نشے کی وجوہات: یہ وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں

3

پروفیسر الیگزینڈر یہ جاننا چاہتے تھے کہ نشے سے پیدا ہونے والی دماغی کیمیائی تبدیلیوں کے بعد نشہ کیسے جکڑ لیتا ہے؟ اب ان کے ساتھ کیا ہو گا؟ مگر اب بھی چوہوں پر حیران کن نتائج سامنے آئے۔ چوہے کچھ جسمانی دردوں، تکلیفوں اور جھٹکوں کے بعد ٹھیک ہو گئے اور نشہ والی بوتل کی طرف واپس نہ گئے۔ وہ صحت مند زندگی گزارنے لگے۔ اچھے پارک کے اچھے طرز زندگی نے انہیں بچا لیا۔ اس تجربہ میں پہلے تو مجھے لگا کہ یہ چوہوں کی پارک میں ایک غیر متوقع حرکت یا عادت ہے۔ لیکن اب میری حیرت کی انتہا نہ تھی جب انہی دنوں میں چوہوں کی تجربہ گاہ جیسے حالات میں انسانوں کو دیکھا۔ یہ انسان ویت نام جنگ میں الگ الگ ہو بہو ایسے تھے جیسے پارک میں چوہے۔ ٹائم میگزین میں خبریں سرگرم تھیں کہ فوجی جنگ میں ہیروئن ایسے استعمال کر رہے تھے جیسے لوگ چیونگم کھاتے ہیں۔ تقریباً 20 فیصد امریکی فوجیوں کو ہیروئن کی علت ہو چکی ہے۔ ایک امریکن جرنل آف سائیکائٹری نے بھی اپنے ایک مطالعہ میں یہ بات شائع کی کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے گھروں کے سربراہان ہیں۔
header-3مگر 95 فیصد نشے کے مریض فوجیوں نے اپنی عملی زندگی میں ہی چوہوں کی تجربہ گاہ کے صحیح ہونے کی تائید کر دی جیسے ہی ان کو خوشگوار حالات میں واپس بھیجا گیا یعنی وہ گھر واپس گئے تو بالکل ٹھیک ہو گئے اور نشہ چھوڑ دیا۔ ان کے حالات بھی بہتر ہو گئے جسے چوہوں کے برے پنجرے سے نکال کر پارک میں ڈالے گئے ہوں ان میں سے کچھ لوگ علاج گاہوں میں بھی گئے مگر بہتر ہو گئے۔ پروفیسر الیگزنیڈر نے اپنے اس تحقیق کے بنا پر رائٹ ونگ والوں کو بیرل خیال والے لوگوں کو کھلم کھلا چیلج کر دیا۔ کیونکہ رائٹ ونگ والے کہتے ہیں کہ نشہ اخلاقی ہے جو کہ بہت سکون اور عیش کی تلاش وجہ سے ہے اور بیرل خیال کے مطابق یہ ایک بیماری ہے جو کہ دماغ میں کچھ کیمکل خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جس میں نشہ کیمکل کو اپنے مطابق بدل دیتا ہے۔ پروفیسر الیگزنیڈردر حقیقت یہ وضاحت کی کہ نشہ کرنا ایک مطابقت ہے اور یہ نشہ کی مطابقت ایک لاچارگی کا پھندا ہے۔ جب مجھے بھی پہلی بار اس حقیقت کا پتا چلا تو میں بھی بہت شش و پنج میں تھا۔ یہ کسے ہو سکتا ہے؟ اس نئی تھیوری نے ہمارے نشے کے مطابق پہلے علم پر ایک شدت پسندانہ حملہ کر دیا۔ ہم کبھی یہ سننا نہیں چاہیں گے کہی یہ ایک تھیوری سچ ہے۔ مگر جتنا زیادہ میں نے لوگوں کو اس کی ریسرچز کو پڑھا انٹرویو کئے اور علم کھلا تو مجھے یہی تھیوری حقیقت ملی۔ یہ اس تحریر کی ایک مثال ہے جو آپ کے ارد گرد ہر وقت دیکھتے ہیں۔ اگر آپ بھی اس میں دل چسپی لیتے ہیں تو ایک دن آپ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ اپنی حدود کو قائم نہیں کریں گے تو ایک دن آپ کی زندگی میں نشے کا تباہ کن دخل ہو گا۔آپ کو اس کی علت بھی ہو سکتی ہے۔ پھر آپ کو ہو سکتا ہے ہسپتال میں علاج میں ڈایا حوفین دی جائے جو گلی بازاروں میں ملنے والی ہیروئن سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ملاوٹ سے پاک ضروریات کیلئے دوبارہ گلی بازاروں والی ہیروئن پر گئزارا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک کنیڈین ڈاکٹر گابر میٹ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مجھے یہ بتایا کہ ہسپتال میں ملنے والی ہیروئن آپ کو نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ گلی بازاروں والی تباہ کر دیتی ہے۔ اس ساری تحقیق کے بعد اب بھی آپ یقین رکھتے ہیں کہ آپ اس کے عادی ہیں اور کیمیائی تبدیلیوں کے نشے کے پھندے میں آ گئے میں تو یہ بات قابل فہم بات نہیں لگتی۔لیکن اگر آپ پروفیسر الیگزینڈر کی بات پر یقین رکھتے ہیں تو یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ اس کے مطابق گلی بازاروں کی ہیروئن پہلے والے لوگ ان چوہوں کی طرح ہیں جو رنگ رنگ والے پنجروں میں قید ہیں اور ہسپتال میں ہیروئن لینے والے ان چوہوں کی طرح میں جو اچھے پارک میں ہیں یہاں بہت سارے لوگ اس سے پیار کرنے والے ہیں۔ نشہ ایک ہی ہے مگر حالات مختلف ہیں۔ یہ بات ہمیں بصیرت دیتی ہے کہ نشہ کرنے والے کو سمجھنے کے لیے پہلے نشہ کے مرض کو سمجھیں۔ پروفیسر یییٹر کوہن یہاں انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس سے ہمیں تسکین ملتی ہے۔ اگر ہم انسان ایک دوسرے کے ساتھ میں جڑے تو جو چیز ملتی ہے ہم اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ چاہے وہ ایک نشے میں گھومنے والا نشہ کا چکر ہو اس میں بہت ساری سوئیاں اور سرنجوں کی چبھن ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایڈکشن کو ایڈکشن نہیں کہنا چاہیئے بلکہ بانڈنگ یا گرفت کا رشتہ کہنا چاہیئے۔ تو نشے کا حل یا متضاد نشے سے احتساب نہیں ہے بلکہ انسانوں کا آپس میں جڑنا اور قابل بھروسہ رشتہ بنانا ہے۔

نہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نشے کی علت کے بارے میں سب جانتے ہیں، تو یہ سہی نہیں: ٹیڈ ٹاک

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments