شراب نوشی اور معاشرے پر اس کے اثرات

3

موجودہ سائنسی اور طبی انکشافات نے شراب کے اتنے زیادہ نقصانات بتائے ہیں کہ لگتا ہے کہ اس کی ایک بوند بھی زہر ہے۔ فرحت بخشنے، سردی اور زکام سے بچانے کی شراب، کی خصوصیت صرف خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شراب نوشی سے جسم کا پورا دفاعی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ معدہ، گردے اور دماغ کے خلیوں میں ورم پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مختلف خطرناک امراض ابھر آتے ہیں۔ جگر اس حد تک متاثر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا کام بند کر دیتا ہے جس کو لیورسروسس کہتے ہیں۔ یہ زیادہ تر مہلک ہوتا ہے۔ اعصابی تناؤ کے علاوہ شراب کا استعمال جنسی کمزوری بھی پیدا کرتا ہے۔ دل اور پھیپھڑوں کے امراض پر دواؤں کے ذریعے قابو پانا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مریض شراب کا استعمال یک لخت بند نہ کر دے۔ دوسری نشہ آور اشیاء کی طرح شراب میں بھی انسان کو اس کا عادی بنا دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے عادی لوگ الکوہلک کہلاتے ہیں۔ جو موجودہ طبی سائنس کے اعتبار سے ایک جان لیوا مرض ہے بالکل اسی طرح جس طرح حشیش اور بھانگ کے عادی موت کے قریب آ جاتے ہیں۔

شراب کی بیماری ایک بنیادی، ہمیشہ ساتھ رہنی والی، مسلسل بڑھنے والی اور جان لیوا بیماری ہے مگر بہت سے لوگ اسے بیماری مانتے ہی نہیں اور وہ اس بیماری کے ہاتھوں اپنی جان سے جاتے ہیں۔ شراب کی بیماری ہمیشہ رہنے والی ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص اس بیماری کا علاج کروا کے دوبارہ سے اس کا استعمال نہیں کر سکتا۔ اس بیماری میں ایک میٹا بولک ایرر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے جسم میں شراب پینے کے بعد زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں جو طلب کا سبب بنتے ہیں اور نہ ملنے پر غصہ، بے چینی اور گھبراہٹ وغیرہ جیسی مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

الکوحل کی بیماری کو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا بنا دیتی ہے انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ صحیح سے فیصلے نہیں کر پاتا شراب نوشی کے عادی شخص کو جب شراب نہیں ملتی تو وہ بے چینی محسوس کرتا ہے خود سے باتیں کرتا سنائی دیتا ہے اس طرح کے مریض کو مکمل علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور علاج میں مکمل نگہداشت اور توجہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ علاج کے دوران مریض کو اس بیماری کے حوالے سے مکمل معلومات اور اس بیماری سے بچنے کے حوالے سے مکمل ٹریننگ دی جاتی ہے کیونکہ یہ بیماری مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتی مگر اس کو مینج کیا جا سکتا ہے جس کے لیے اس بیماری کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے مریض اس مرض کے بارے میں مکمل آگاہی اور ٹریننگ کے بعد نارمل زندگی گذار سکتا ہے۔ جس طرح ذیابیطس کی بیماری ہو جانے کے بعد پوری زندگی اسکو مینج کرنا ہوتا ہے، اسی طرح شراب کی بیماری کو بھی پوری زندگی مینج کرنا ہوتا ہے، جو کہ مکمل علاج کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments