دس چیزیں جو آٹزم سے متاثرہ بچہ ہم سے چاہتا ہے !

2

میں ’’ٹھوس‘‘ سوچ کا مالک ہوں ۔اس کا مطلب ہے کہ میں طنزوں اور محاوروں کو نہیں سمجھ سکتا۔ میں بولے گئے لفظوں کو ان کے ڈکشنری معنوں کے لحاظ سے بھی یاد رکھتا ہوں۔

جب آپ کہتے ہیں کہ ’’رائی کا پہاڑ نہ بناؤ‘‘ یا یہ کام خالہ جی کا گھر نہیں ہے، یا ’’چلو بھر پانی میں ڈوب مرو‘‘ یا ’’یہ تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے‘‘ یا جب آپ کہتے ہو کہ کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔ تو میں بہت الجھن میں پڑ جاتا ہوں۔ برائے مہربانی یوں کہا کریں ’’یہ معمولی سی بات ہے‘‘ ’’یہ آسان کام نہیں ہے‘‘۔ ’’یہ کام اچھا نہیں کیا‘‘۔ ’’یہ تو آسان کام ہے‘‘۔ اور ’’کون سی مصیبت آ جائے گی‘‘۔
محاورے، طنزیں، شکوے، مثالیں میرے دماغ کی گلیوں میں کھو جاتے ہیں۔
Kiss کو یاد رکھیں ’’کیپ اٹ سمپل اینڈ سٹریٹ‘‘

میرا ذخیرہ الفاظ کم ہے بس گزارہ کیجیئے۔

جب میرے پاس الفاظ نہیں ہوتے تو میں آپ کو اپنی ضرورت یا احساس کے بارے میں بتا نہیں پاتا اور اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہوں۔ مجھے بھوک پیاس، بے چینی، خوف یا الجھن کا سامنا ہو سکتا ہے اور عین اسی وقت میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہوتے۔ لہذا آپ ہی ذرا چوکنے رہا کریں کہ:
آخر میں غصہ کیوں کر رہا ہوں اور گم سم کیوں ہوں؟
میری حرکتوں اور انداز سے ہی کام چلا لیا کریں۔ آپ تو سیانے ہیں ناں؟

اس کی دوسری انتہا یہ ہے کہ کبھی کبھی میں اپنی گفتگو میں بڑے بڑے الفاظ استعمال کرتا ہوں جن کا کوئی موقع و محل نہیں ہوتا، یعنی چھوٹا منہ بڑی بات ایسا میں ادھر ادھر سے سن کر دھراتا ہوں۔ یادداشت اچھی ہے اس لیے کئی لمبے لمبے فقرے مجھے یاد رہ جاتے ہیں۔ یعنی میں کوئی پروفیسر یا اسٹار نہیں صرف کاپی کرتا ہوں۔ کیوں مجھے یہ تو پتہ ہے کہ جب آپ کچھ بولتے ہیں تو مجھے یہ تو پتا ہے کہ جب آپ کچھ بولتے ہیں تو مجھے بھی بولنے کی باری لینا ہوتی ہے۔ یہ باتیں، ٹی وی، فلموں، کتابوں اور گانوں سے ہو سکتی ہے۔ اسے نفسیاتی زبان میں ’’ایکو لے لیا‘‘ کہتے ہیں یعنی سنی ہوئی باتوں کو دہرانا۔ ایسے میں جو میں بول رہا ہوتا ہوں اس مطلب مجھے معلوم نہیں ہوتا۔ سو میری گستاخیاں معاف کر دیا کریں۔ میں تو بس اپنی سی کوشش کر رہا ہوتا ہوں۔ کچھ تو کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں، آج غالب غزل سرا نہ ہوا؟

چونکہ زبان دانی میری کمزور ہے تو میں دیکھتا بڑے دھیان سے ہوں۔ مجھے اگر آپ صرف لفظوں میں بتانے کی بجائے عملی مظاہرہ کر کے سمجھائیں تو آسانی ہو گی۔ اگر آپ کو بار بار بھی ایسا کرنا پڑے تو ہر گز گرمی نہ کھائیں آخر آپ مجھ سے پیار کے دعوے دار ہیں چونکہ تو بار بار بتائے اور کر کے دکھانے سے میرے لیے آسانی ہو جاتی ہے۔ اگر میرا ٹائم ٹیبل یا شیڈول سامنے رہے تو مجھے بہت آسانی ہو جاتی ہے کہ آگے کیا کرنا ہے اور میں آپ کی توقعات پر پورا اتر سکتا ہوں آپ اس ویب سائیٹ سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ یہ ویب آپ کو کچھ کر دکھانے میں مدد کرے گی اور میرا بھلا ہو جائے گا۔

جب میں بڑا بھی ہو جاؤں تو دیکھ کر کچھ کرنا میرے لیے مددگار ہی رہے گا۔ ہو سکتا ہے پہلے سے کم اس کی ضرورت پڑے۔ جب تک میں پڑھنا نہیں سیکھ لیتا تصویریں میری مدد کرتی ہیں۔ پھر الفاظ بھی ساتھ مدد کریں گے اور آخر میں صرف الفاظ، تصویروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

پلیز بھر پور توجہ ان چیزوں پر دیں جنہیں میں کر سکتا ہوں بجائے اس کے کہ ان چیزوں کو کھپتے تپتے رہیں جو میرے بس میں نہیں۔ کبھی بھی انسان کی طرح میرے لیے بھی کسی ماحول میں سیکھنا اور نشوو نما پانا ممکن نہ ہو گا۔ جس میں مجھے یہ احساس دلایا جائے کہ ’’تم کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اور لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘ اگر مجھے تنقید کا خوف ہو گا۔ تو میں کچھ بھی ضائع نہیں کرنا چاہوں گا۔ اگر آپ مجھ میں خوبیاں تلاش کریں گے تو وہ بھی آپ کو مل جائیں گی۔

چیزوں کو کرنے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہوتا، روم کی طرف کئی سڑکیں جاتی ہیں۔ جس طرح آپ محاورے سمجھتے ہیں میں نہیں سمجھتا، تو برائے مہربانی آپ نے مجھ سے یہ لچھے دار گفتگو نہیں کرنا۔ میں تو آپ کی سہولت کیلئے اپنی جان جوکھم میں ڈال رہا ہوں۔

رشتوں ناطوں کو بڑھانے میں میری مدد کریں

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments