نشے کی وجوہات: یہ وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں

2

سننے میں یہ کہانی تھوڑی عجیب لگی ہو گی مگر اس کے پیچھے ایک مکمل تھیوری ہے جو چوہوں پر تجربات کرنے کے بعد منظر عام پر آئی۔ اس کی شہرت اس کے وجود سے تھوڑی دیر بعد 1980 میں ہوئی۔ جب امریکہ سائیکالوجی سوسائٹی کا حصہ بنا اور منشیات سے آزاد امریکہ کہ آواز بنی۔ یہ ایک عام مفہوم اور آسانی سے یاد رہ جانے والا تجربہ ہے۔ ایک چوہے کو ایک پنجرے میں بند کیا اس پنجرے میں خوراک کے ساتھ تین پانی کی بوتلیں رکھی گئیں۔ ایک بوتل صاف پانی جبکہ باقی میں ہیروئن اور کوکین ملائی گئی۔ جتنی بار بھی تجربہ دہرایا گیا تو چوہا بار بار نشے والے پانی کی طرف کھینچا چلا آتا۔ بار بار اسی کو پیتا حتیٰ کہ اس پیتے پیتے اس کی موت ہو گئی۔

کافی غوروفکر کی اس تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ایک نشہ ایسا ہے جسے دس میں سے نو چوہوں نے پیا اور اس کی علت ہو گئی اور موت واقع ہونے تک بار بار سے ہی پیا اور اس کی علت ہو گئی اور موت واقع ہونے تک بار بار صرف اسے ہی پیا اور وہ نشہ کوکین ہے۔ کوکین آپ کے ساتھ بھی تو ایسا ہی کرتی ہے اگر آپ کو اس کی علت ہو جائے تو۔ 1970 میں یہ تجربات ابھی ہوئے ہی تھے کہ ایک سائیکالوجی کے پروفیسر بروس الیگزینڈر نے ان تجربات میں ایک چیز نوٹ کی کہ پنجرہ میں صرف ایک چوہے کو رکھا جاتا ہے اور اس کے پاس نشہ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے اس تجربے کو مختلف طریقے سے کرنے کے بارے میں سوچا۔ انہوں نے چوہوں کا ایک پارک تعمیر کیا۔ یہ جیسے چوہوں کی جنت تھی۔ جہاں ان کے کھیلنے کے لیے رنگ برنگ گیندیں، ان کے پسندیدہ کھانے، اُن کے ٹہلنے کے لیے غاریں اور بل اور بہت سارے دوست اور ہر وہ آسائش جس کا چوہوں نے کبھی تصور کیا ہو گا۔ پروفیسر الیگزینڈر جاننا چاہتے تھے کہ ایسی صورت حال میں کیا ہوتا ہے۔
addiction-1چوہے نہیں جانتے تھے کہ بوتلوں میں کیا ہے۔ اکثر چوہوں نے باری باری نشے والی دونوں بوتلوں سے پانی پی لیا اور نتائج بھونچکا دینے والے نکلے۔ تندرست اور خوش رہنے والے چوہوں نے نشہ ملا پانی پینا بند کر دیا۔ انہوں نے اسے صرف چکھا اور دوبارہ کبھی نہ منہ لگایا۔ انہوں نے لگ تھلگ رہنے والے چوہوں کی نسبت ایک چوتھائی نشیلا پانی استعمال کیا اور ان میں سے کوئی بھی نہ مرا۔ ایسے تمام چوہے جو الگ تھلگ رہتے تھے اور ناخوش تھے انہوں نے نشے کا کثرت سے استعمال شروع کر دیا۔

چوہوں کے ان تجربات کو جاری رکھا گیا۔ اب پروفیسر الیگزینڈر نے ان آسائش میں رہنے والے چوہوں کو مشکل والے پنجروں میں منتقل کر دیا۔ اب یہ اکیلے اکیلے تھے اور انتخاب بھی بہت کم۔ وہ نشہ کی لت میں پڑ گئے۔ انہوں نے چوہوں کو ستاون دن تک نشہ کرنے دیا تاکہ جدید نشے کے تصورات کے مطابق زیادہ سے زیادہ اتنے دن بعد بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ پھر انہوں نے چوہوں کو تنہائی سے نکال کر پارک میں ڈال دیا جہاں وہ ساتھیوں کے ساتھ خوش رہ سکتے تھے۔

نہ چاہے جانے کے احساس پر ڈاکٹر صداقت علی کی یہ ویڈیو دیکھیئے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments