چرس اور ذہنی صحت

3

اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ ایسے افراد جو ذہنی بیماریوں مثلاً ڈپریشن اور سائیکوسس میں مبتلا ہوں ان میں چرس کے حالیہ یا ماضی میں استعمال کا امکان اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ چرس کے باقاعدہ استعمال سے سائیکوسس یا شیزوفرینیا کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ چرس ڈپریشن اور شیزوفرینیا کا سبب بن سکتی ہے یا ان مسائل کا شکار افراد اس کو بطور دوا استعمال کرتے ہیں۔

پچھلے چند سالوں میں ہونے والی تحقیق نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ جینیاتی طور پر متاثرہ افراد میں چرس کے استعمال اور بعد میں ہونے والے ذہنی صحت کے مسائل میں واضح تعلق پایا جاتا ہے اور یہ کہ نوجوان لوگوں میں چرس کے استعمال کے حوالے سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر کئی سالوں تک تین اہم تحقیقات کی گئیں جن سے پتہ چلا کہ چرس کا استعمال کرنے والے افراد میں شیزوفرینیا ہونے کے امکانات دوسرے لوگوں سے زیادہ ہیں۔ اگر آپ پندرہ سال کی عمر سے پہلے اس کا استعمال شروع کر دیں تو چھبیس سال کی عمر تک پہنچنے تک آپ میں سائیکوسس ہونے کے امکانات چار گنا زیادہ ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی شخص چرس کی جتنی زیادہ مقدار استعمال کرے گا اتنا ہی اس میں یہ علامات پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہو گا۔

نوعمر افراد کو چرس کے استعمال سے نقصان پہنچنے کا خصوصاً زیادہ احتمال ہوتا ہے اس کا تعلق دماغی نشوونما سے ہو سکتا ہے۔ نوعمری میں بھی بیس سال کی عمر تک دماغ کی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے اور ‘نیورل پروننگ’ کا غیرمعمولی عمل جاری ہوتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے برقی سرکٹوں کے ایک پیچیدہ ہجوم کو ترتیب دیا جائے تاکہ وہ زیادہ موثر طریقے سے کام کر سکیں۔ ایسا کوئی بھی تجربہ یا مادہ جو اس عمل کو متاثر کرے طویل مدتی نفسیاتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

یورپ اور یو-کے میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وہ افراد جن کے خاندان میں دماغی بیماریاں رہی ہوں اور جن کو جینیاتی طور پر ان مسائل کا زیادہ احتمال ہو اگر وہ چرس کا استعمال کریں تو ان میں شیزوفرینیا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈنمارک میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چرس کے استعمال سے واقعی سائیکوسس ہو سکتا ہے۔ یہ ایک مختصر مدت کی سائیکوسس کی بیماری ہوتی ہے جو چرس کے استعمال سے شروع ہو جاتی ہے تاہم اگر اس کا استعمال روک دیا جائے تو بہت جلدی ختم بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ بیماری بہت کم ہوتی ہے، پورے ڈنمارک میں ایک سال میں اس کے صرف سو نئے کیسز نظر آتے ہیں۔

چرس میں نشے کی عادی بنانے والی اشیا کی کچھ خصوصیات پائی جاتی ہیں مثلاً ٹولرنس یعنی وہی سرور حاصل کرنے کے لیے کچھ وقت کے بعد زیادہ مقدار میں چرس استعمال کرنے کی ضرورت پڑنے لگنا۔ شدید طلب، بھوک میں کمی، نیند کی خرابی، وزن میں کمی، جارحیت اور / یا غصہ، چڑچڑا پن، بے چینی، عجیب و غریب خواب وغیرہ ہیں۔ چرس کا استعمال ۱۵ فیصد لوگوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے لیکن جس کو یہ موافق نہیں آتی اس پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔

چرس کی بیماری میں مبتلا شخص کو باقاعدہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو کے ان ڈور بنیادوں پر کیا جاتا ہے جس کے لیے ڈاکٹر اور سائکالوجسٹ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج کے لیے کسی اچھی علاج گاہ کا انتخاب بہت ضروری ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments