الکوحلزم : بیماری یا انتخاب

3

لوگ ڈرنک ہونے میں فخر محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ شراب پینے سے ہوش میں رہنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اگر کوئی ڈرنک ہو بھی تو وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ میں ڈرنک ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا کام نہیں ہے جو لوگ ارادے سے کرتے ہیں۔ جب انسان کے دماغ میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے تو بہت سے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ انسان اپنے روئیوں پر سے اختیار کھونا شروع کر دیتا ہے اور کوئی بھی بیماری چاہے وہ ذیابیطس کی بیماری ہے یا دل کی بیماری ہے اس میں ہماری خوراک اور ورزش کا بہت عمل ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ بیماری بھی ایسے ہی انتخاب کا نتیجہ ہے ۔ الکوحلزم کی بیماری میں ہمارا دماغ بالکل ایسے ہی کام کرنا شروع کر دیتا ہے جیسا کہ ذیابیطس کی بیماری میں لبلبہ کرتا ہے۔

س) یہ کیسے پتا چلے کہ میں شرابی ہوں؟
اس کے لئے آپ کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے ۔

1) پہلا سوال یہ کہ آپ کے خاندان میں سے یا کسی دوست نے آپ کو یہ تو نہیں بولا کہ آپ کی شراب زیادہ ہو رہی ہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
2) دوسرا سوال یہ کہ جب لوگ آپ کو یہ کہتے ہیں کہ آپ کو شراب کا استعمال کم کر دینا چاہئے تو تب کیا آپ کو غصہ آجاتا ہے کہ ’’یار میں اپنے پیسے کی کمائی سے پیتا ہوں تمہیں کیا مسئلہ ہے‘‘
3) تیسری بات یہ ہے کہ شراب پینے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شراب زیادہ پی لی ہے اور شرمندگی محسوس ہو رہی ہوتی ہے۔

دن شروع کرنے کے لئے آپ کو شراب کی ضرورت محسوس ہو، آپ صبح اٹھیں، ہاتھ پاؤں کانپ رہے ہیں، توجہ نہیں دے پا رہے۔ شراب پی، اچھا لگا اور دن شروع ہو گیا۔ اگر ان سوالوں کے جواب ہاں ہیں تو پھر آپ کا شراب پینا خطرے سے خالی نہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بیماری ہے تو پھر میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ اگر ہمیں کوئی بیماری ہو تو علاج تو کروانا پڑتا ہے۔ یہ بیماری ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری ذمہ داری ہی ختم ہو گئی ہے، بلکہ مجھے یہ سوچنا چاہیئے کہ میری ذمہ داری ابھی شروع ہوئی ہے۔ الکوحلزم میں رکا رہنا مسئلہ نہیں ہے بلکہ رکے رہنا مسئلہ ہے اور یہ رکے رہنے کے لئے الکوحلک انانمس ایک پروگرام ہے جو کہ پوری دنیا میں موجود ہے اس کی بدولت تیس لاکھ سوبر ممبرز ہیں اور اپنے ملک میں چالیس ہزار سے زیادہ سوبر ممبرز موجود ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اس لت میں مبتلا لوگ باہر نکل پائے ہیں۔ آپ کے من میں صرف یہ خواہش ہونی چاہیئے کہ مجھے شراب سے دور رہنا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments