شراب نوشی اور معاشرے پر اس کے اثرات

2

انگلینڈ کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق 95 فیصد ذہنی امراض میں مبتلا لوگ شراب کے عادی ہوتے ہیں فرانس کے وزیر صحت نے شراب سے مرنے والوں کی تعداد جب نشر کی تو اخباروں نے کہا کہ یہ تعداد جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ اس نشریہ میں بتایا گیا ہے کہ شراب کا کثرت سے استعمال اموات میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے اور ان میں مرنے والوں کی تعداد بیس ہزار تھی۔ شراب کے سلسلے میں بین الاقوامی کمیٹی کے چئیرمین نے بتایا کہ فرانس میں 25 فیصد کار سے ہونے والے حادثات اور 57 فیصد موٹروں کے حادثات الکوحل کی کثرت استعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

1870ء میں شراب خوری کے نتیجے میں جو جانی و مالی نقصان ہوا تھا وہ اس جنگ سے ہونے والے نقصانات سے کہیں زیادہ تھا۔ ان لوگوں کے نزدیک جو شراب لذت اور مزے کے طور پر لی جاتی ہے، وہی ان کے لئے زہر قاتل ہے۔ یہ ان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ ان کی آدھی عمر کو برباد کر دیتی ہے ان کے بدن پر کمزوریوں اور بیماریوں کے مسلسل حملے ہونے لگتے ہیں۔ فرانس کے اسپتالوں میں 40 فیصد بیماریوں کو شراب نوشی کا نتیجہ بتایا جاتا ہے۔ نرسنگ ہومز کے 50 فیصد ذہنی مریض نشہ آور چیزوں کے استعمال سے ذہنی امراض شکار ہوتے ہيں۔ فرانس کے بچوں کے اسپتالوں میں بھی 50 فیصد بچوں کی بیماری ان کے ماں باپ کے شراب کے عادی ہونے کی وجہ سے ہے۔

فرانس کی عدالتوں کا 60 فیصد خرچ شراب سے متعلق ہوتا ہے۔ حکومت فرانس کے خزانوں پر ہر سال اسپتالوں، نرسنگ ہومز، بینکوں کی وجہ سے 325 یورو کا نقصان شراب کے استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔

شراب نوشی، کثرت سے انسانی اموات کا سبب بنتی ہے۔ مردوں میں 55 فیصد عورتوں میں 30 فیصد اموت شراب نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ 95 فیصد بچوں کے قاتل شراب کےعادی ہوتے ہيں۔ 60 فیصد ناکارہ و بدکار جوان شراب کےعادی والدین سے پیدا ہوتے ہیں۔ مختلف ملکوں کے مخصوص نمائندگان کی تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا، اقتصادی لحاظ سے بھی شراب کے نتائج خطرناک ہیں تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ (شخصی نقصانات کے علاوہ) 128 یورو کا خرچ حکومت پر پڑتا ہے۔ اس طرح اسپتالوں پر دس یورو، تعاون پر 40 یورو، عدالتوں و قیدخانوں پر 60 یورو، پولیس پر 17 یورو، اس کے علاوہ بھی حکومت کے خزانے پر 11 یورو کا خرچ آتا ہے جو خام انگور کے مصرف سے کم ہو جاتا ہے اور شراب کے فروخت سے صرف 53 ملین یورو کی آمدنی فرانس کو ہوتی ہے آپ خود سوچئے، حکومت کو اقتصادی لحاظ سے کتنا نقصان ہوتا ہے۔

چند روز قبل روس میں شراب خوری کی روک تھام کے لئے شدید اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ اقدام روس میں بڑھتی ہوئی شراب خوری کے اثرات کو دور کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شراب نوشی ہیروئن سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس رپورٹ کے لکھنے والوں میں پروفیسر ڈیوڈنٹ بھی شامل ہیں جنہیں اکتوبر 2009 میں حکومت نے برخاست کر دیا تھا۔ رپورٹ میں بیس قسم کی منشیات کے استعمال کے نقصانات بتائے گئے ہیں۔ جن میں تمباکو اور کوکین کے نقصانات بالکل ایک جیسے ہیں۔ جبکہ ایسٹیسی اور ایل ایس ڈی کے نقصانات نسبتاً ان سے کم ہیں۔ پروفیسر نٹ نے اپنے سرکاری عہدے سے برخاست ہونے کے بعد بھی منشیات کے موضوع پر کام بند نہیں کیا۔ انہوں نے منشیات پر ایک آزاد سائینٹفک کمیٹی بنائی اس کمیٹی نے ہر قسم کی منشیات کے جسمانی اور ذہنی نقصانات کے ساتھ ساتھ اس کے عادی ہونے، اس سے متعلق جرائم اور معیشت پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ پیش کیا۔ تحقیق کے بعد سامنے آیا کہ ہیروئن، کوکین اور میتھائل ایمفیائن لوگوں کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ لیکن شراب، ہیروئن اور کوکین سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جب دونوں طرح کے نشے کے نقصانات کو یکجا کیا گیا تو سب سے زیادہ نقصانات شراب کے سامنے آئے جبکہ ہیروئن اور کوکین کا نمبر شراب کے بعد آیا۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments