چرس اور ذہنی صحت

2

چرس کے پودے میں اوسطاً ساٹھ مرکبات اور چار سو اکیس کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔ چار مرکزی مرکبات کے نام ڈیلٹا نائن ٹیٹراہائڈروکینابینول (ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی)، کینا بیڈیول، ڈیلٹا ایٹ ٹیٹراہائڈروکینابینول اور کینابینول ہیں۔ کینا بیڈیول (سی بی ڈی) کے علاوہ یہ مرکبات ذہن پر اثر انداز ہونے والے ہیں جن میں سے سب سے طاقتور ڈیلٹا نائن ٹیٹراہائڈروکینابینول ہے۔ پودے کی طاقتور ترین اقسام میں تھوڑا سا کینا بیڈیول (سی بی ڈی) جبکہ ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔

جب چرس استعمال کی جاتی ہے تو اس کے مرکبات تیزی سے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور براہ راست دماغ اور جسم کے دیگر اعضا میں پہنچ جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی کے دماغ میں موجود کینابائیونائڈ کر ریسیپٹرز سےملنے سے نشہ آور یا خمار کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ دماغ کے خلیات میں ریسیپٹر ایک ایسی جگہ ہے جہاں مخصوص مادے کچھ عرصے کے لیے رک یا جڑ جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو اس کا اثر اس خلیے اور اس سے پیدا ہونے والے سگنل پر ہوتا ہے جنھیں اینڈوکینابائینوائڈز کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ خود قدرتی طور پر چرس کی طرح کے مادے پیدا کرتا ہے۔ زیادہ تر ریسیپٹرز دماغ کے اس حصے میں پائے جاتے ہیں جو لذت، یادداشت، خیالات، توجہ، حسیات اور وقت کے ادراک کو متاثر کرتا ہے۔ چرس کے مرکبات آنکھوں، کانوں، جلد اور معدے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ چرس کے خوشگوار اثرات میں خمار، سکون، خوشی، خواب آور کیفیت، رنگ مزید خوبصورت اور موسیقی زیادہ پر لطف لگتی ہے۔

ناخوشگوار اثرات تقریباً دس میں سے ایک چرس استعمال کرنے والوں پر ناخوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں اپنے ہوش و حواس میں نہ رہنا، غیبی آوازیں سنائی دینا یا چیزیں نظر آنا، گھبراہٹ اور بلاوجہ شکوک و شبہات ہونا شامل ہیں۔ موڈ اور حالات کی مناسبت سے ایک ہی شخص پر خوشگوار یا ناخوشگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ احساسات عام طور پر وقتی ہوتے ہیں، تاہم جیسا کہ یہ نشہ آور شے کئی ہفتوں تک جسمانی نظام میں رہ سکتی ہے اس کے اثرات استعمال کرنے والوں کی توقع کے برعکس زیادہ عرصے تک بھی موجود رہ سکتے ہیں۔ زیادہ عرصے چرس استعمال کرنے سے ڈپریشن بھی ہو سکتا ہے اور جوش و جذبے میں کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔

لوگوں کے کام پر بھی چرس کے اسی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چرس سے صحت پر کوئی مخصوص خطرات مرتب ہوتے ہیں تاہم چرس استعمال کرنے والے افراد میں اس بات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کہ وہ بغیر اجازت کے کام چھوڑ کر چلے جائیں، کام کے اوقات میں ذاتی کام کرتے رہیں یا محض خیالی پلاؤ پکاتے رہیں۔ چرس استعمال کرنے والے خود اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس کا استعمال ان کی پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

کچھ اقسام کے کام زیادہ محنت یا توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ پائلٹوں پر چرس کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ انہوں نے چرس کے استعمال کے بعد اہم اور معمولی دونوں کی طرح کی غلطیاں زیادہ کیں بہ نسبت اس وقت کے جب انھوں نے چرس کا استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ تجربہ اصل فلائٹ کے بجائے فلائٹ سیمولیٹرز میں کیا گیا۔ بدترین اثرات ابتدائی چار گھنٹوں میں رہے اور چوبیس گھنٹے برقرار رہے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب پائلٹوں کو اپنے نشے میں ہونے کا اندازہ نہ تھا۔ اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا، “اس شہادت کے پیش نظر ہم میں سے بیشتر افراد ایسے پائلٹ کے ساتھ سفر کرنا پسند نہیں کریں گے جس نے پچھلے ایک دو دن کے دوران چرس پی ہو۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments