“صرف اتنا کافی نہیں کہ آپ کوشش کرتے رہیں بلکہ معلوم کریں کہ کرنا کیا ہے؟ پہلے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کیا نتیجہ چاہ رہے ہیں؟ کامیاب لوگ حکمت عملی تیار کرنے سے پہلے ان چیزوں کی نشاندہی کر لیتے ہیں جنہیں بدلنا ہے۔ وہ ان خاص اقدام کا بھی پتا چلا لیتے ہیں جو بڑے نتائج دیتے ہیں۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹر صداقت علی، ٹرننگ پوائنٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ملک کے ممتاز ماہرِ منشیات ہیں۔ پاکستان میں نشے کے علاج کے حوالے سے ان کا نام سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج ، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے نشے کے علاج میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ اب تک ہزاروں نشے کے مریض ان کے ہاتھوں شفایاب ہو چکے ہیں۔ (مزید پڑھیے)

lower

1988 میں تھائی لینڈ کے بادشاہ ساٹھ برس کے ہوئے تو انہوں نے تیس ہزار قیدی رہا کر دیئے۔ اکثر قیدی ایڈز کے مریض تھے اور نشئی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی ’’’جوٹھی‘‘ سرنجیں استعمال کرتے تھے۔ قیدیوں کے ساتھ ہی ایڈز وائرس بھی “جیل” سے نکل آیا۔ تھائی باشندے تیزی سے ایڈز میں مبتلا ہونے لگے۔ ماہرین کے ہاتھ پاؤ ں پھولنے لگے۔ صرف ایک سال کے اندر ایک تہائی طوائفوں کو ایچ آئی وی ہو چکا تھا، ان سے ناطہ جوڑنے والے شادی شدہ مردوں نے یہ وائرس اپنی بیویوں تک پہنچایا جن سے نومولود بچوں کو منتقل ہو گیا۔ 5 سال کے اندر دس لاکھ تھائی باشندے ایڈز سے متاثر ہو گئے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ صرف چند برسوں میں ہر چار میں سے ایک شخص اس وائرس سے متاثر ہو گا۔ تھائی حکومت کو خدشہ تھا کہ 2004 تک پچاس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوں گے۔

لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ دوسال کے اندر ایڈ ز وائرس کے خلاف اتنی کامیاب جنگ لڑی گئی کہ وہ پسپا ہو گیا۔ ڈاکٹر ویوٹ کے اقدامات سے 2000ء تک متاثرین کی تعداد 20% رہ گئی۔ مسئلے کا حل پہلی کوشش سے سامنے آیا اور نہ ہی آسانی سے۔ایڈز کے خلاف جنگ کے آغاز میں ڈاکٹر ویوٹ کو روایتی مشورہ دیا گیا کہ عوام کو خطرے سے آگاہ کیا جائے! لیکن انہیں یہ حکمت عملی بے کار نظر آئی۔ آگاہی کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بیماریاں لوگوں کی لاعلمی سے پھیلتی ہیں، لہذا ڈاکٹر ویوٹ کو کہا گیا کہ پوسٹر تقسیم کیے جائیں، سیمنار منعقد کرائے جائیں، تعلیمی اداروں میں لیکچر بازی کی جائے اور عوامی شخصیات کو قائل کیا جائے کہ وہ ریڈیو اور ٹی وی پر ایڈز کے خلاف اظہار خیال کریں۔ ایسا کیا بھی گیا۔ تاہم جب دو سال کی مشقت اور اخراجات کے بعد کوئی کامیابی نہ ملی تو ڈاکٹر ویوٹ نے نئی حکمت عملی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا آغاز انہوں نے اعدادو شمار اکٹھا کرنے سے کیا۔ رپورٹ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر ویوٹ کو پتا چلا کہ %97 انفیکشن طوائفوں کے ساتھ جنسی تعلق کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ آپ کو یہ بات عجیب لگے گی لیکن تھائی لینڈ میں ڈھائی لاکھ سے زائد طوائفیں ہیں اور مردوں کی بڑی تعداد جنسی عیاشی کیلئے ان کے پاس جاتی ہے۔ ان ہوش ربا اعدادوشمار سے ڈاکٹر ویوٹ کو وہ مرکزی نکتہ مل گیا جس کی انہیں ضرورت تھی یعنی اگر ایڈز کے پھیلاؤ کی وجہ طوائفوں سے مردوں کے ’’رابطے‘‘ ہیں تو پھر انہیں محفوظ بنانا ہو گا۔ حکومت نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر عصمت فروشی ہو رہی ہے۔ جلد ہی ڈاکٹر ویوٹ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اگر یہ مسئلہ عصمت فروشی کے اڈوں میں پیدا ہوا ہے تو اس کا حل بھی وہیں ملے گا۔