الکوحلزم : بیماری یا انتخاب

2

نشے کی بیماری کی چار خصوصیات ہیں:
1)نشے کی بیماری بنیادی ہے مطلب یہ کہ یہ بیماری کسی دوسری بیماری کے نتیجہ میں لاحق نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ بذات خود نشہ ہے۔ ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ نشے کی بیماری مجھے دل، جگر یا کسی دوسری بیماری کی وجہ سے ہوئی ہے۔ درحقیقت اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض کے جسم میں نشے سے نپٹنے کا نظام ناکارہ ہو گیا ہے۔
2)نشے کی بیماری دائمی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم علاج کے بعد مریض کو نارمل یا کم مقدار میں نشہ کرنے کے قابل نہیں بنا سکتے کیونکہ جسم میں جو خرابی اچکلی ہے وہ لکڑی کو دیمک لگ جانے کی مانند ہے لیکن اچھے طرز زندگی سے لکڑی کو مزید دیمک لگنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
3)نشے کی بیماری وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بد سے بد تر ہوتی چلی جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے اگر ذیابیطس کا مریض میٹھے سے پرہیز نہ کرے تو اس کا مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔
4)نشے کی بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ نشے کے مریضوں میں حادثات اور خودکشی عام ہوتی ہے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ جب مریض نشے کا استعمال ترک بھی کر دیں تو بھی یہ بیماری بڑھتی رہتی ہے۔ اگر کوئی مریض نشے چھوڑ دینے کے کچھ عرصے کے بعد اچھا بھلا دکھائی دینے لگے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ اب دوبارہ نشہ شروع کر سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نشے کا مریض جان بوجھ کر مریض بنتا ہے۔ کیونکہ نشہ کرنا ان کے مرضی ہوتی ہے اور یہ مرضی ان کے ساتھ ساری زندگی رہتی ہے اور وہ کبھی بھی نشہ نہیں چھوڑنا چاہتا۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ نشے کی ابتداء تو ایک جیسی ہوتی ہے لیکن انجام مختلف ہوتا ہے۔

بہت سے مریض منشیات کا استعمال اذیتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں مثلاََ جسمانی تکالیف کو کم کرنے کے لئے نشے کو بطور دوا استعمال کرتے ہیں اور یہ جسمانی تکالیف نشہ نہ ملنے کی بدولت پیدا ہوتی ہیںَ اس کے علاوہ نشے کے مریض نشے کے استعمال پر سے اختیار کھو دیتے ہیں۔ یعنی کہ ان کا اختیار نشے کی مقدار، استعمال، وقت اور جگہ پر نہیں رہتا اور وہ ان کی پرواہ کئے بغیر نشہ کر تے چلے جاتے ہیں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ الکوحلزم بیماری نہیں بلکہ انتخاب ہے کیوں کہ لوگ اس کو اپنی مرضی سے منتخب کرتے ہیں۔ ہاں پہلی دفعہ جب شراب پی جاتی ہے تو اس میں آپ کی مرضی شامل ہو سکتی ہے لیکن اس کا تعلق اس بات سے قطعاً نہیں کہ وہ جان بوجھ کر الکوحلک یا شراب نوش یا بلانوش بننا چاہتا ہے۔ سائنس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ مخصوص جینز کی بدولت یہ بیماری لاحق ہوتی ہے جیسے کہ زیابیطس کی بیماری ہے۔ مثال کے طور پر شکر کھانے والے انسان کا یہ ارادہ ہرگز نہیں ہوتا کہ مجھے آگے جا کر ذیابیطس کا مریض بننا ہے اسی طرح کوئی بھی شرابی جب پہلی بار شراب پیتا ہے تو وہ سوچتا نہیں ہے کہ میں آگے جا کر شرابی بنوں گا لیکن آہستہ آہستہ اس کے جسم میں ایسی تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے جو اسے پتہ نہیں لگ پاتی۔ جب انسان پہلی دفعہ شراب پیتا ہے تب اس کے دماغ میں الکوحل کیلئے مقام تیار ہو جاتے ہیں اور یہ شراب کا استعمال زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ عام انسان میں یہ مقام نکال دینے کی طاقت موجود ہوتی ہے لیکن جس انسان میں وراثتی کمی ہو اس میں یہ ’’نشے کے مقام‘‘ نکال دینے کا کھیل بہت دھیمہ ہوتا ہے جس کی بدولت اس کے دماغ میں ’’نشے کے مقام‘‘ تعداد میں بڑھنا شروع وہ جاتے ہیں اور پھر ان کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے تو پھر یہی نشے کے مقام کہتے ہیں کہ ہمیں شراب چاہیئے! کسی بھی حالت میں میرا مطالبہ پورا کرو “عید آئی ہے عیدی چاہیئے” اور یہ عیدی شراب ہے اور پھر آپ کو اپنی مالی حالت، صحت، آپ کے گھر میں کوئی بیمار ہے یا پریشان ہے آپ کو فکر ہی نہیں رہتی۔ اس وقت صرف اور صرف مطالبے کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ یہ جسمانی خرابی ہے جو شراب پینے والوں میں سے 10 فیصد لوگوں کے جسم میں خود بخود واقع ہوتی ہے۔ شراب کے مریضوں کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے جسم میں کیا تبدیلی آ رہی ہے اور جب بائیولوجی میں تبدیلی آتی ہے جیسے کولیسٹرول زیادہ ہو جاتا ہے،، شوگر بے قابو ہو جاتی ہے جیسے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ ان سب کے لئے ایک نظام موجود ہے اور ہمارے جسم میں جس چیز سے متعلقہ نظام نہ ہو تو وہ چیز ہم ہضم نہیں کر سکتے مثلاََ ہم گھاس نہیں کھا سکتے کیونکہ ہمارے جسم میں گھاس سے نمٹنے کا نظام ہی نہیں ہے اسی طرح بکرے گوشت نہیں کھا سکتے کیونکہ ان کے جسم کے اندر گوشت سے نمٹنے کا نظام موجود نہیں۔ لیکن ہمارے جسم کے اندر شراب سے نمٹنے کا نظام موجود ہے اور بہت وسیع ہے اور جب شراب کو پراسس کرتا ہے اور ہماری سکون ملنے کی خواہش کو پورا کرتا ہے اور جب اس پراسس میں خرابی آجاتی ہے تو ہم بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments