کیا آپ نشے سے چھٹکارا پا سکتے ہیں؟

3

ایسے میں علاج لاگو کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر نشے کی لت کسی گمراہ پیار کی مانند ہے تو سزا کی بجائے ہمدردی ایک بہتر طریقہ ہے۔ 2007 ء میں کی جانے والی ایک میٹا اینالیسس جس میں پچھلی چار صدیوں کی درجنوں تحقیقات سے پتا یہ چلا کہ ہمدردی سے منسلک علاج روایتی نشے کی علاج گاہ کے علاج سے بہتر ہے۔ ان علاجوں میں کاگنیٹو بیہیوریل تھراپی (CBT) اور موٹی ویشنل انحانسمنٹ تھراپی شامل ہیں۔ مریض کو یہ بتانے کی بجائے کہ وہ اپنی علت کے سامنے بے بس ہیں اُن کی مدد کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات کے ذریعے تبدیل ہونے کا ارادہ کر سکیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری میں دماغ نشے کی تلاش میں مصروف رہتا ہے حالانکہ عام طور پر یہ دوسروں سے معاشرتی رابطہ قائم کرتا ہے۔ تو دماغ کو صحت مند بنانے کے لیے زیادہ پیار کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ مزید درد کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک سخت اور سزا پر یقین رکھنے والے علاج کی کامیابی کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ یہ وہ علاج ہیں جن میں قید اور ذلت سے سہارا لیا جاتا ہے اور روایتی “انٹروینشن” جس میں تمام گھر والے بھی مریض کو عاق کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اس بیماری کے حامل لوگ تو پہلے ہی اپنے بیمار ذہن کی بدولت منفی تجربات سے گزر رہے ہوتے ہیں تو لہٰذا سزا سے تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔
addiction-2-1تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ نشے کی بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور تقریباً تیس سال کی عمر تک لوگ اس پر قابو پانا سیکھ لیتے ہیں اور ان کو یہ علم ہو جاتا ہے کہ کس طرح سے انہوں نے کسی بھی علاج کے بغیر شراب نوشی یا منشیات پر قابو پانا ہے۔ 23 سال کی عمر میں میں نے نشہ ترک کر دیا تھا کیونکہ مجھے اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ نشہ اب مجھے نقصان پہنچا رہا ہے۔

رویوں کو کیسے تبدیل کریں؟ ڈاکٹر صداقت علی کی ویڈیو دیکھیئے۔

ایسا اس لیے بھی ممکن ہوا کہ میں جسمانی طور پر بھی اس قابل ہو چکی تھی کہ میں ایسا کر سکوں۔ نوجوانی کے دوران وہ توانائی جو ہمیں اس کے لیے ابھارتی ہے کافی طاقتور ہو چکی ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے تقریباً بیس سال کے بعد ہی ہمیں اس بات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانی میں نشے کی بیماری ہو جانے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح سے پختگی آنے پر مجھے علم ہوا اور اس سے میری کافی مدد بھی ہوئی۔ اس وقت تمام علاج گاہوں میں جو علاج فراہم کیا جاتا تھا اس پر بارہ قدموں پر مشتمل پروگرام ہی کروایا جاتا تھا جو کہ صرف کچھ افراد کے لئے ہی فائدہ مند ثابت ہوا۔ حتٰی کہ آج بھی بہت ساری علاج گاہوں میں جو علاج کیا جاتا ہے اسی طرح اس بالا تر ہستی کے سامنے اپنی مرضی کو جھکانا ، دعا کرنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا جیسے مراحل پر مشتمل ہے۔ ہم کسی بھی اور بیماری کے علاج میں اتنی زیادہ اخلاقیات کو لے کر نہیں آتے جتنا کہ ہم اس بیماری میں اہمیت دیتے ہیں اور لوگوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح اپنے ماضی کے رویوں پر معافی مانگنی ہے جبکہ ایسا شیزوفرینیا یا ڈپریشن سے بحالی کے علاج میں نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ جب ہم یہ جان لیں گے کہ نشے کی بیماری کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ ایک ذہنی عمل ہے تو ہم اس طرح سے وہ تمام منطقوں کو رد کر سکتے ہیں جوکہ کام نہیں آتیں اور بحالی پر زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔

اگرچہ نشے کی بیماری کو برقرار رکھنے والی جنونیت صحت مند کاموں کی طرف لگائی جا سکتی ہے جس سے بہت سے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود مریض کو بار بار کا رد کرنا نشے کی طرف لے جاتا ہے بلکہ بطور مصنف یہ میرے لیے بھی ناگزیر رہا اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی قابلیت ایک خزانے کی مانند ہے۔ لوگوں کو بس یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح انہوں نے اس قابلیت کو نشے کی بحالی کی طرف اور ایک مثبت راہ میں تبدیل کرنا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments