نشے کی وجوہات: یہ وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں

6

برطانیہ کے کریمنالوجی کے جرنل میں ایک ریسرچ شائع کی گئی جس میں بتایا گیا کہ جب سے منشیات پر پابندی ہٹا دی گئی منشیات کے عادی کم ہو گئے ہیں اور ٹیکہ لگانے والے نشہ کا استعمال 50% کم ہو گیا ہے۔

جوآوفیگوزیا اپنے ملک ایک مشہور پولیس آفیسر ہے۔ انہوں نے منشیات پر پابندی ہٹوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ہر وہ خطرناک وارننگ دے کر دیکھ لی تھی جسے ہم اخبار، ٹی وی پر سنتے یا دیکھتے ہیں۔ مگر جب انہوں نے پابندی ہٹا دی تو ان کے متوقع خطرناک نتائج سے بھی کم خطرناک مسائل سامنے آئے۔ آج لوگ پرتگال کی مثال دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ میری کوشش صرف نشہ کرنے والے ان لوگوں تک محدود نہیں تھی جن سے میں پیار کرتا ہوں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔ ہمیں اپنے لیے مختلف انداز میں سوچنا چاہیئے۔ انسان ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر رہنے والے ہیں۔ جڑ کر رہنا، پیار کرنا ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ بیسویں صدی کا سب سے دانشمند فقرہ “جڑ کر بھروسہ کر کے جیو” ہے۔ لیکن ہم ایسی ثقافت کو پامال کر رہے ہیں جب لوگ الگ تھلگ رہنا رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہم آج صرف انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ نشہ بازی کی لت اس وقت بڑتی ہے جب ہمارے جینے کے طریقے بیمار ہوتے ہیں۔ ہم انسانوں کی بجائے نت نئی چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
addiction-2ایک مشہور مصنف جارج جوبینٹ اپنی کتاب “تنہائی کی عمر” سے لیبل کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ایسی بستیاں بنا رکھی ہیں جہاں انسان آسانی سے ایک دوسرے سے قطع تعلق ہو جاتے ہیں اور یہ شدت پہلے کے زمانے سے بہت زیادہ ہے۔ پروفیسر الیگزینڈر چوہوں کے پارک کے تجربات کی بنا پر کہتے ہیں کہ اب ہمیں انفرادی بحالی کی بجائے اجتماعی بحالی پر توجہ دینی چاہیئے۔ ہمیں بحالی چاہیئے اس بیماری سے جو ہمیں تنہا کر دیتی ہے اور دھند کی طرح جو ہمیں لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اب یہ نئے سائنسی ثبوت بالکل سیاسی نہیں ہیں اور یہ صرف اس چیز پر زور نہیں دیتے کہ ہمیں اپنے دماغوں کو بدلنا چاہیئے بلکہ ہمیں اپنے دلوں کو بدلنا ہو گا۔
نشے کے عادی سے محبت کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اب میں کسی بھی نشے کے عادی فرد کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس پر پیار آتا ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں اس سے سچی محبت کروں میں اس کے ساتھ ٹف لَو کے طریقوں سے برتاؤ کروں اور انٹروینشن سے اسے حقیقت دکھاؤں۔ ہر نشے کے عادی کو بتاؤں کہ بہت ہو چکا زندگی اب بھی منتظر ہے۔ منشیات کی جنگ ہمیں سکھاتی ہے کہ جو نہیں رک سکتا اسے نظر انداز کر دو یا زبردستی کرو ان کی زندگیوں کے ساتھ۔ لیکن میں نے تو یہی سیکھا ہے کہ اگر آپ ایسا کرو گے تو نشہ کے ساتھ ان کو بھی کھو دو گے۔ میں اس ارادہ سے گھر آیا کہ نشے کے ہر عادی کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ قریب رکھوں گا۔ انہیں بتا دوں گا کہ میرا پیار بنا کسی شرط کے ہے چاہے آپ نشہ چھوڑو یا نہ چھوڑو۔
جب میں اس سفر سے واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ میرا ایک دوست میرے ایک بستر پر پڑا نشہ چھوڑنے کی شدید دردوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہے اور میرے ایک فالتو بستر پر لیٹا ہوا ہے۔ اب میں بالکل مختلف انداز میں اس کے بارے سوچ رہا ہوں۔ ایک سو سال سے ہم منشیات اور نشہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کے گیت گا رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اب وہ جنگ ختم کر رہا ہوں۔ ہمیں نشہ کرنے والوں کے لیے پیار اور محبت کے گیت گانے چاہییں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments