کیا آپ نشے سے چھٹکارا پا سکتے ہیں؟

2

تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ منشیات کے استعمال سے دماغ کے درمیانی حصے کے کام میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ مخصوص طور پر وینٹرل ٹیگمینٹم (Ventral tegmentum)نیوکلیس آکمبس (Nucleus accembus) اور پری فرنٹل کورٹیکس (Pre-frontal cortexکو مہیا کرتے ہیں جس کے نتائج میں حوصلہ افزائی اور مزہ لینے کے سسٹم کا توازن بگڑ جانا شامل ہے اس کے علاوہ فیصلہ کرنے، وجہ تلاش کرنے، مسائل حل کرنے اور ترجیحات مقرر کرنے کی صلاحیتوں حتیٰ کہ زندہ رہنے کی ترجیحات یعنی کھانا اور پینا بھی بُری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ علت اُس وقت پروان چڑھتی ہے جب دماغ کے یہ حصے کسی غلط شے پر متوجہ ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی نشہ آور کیمیکل یا پھر کو ئی اور علت جیسے جواء کھیلنا، جنسی رویّے یا زیادہ کھانا کھا لینا۔

اگر میری طرح کسی کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہو تی جہاں آپ کو اکیلا پن، جذباتی تناؤ کی زیادتی اور پیار کی کمی کے احساس نے گھیرا ہو تو ایسے میں منشیات کا سہارا لینا ایک آسان حل نظر آتا ہے جیسا کہ میرے لیے ہیروئن کا استعمال ایک سکون، تحفظ اور پیار کا ذریعہ تھا جو کہ مجھے لوگوں سے نہیں ملتا تھا۔ ایک بار جب مجھے اس تجربے کا احساس ہوا تو میرے لیے اس کے بغیر زندہ رہ پانا ناممکن تھا۔ ہمارے دماغ میں ایک ایسا کیمیکل پایا جاتا ہے جو منشیات اور دیگر تجربات سے پیدا ہونے والے مزے کا احساس جگاتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں۔ اس نظریے سے کسی بھی علت کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے کہ پہلے یہ ایک ایسے لرننگ ڈس آرڈر کی طرح ہے جیسے اٹینشن ڈیفیسنٹ ہائیپرایٹو ڈس آرڈر (ADHD) یا ڈسلیکسیا۔ جس میں مکمل طور پر ذہانت خراب نہیں ہوتی۔ پھر دوسرا اہم نکتہ ی ہے کہ نشے کی بیماری میں الجھے شخص کے اختیارات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے یعنی مکمل طور پر ارادہ رکھنے کی صلاحیت غائب نہیں ہو سکتی۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے پولیس کے سامنے بیٹھ کر کوئی نشے کا استعمال بالکل نہیں کرتا تاکہ اسے سلاخوں کے پیچھے نہ جانا پڑے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نشے کے حامل انسان اپنی صحت کو بہتر بنانے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔
addiction-1-1تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بہت سارے ایسے پروگرام آ چکے ہیں جن سے نشے سے بحالی متوقع ہے۔ سیکھنے کا عمل یہ واضح کرتا ہے کہ کیوں شراب اور منشیات کی طلب اتنی طاقتور ہوتی ہے اور کیوں اس کے باوجود لوگ نشے کے متحمل رہتے ہیں جبکہ اس کے نقصانات مزے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کیوں وہ غیر منطقی حرکات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بے شک کوئی یہ یقین رکھتا ہو کہ کوئی سا بھی نشہ اس کے بچاؤ کے لیے ضروری ہے اگرچہ دوسروں کی نظر میں اس کی اہمیت نہیں۔ تلخ حقائق کے مقابلے میں پیار محبت جیسی خواہشات سیکھنے کا عمل نسبتاً مختلف ہے۔ جیسا کہ جذبات کے سیکھنے کا عمل ایک بالکل مختلف عمل ہے اُن طریقوں سے جو ہم حساب کتاب کو یاد کرنے میں کرتے ہیں۔ جیسے کہ آپ کو اپنے ہائی سکول کے حساب کو یاد کرنا مشکل ہو گا اور اپنے ہائی سکول کے پہلے پیار کو یاد کرنا نسبتاً آسان۔

مسلسل سیکھنے کے موضوع پر ڈاکٹر صداقت علی کا خصوصی پروگرام دیکھیئے۔

نشے کی بیماری کی شناخت اگر ایک لرننگ ڈس آرڈر کی طرح کی جائے تو اس بحث کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے کہ آیا کہ ایک بڑھنے والی بیماری ہے جیسا کہ ماہرین کی رائے ہے یا محض یہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے جیسا کہ عام طور پر مانا جاتا ہے جبکہ حقیت میں یہ صرف ایک نقصان دہ طریقہ ہے جو روزمرہ کے مسائل سے نبٹنے کے لیے سیکھ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر یہ بیماری دماغ کے ان حصوں پر اثر کرتی ہے جو پیار کے احساس سے منسلک ہیں تو پھر نشے سے بحالی، اپنے کسی پیارے سے علیحدگی کے یکساں ہے جس کا اثر تا عمر ہو سکتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنا مشکل ہوتا ہے اور اکثر نشے کی طرف واپسی ایک جنونی رویہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہ کسی دماغی خرابی کی نشانی نہیں۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments