نشے کی وجوہات: یہ وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں

5

جب میں یہ سب کچھ سیکھ چکا اور یہ مجھے مرغوب کرنے لگا مجھے لگا کہ میں اب بھی مکمل طور پر ایڈکشن کے متعلق اپنے پچھلے علم جھٹلا نہیں پا رہا۔ کیا یہ سارے سائنسدان یہ کر رہے ہیں کہ کیمیکلز کا یا نیور و ٹرانسمیٹرز کا کوئی تعلق نہیں؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں نے وضاحت مانگی تو بتایا گیا کہ جب آپ کو جوا کھیلنے کی علت پڑ جائے تو اس کا مطلب آپ کو تاش کے پتے سرنج میں بھر کر لگائے جاتے ہیں؟ آپ کو کسی بھی قسم کا نشہ ہو سکتا ہے اس میں کیمیائی مادے نہیں ہوتے۔ اس چیز نے میرے تجسس کو اور بڑھا دیا۔ اب میں لاس ویگس میں جوا کی انانمس میٹنگ میں یہ اجازت مانگ کر گیا کہ میں ایک مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں میں حیران ہوا۔ آپ یقین کریں وہ لوگ بھی نشے میں مبتلا تھے جسے ہیروئن اور کوکین والے۔ لیکن انہوں نے تو جوا کی میز سے کوئی کیمیکل نہیں لیا تھا۔ لیکن اب میں یہ بات بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کیمیائی مادوں کا کچھ تو عمل دخل ہوتا ہے۔
addiction-3میں آپ کو اس سوال کا ایک جامعہ مگر مختصر جواب رچرڈ دی گرانڈیر کی کتاب دی کلٹ آف فارما کالوجی میں لکھتے ہیں ایک سائنسی تجربہ سے بتا سکتا ہوں جو یہ ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی اس بات سے متفق ہے کہ سگریٹ نوشی دنیا کے ایک بڑے نشوں میں سے ایک نشہ ہے کہ کیمیائی ہک یا جکڑ نکوٹین سے ہوشار رہیں جو سگریٹ تمباکو میں ہوتی ہے۔ جب 1990 میں نکوٹین متعارف کروائے گئے تو ایک افواہ اڑی کہ سگریٹ پینے والے کیمیائی مادے نکوٹین کسی جان پیدا نقصا ن کے بغیر لے سکتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر سرجن جرنل کے آفس سے رپورٹ بتائی ہے کہ صرف 17.7% لوگ ہی نکوٹین پیچ سے سگریٹ چھوڑ سکے۔ اگر اس رپورٹ کے مطابق کیمیائی ہک صرف 17.7% سے تو اب تک دنیا میں لاکھوں لوگ اپنی زندگی تباہ کر چکے ہیں۔ اس دہائی میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ہم صرف نشے کی وجوہات ڈھونڈنے پر زیادہ زور دے رہے ہیں جو کہ اس ساری فلم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ان ساری چیزوں کا اطلاق ایک سو سال پرانی نشے کی جنگ سے ہوتا ہے جس میں میں نے چوکیدار سے لے کر لیور پول تک مرتے دیکھا ہے۔ جس میں صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ان کیمیائی مادوں کو جسم اور دماغ سے باہر نکالنا اور نشے سے پاک ہونا۔ ان ساری باتوں کے نتیجے میں اب یہ نہیں کہ نشے کی علت کیمیائی مادوں کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے آپس میں رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور صرف یہی ایڈکشن کی حقیقت ہے۔ اب یہ بات بھی فہم عام نہیں لگتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نشے کے خلاف اس جنگ نے اب تک مشکلات اور نشے کی ان وجوہات کو صرف بڑھایا ہے۔ مثال کے طور پر میں ارذوتا کی ایک جیل میں گیا جہاں نشے کرنے والوں کو سزا دی جاتی تھی اور سزا کے طور پر ہفتوں پتھر کی ایک چھوٹی سی غار میں رکھا جاتا تھا۔ یہاں انسان بالکل ان چوہوں کی طرح قابل رحم حالت میں تھے جو اکیلے پنجروں میں بند کر دیے جاتے تھے اور موت ہی ان کا انت تھی۔ اگر یہ قیدی بچ بھی جائیں گے تو ان کے مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے باہر ان کو کوئی نوکری نہیں دے گا ، معاشرہ قبول نہیں کرے گا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ میں نے دنیا میں گھومتے پھرتے انسانوں کے ساتھ ایسا ہوتے عام دیکھا ہے۔

اب اسکا متبادل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم ایک ایسا سسٹم بنا دیں جو لوگوں کی اس طرح مدد کرے کہ ان کی ایڈکشن چھوڑ کر لوگوں کو آپس میں جوڑنا شروع کر دے۔ یہ صرف کہنے کی حد تک نہیں ہے ایسا عملی طور پر ہو رہا ہے۔ میں نے اسے تقریباً 15 سال پہلے دیکھا۔ پرتگال میں نشہ کے مسائل پورے یورپ کی نسبت شدید تھے۔ ان کی تقریباً ایک فیصد آبادی ہیروئن کی علت کا شکار تھی۔ انہوں نے منشیات کے خلاف جنگ لڑنا شروع کی تو حالات مزید خراب ہو گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بالکل الٹ کریں گے۔ انہوں نے منشیات سے مجرمانہ پابندی ہٹادی اور جتنا پیسہ لوگوں کو جیلوں میں بند کرنے اور گرفتار کرنے پر لگاتے تھے۔ وہ مریضوں کی بحالی پر لگانا شروع کر دیا۔ اس ساری صورتحال میں ان کا مشکل کام بحالی کے لوگوں کو محفوظ گھر دینا، نوکری کے قابل بنانا اور جینے کا مقصد دینا تھا۔ جو انہیں بری حالت سے باہر نکال دے ۔ مثال کے طور پر نشے کے کچھ عادی لوگوں کو بحالی کے دوران ایک گروپ بنا کر دیا گیا اور فرض دیا کہ وہ لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کا ایک ادارہ چلائیں۔ اچانک دیکھا گیا کہ اس گروپ کا آپس میں اور سوسائٹی کے ساتھ ایک گہرا تعلق بن گیا اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کا محافظ سمجھنے لگا۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • اگلا صفحہ:
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments