دس چیزیں جو آٹزم سے متاثرہ بچہ ہم سے چاہتا ہے !

۳

بظاہر ایسا لگے گا کہ میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ لیکن حقیقت صرف اتنی ہے کہ مجھے چیزوں کا آغاز کرنا نہیں آتا اور جب کچھ ہو رہا ہو تو اس میں شامل ہونے میں شروع میں کچھ مشکل ہوتی ہے۔ اگر آپ دوسرے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ کس طرح پیار سے مجھ آپ ساتھ کھیلنے کیلئے اکسائیں تو میں ضرور کھیلوں گا۔ میں ایسے مشاغل میں بخوبی حصہ لے سکتا ہوں جن کے کوئی سادہ سے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ شروع کی زبان سے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میں ان کے جذبات کو بھی نہیں جان سکتا۔ لہذٰا دوسروں کے ساتھ رشتے ناطے میں مجھے مسلسل راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کس کس موقع پر کیا کرنا ہے؟ مثال کے طور پر جب ایشال گرے اور ہنس دوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے مزہ آیا ہے بلکہ مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ کہنا ہے۔ مثلاً ’’چوٹ تو نہیں لگی؟ ‘‘

موڈ خراب ہونا، کھپ ڈالنا، غصہ کرنا، چیخنا آپ جو بھی نام دیں میرے لیے بھی اتنا تکلیف دہ ہے جتنا کہ آپ کیلئے اکثر اس کی وجہ میرے حواس خمسہ میں سے کچھ کا ضرورت سے زیادہ متحرک ہو جانا ہے۔ اگر آپ یہ راز پا لیں تو میرے کھپ ڈالنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ اگر آپ ایسے موقعوں کو لکھنا شروع کر دیں۔ تو جلد ہی ہی میں آپ کے سامنے کھلی کتاب کی طرح نظر آنے لگے گا۔

یاد رکھیں! تمام روئیے دراصل کوئی پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم سن لیں، میرے بارے میں اگر آپ زیادہ سے زیادہ اندازے لگائیں گے تو جلد ہی آپ کے اندازے صحیح ہونے لگیں گے۔ اگر میں نہ بھی بتاؤں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ مجھے کیا چیز تنگ کر رہی ہے۔

والدین یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر میں گڑ بڑ کرتا ہی چلا جاؤں تو اس کے پس پردہ کوئی جسمانی تکلیف بھی ہو سکتی ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں سے الرجی، حساسیت، نیند کی خرابی اور بدہضمی کے مسائل سبھی میرے رویوں کو خراب کر سکتے ہیں۔ آخر سبھی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض بھی تو کھپ ڈالتے ہیں جب یہ بیماریاں بے قابو رہیں۔

اگر آپ میرے ماں باپ یا خونی رشتے دار ہیں تو پھر مجھے غیر مشروط محبت دے دیجئے، محبت کیلئے ہر روز معیارات کو بلند نہ کرتے رہیے۔

اس قسم کے خیالات کو ذہن سے کھرچ ڈالیں۔ اگر میں یہ ذرا بولنا شروع کر دوں اور ’’آخر وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟‘‘ آخر آپ نے بھی تو اپنے ماں باپ کی ہر توقع پوری نہیں کی تھی ناں؟ آپ کو بھی ان کا بار بار طعنے دینا برا لگتا تھا ناں؟‘‘ آخر میں نے آٹزم جان بوجھ کر تو نہیں چنا ناں؟ یاد رکھیں! آٹزم مجھے ہے آپ کو نہیں۔ آپ کے تعاون کے بغیر کامیابی کی منزلیں طے کرنا میرے لیے آسان نہیں ہو گا۔ آپ کی عملی مدد اور ہلا شیری کے ساتھ میں آپ کی توقعات سے بھی بڑھ کر کارکردگی دکھا سکتا ہوں۔

یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔ اگر آپ میرے ساتھ محنت اور ذہانت سے کام لیں گے تو میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا میں نکھر جاؤں گا! سنور جاؤں گا۔
اور آخر میں تین لفظ صبر ! صبر! صبر!

آٹزم کو نااہلی سمجھنے کی بجائے ایک خاص قسم کی قابلیت کی نظر سے دیکھنا سیکھیں۔ میری کمزوریوں کو درگزر کر دیں اور ان صلاحیتوں پر نظر ڈالیں جو آٹزم نے مجھے دیں یہ سچ ہے کہ میں بات نہیں کر پاتا اور نظر نہیں ملا پاتا۔ لیکن کیا آپ نے دیکھا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ کھیل تماشوں میں دھوکا دہی نہیں کرتا، دوسروں پر فقرے نہیں کستا، میں تنقیبات بھی نہیں رکھتا اور بھی بہت سی چیزوں کو غور سے سمجھنے توجہ دینے اور تفصیلات جاننے کے جنون میں میں آئن سٹائن بن جاؤں، موازٹ یا دان گوہ بن جاؤں۔ ہو سکتا ہے میں ال زیمر جیسی بیماری کا کوئی حل نکالوں۔ مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ کسی کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ صرف مجھے ہی منفی امیدوں سے کیوں دیکھا جائے؟ تاہم میرا کیا بنے گا؟ اس کا بہت کچھ دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کمر کستے ہیں یا نہیں؟ آپ ہی میرے مستقبل کی بنیادیں رکھنے والے معمار ہیں۔ کچھ معاشرتی حدود و قیود اگر میری سمجھ میں نہیں آتے تو انہیں جانے دیجئے۔ میرے حمایتی بنیے۔ میرے دوست بنئیے اور پھر ہم اکٹھے مل کر یہ دیکھیں گے کہ میں کہاں تک جا سکتا ہوں؟

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments