس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جب کوئی پیارا نشے کی بیماری کے ہاتھوں مسلسل شکست کھا رہا ہو اور نتیجتاً ہماری زندگی پر لرزہ طاری ہو تو کسی پیارے کو گندی انگلی سمجھ کر کاٹ پھینکنا ایک مستقل روگ بن جاتا ہے۔ اس لئے فکر و تردد نہ کریں اور ٹھوس عملی اقدامات جاری رکھیں۔

یوں لگتا ہے جو انسان اپنی زندگی خوشدلی سے جینا چاہتے ہیں وہ کسی نشے کے شوقین کے ساتھ قدم ملا کر چلنا اور کسی کی ایڈکشن کا حصہ بننا نہیں چاہتے ہوں گے؟ یہ سب غلط ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ کسی پیارے کی بیماری میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ ہم ایک بہت اچھی زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں لیکن ایک نشے کے مریض کی موجودگی میں ایسا کرنا بالکل آسان نہیں، وہ ہماری زندگی میں اس طرح الجھ جاتا ہے جیسے بسنت پر کسی کٹی پتنگ کی ڈور دوسری پتنگو ں سے الجھتی رہتی ہے۔ کسی پیارے کی اس جدوجہد میں حصہ دار بننا جو وہ اپنی بیماری کے خلاف کرتا ہے دراصل رشتہ نبھانے کیلئے ضروری ہے تاکہ وفا کے نام پر آنچ نہ آئے تاہم نشہ کرنے کے گورکھ دھندے میں الجھ جانا تو کوئی دانشمندی نہیں۔

آج میں لفظ لاتعلقی کا بغور جائزہ لیتا ہوں تو میرے ذہن میں کئی سوال ابھرتے ہیں۔ مثلاً کسی بلانوش کو علاج پر آمادہ کرنے کے لیے تحریک دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو وہ کام کرنے پر مجبور کرنا جو وہ نہیں کرنا چاہتا۔ کیا ایک بلانوش وہی کر رہا ہو تا ہے، جو وہ کرنا چاہتا ہے؟ یا نشے کی بیماری اس سے یہ سب کچھ کروا رہی ہوتی ہے؟ جب ہم مریض کے شب و روز خاموش تماشائی بن کر دیکھتے ہیں تو ہم ایڈکشن کو غلبہ پانے کا اجازت نامہ نہیں دے رہے ہوتے؟ ایڈکشن سب کو بری طرح جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے تو پھر یہ مریض کا ذاتی معاملہ نہیں رہ جاتا، سب کا فرض بنتا ہے کہ قدم آگے بڑھائیں۔ جب ہم کسی پیارے کی بلانوشی میں غوطے کھا رہے ہوں تو پھر اپنے من میں ڈوب کر چراغ زندگی کیسے پا سکتے ہیں؟ محض اس لئے کہ کوئی سدھرنا نہیں چاہتا، دیگر اہل خانہ تکلیف سہتے رہیں؟ اہل خانہ کی ضرورتوں پر ایڈکشن کو فوقیت کیوں دی جائے؟ یہ فرسودہ خیال کہ نشے کی بیماری کو اپنی چال چلنے دیا جائے مل جل کر لاتعلقی میں پوشیدہ خامیوں کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ کیا مسئلے کا حل نکا لنا بھی کوئی ایسی حرکت ہے جس سے کوئی پیچ و تاب کھائے؟ کیا مسئلے کے حل سے اہل خانہ کی زندگی میں کوئی اضافی تکلیف بھر سکتی ہے؟ کیا نشے کی بیماری کے منحوس چکر کو روک نہیں دینا چاہیے؟ کتنے انتظار کے بعد؟ کیا انتظار ظلم نہیں ہو گا؟

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments