آج سے تقریباً ایک سو سال پہلے منشیات پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی منشیات کے خلاف ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گئی۔ اب ہمیں اس کے خلاف لڑتے ایک صدی گزر گئی ہے مگر حالات بے قابو ہیں۔ یہ منشیات کے بارے میں وہ کہانی ہے جو ہمارے اساتذہ، بڑوں اور گورنمنٹ نے ہمیں سنائی اور سناتے آ رہے ہیں۔ یہ کہانی ہمارے ذہن میں نقش کندہ ہے اور ہم اسے یقین کامل کی طرح مانتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہی تو حقیقت ہے۔ میں خود بھی اس عقیدے کا پیروکار ہوں۔ پھر میں نے اس کی تلاش میں ایک لمبا سفر شروع کر دیا جو تیس ہزار میل لمبا اور ساڑھے تین سال پر مشتمل تھا۔ مقصد صرف یہی جاننا تھا کہ آخر ایسی کون سی طاقت یا راز ہے جو اس جنگ کو چلائے ہوئے ہے۔ اس سارے سفر پر میں نے اپنی ایک کتاب بھی لکھی جس کا عنوان “چیخوں کا تعاقب ” ، “نشے کی جنگ ابتدا سے انتہا تک” رکھا۔ یہاں پر تو ایک مختلف ہی کہانی ہمارا انتظار کر رہی ہے اگر ہم سننے کے لیے تیار ہو جائیں۔

upper

Johann Hari

جان ہاری ایک برطانوی صحافی ہیں جن نے بہت سے مشہور زمانہ میگزین نیویارک ٹائمز، دی لاس اینجلس ٹائمز، دی نیو ری پبلک، دی نیشن، دی سڈنی مارننگ، ہیرالڈ، ای مونڈو، لی مونڈی اور بہت سارے دوسرے میگزینز میں لکھ چکے ہیں۔ انہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے دوبار “سال کا بہترین نیشنل صحافی” کا خطاب مل چکا ہے ۔ ان کی تصانیف میں “چیخوں کا تعاقب ” اور “نشے کی جنگ ابتدا اور انتہا تک” بھی شامل ہیں۔

ایڈیٹر: اقرا طارق

lower

تو اگر ہم اس کہانی کو حقیقی معنوں میں ذہن نشین کر لیں تو ہمیں خود میں ایک اتنی بڑی تبدیلی لانی پڑے گی جو اس نشے کی جنگ سے بھی بڑی ہے۔ ہمیں تو اپنے آپ کو ہی بدلنا پڑے گا۔ میں نے دوران سفر بالکل ہی مختلف نسلوں کے لوگوں کے جھنڈوں سے ہی سیکھا جیسے بل ہالی ڈے پر میوزک سن کر نشہ چھوڑنے میں کامیاب ہونے والی ایک لڑکی نے مجھے بتایا کہ نشہ کے خلاف جنگ نے نشہ کرنے والے لوگوں کے دل میں اتنی نفرت بھر دی ہے کہ مجھے برباد کرنے میں نشہ کے ساتھ ساتھ لوگوں نے بھی بھر پور حصہ لیا۔ ایک یہودی ڈاکٹر نے اپنے روبرو کیے جانے والے ظالمانہ تجربات کے بارے میں بتایا کہ اسے بچپن میں ایک بدھ مت گرو نے اپنی گود میں لے لیا اور اسے نشہ کرواتا رہا۔ صرف یہ جاننے کے لیے کہ جب یہ جوان ہو گا تو نشہ کے اس پر کیا اثرات رہیں گے۔ ایک ہم جنس پرست لڑکے نے اپنے دکھ کا اظہار یوں کیا کہ اس کے والد نے اپنے ایک آفیسر کے ساتھ مل کر اس کی ماں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس کی ماں کوکین کا نشہ کرتی تھی اور ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کوکین کا نشہ کرنے والی عورتوں پر جنسی تشدد کیا جائے تو وہ کیا تاثر دیتی ہیں۔

addiction-5

ڈرگ ایڈکشن کے موضوع پر ڈاکٹر صداقت علی کا خصوصی انٹرویو دیکھیئے۔

ایسے ہی بہت سارے سوالات میرے ذہن میں بھی تھے اور ان کے جوابات ڈھونڈنے کی وجہ بالکل میری ذاتی خواہش تھی۔ جیسے اگر میں اپنے بچپن کی یاد تازہ کروں تو پہلی یاد یہ آتی ہے کہ میں اپنے نشہ کرنے والے رشتہ کو کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر میں نہیں کر پا رہا۔ تھوڑی اور عمر گزری تو میری ایک بہت قریبی رشتہ دار ہیروئن کے نشہ میں اور میں اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا اور مجھے لگنے لگا کہ اب جیسے ایڈکشن ہی میرا گھر ہے۔ اس وقت سے اب تک میں نشے کے ان اسرارورموز کو اپنے ذہن میں کرید رہا ہوں۔ آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ آدمی اگر ایک بار نشہ کی علت میں پڑ جائے تو اسے بذات خود نہیں روک سکتا۔ ہمیں ایسا کیا کرنا چاہیئے کہ یہ لوگ زندگی کی طرف واپس لوٹ آئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اس سفر سے پہلے آپ مجھ سے پوچھتے کہ نشے کی کیا وجوہات ہیں تو میں آپ کو بیوقوف اور سنکی سمجھتا اور کہتا “جیسے آپ کو تو پتہ ہی نہیں ہے ناں؟؟” اور یہ میں نے اپنی زندگی میں کیا بھی۔ بلکہ ہم سب کرتے ہیں اور بہت سارے لوگ تو اب بھی کر رہے ہیں۔ نشے میں جکڑنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم بیس دن ایسی گلی سے گزریں جہاں لوگ نشہ ہی کرتے رہتے ہیں۔ ہم ان سے اس بارے میں اور بات کریں تو اکیسویں دن لاشعوری طور پر ہمارا جسم نشہ کا مطالبہ کر دے گا۔ ہمیں لگنے لگے گا کہ یہ تو ہماری ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ان چاہی مگر شدید نشے کی طلب ہو سکتی ہے۔ مطلب ہم بھی نشہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہی تو ایڈکشن ہے اور یہی تو اس کی حقیقت ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6