پانچ چیزیں جو بڑے ہو کر ہم بھول گئے

2

بظاہر یہ تمام مثالیں فکشن کی دنیا سے لی گئی ہیں۔ لیکن حقیقی دنیا کے معاملات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔ بچے غیر معمولی چیزوں کو گلے لگاتے ہیں اور جن چیزوں کو لوگ ناپسند کرتے ہیں ان چیزوں کو وہ “کول” تصور کرتے ہیں۔ جیسے میرے بیٹے کا یومنگوسور اور کنگفوپانڈا سے پراسرار تعلق ہے۔ بچے یکسانیت کو دیکھتے ہیں، تفریق کو نہیں اور میرے خیال میں وہ ایسا اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ابھی انہوں نے زیادہ تجربہ حاصل نہیں کیا کہ چیزوں کے نارمل ہونے کے بارے میں تعین کر سکیں۔

4 ۔ آلات کار آمد ہونے کے ساتھ “کول” بھی ہوتے ہیں۔
بالغ افراد جب بھی کسی کو وہیل چیئر پر دیکھتے ہیں تو اس شخص کو محتاج اور مجبور تصور کرتے ہیں اور وہیل چیر کو معذور افراد کے حرکت میں رہنے کی وجہ کے بجائے ان کی بے چارگی سمجھتے ہیں۔ جبکہ بچے ان تصورات کو نہیں اپناتے۔ پچھلے دنوں میرے بیٹے نے مجھ سے اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ایک وہیل چیئر لینا چاہتا ہے۔ اس خواہش کے پیچھے معاملہ یہ تھا کہ ہماری بلڈنگ کی لفٹ پر بچوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں تھی لیکن جیسے ہی کوئی شخص وہیل چیئر پر آتا تھا تو اس کو لفٹ میں خوش آمدید کہا جاتا تھا۔
اسی طرح خود کار آلات کو بعض اوقات بچے بہت منفی انداز میں تصور کرتے ہیں اور انہیں اپنی ضرورتوں کے حساب سے استعمال بھی کرتے ہیں۔ سنک کے سامنے سٹولر یا سٹول کا استعمال ہو یا وائیپر کے ساتھ کرکٹ وہ اپنی ضرورتوں کا حل تلاش کر ہی لیتے ہیں۔

5 ۔ ہمارے گِرد بنا ہوا ماحول طے کرتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔
کسی بچے سے پوچھیں کہ کھلونوں کی دوکان کا دروازہ ان کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔ وہ دنیا جو انہی کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس میں جانے کا دروازہ ان کے لیے جادوئی تاثیر رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر جب میں اپنے بچوں کو پلے لینڈ یا میوزیم لے کر جاتی ہوں اس جادو کی تاثیر ان کے چہرے پر صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

ہمارے لیے جو ماحول بنایا جاتا ہے وہ اور جس قسم کے تجربات سے ہم گزرتے ہیں وہ ہمیں ہماری صلاحیتوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ جیسے اگر میرا بیٹا میوزیم میں موجود تلوار سے کھیلنا چاہے گا تو میرے لیے یہ بات بالکل بھی قابلِ قبول نہیں کیونکہ میرے دونوں بچوں کے درمیان گفتگو میں اکثر اختلافِ رائے ہوتا ہے اور اس اختلاف کے پیشَ نظر وہ فرسٹریشن کا شکار ہو سکتے ہیں تو پھر تلوار کس طرح ان کے لیے ایک مناسب کھلونا ہو سکتا ہے لہذا اس قسم کے خطرناک کھلونوں کو میں ان کی دسترس سے باہر رکھ دیتی ہوں۔

اکثر اس طرح وہ اپنی پسندیدہ چیزوں کو حاصل کرنے سے معذور ہو جاتے ہیں اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سیکھتے رہتے ہیں کہ معذوروں کے ساتھ افراد روزمرہ کی زندگی میں کس طرح رہتے ہیں اور یہ بھی سیکھتے ہیں کہ کچھ کام کیے جا سکتے ہیں اور کچھ کام نہیں بھی کیے جا سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں اپنے اردگرد کے ماحول سے منسلک ہونے کی حس بھی تبدیل ہوتی جاتی ہے۔

کاش میں اپنی گفتگو کو ان خوشگوار نتائج پر ختم کر سکوں کہ بچے تعصبات سے پاک ہوتے ہیں یا پھر آنے والی نسل معذوری سے کے حوالے سے شعور رکھتی ہے۔

مگر افسوس تو یہ ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بچے آہستہ آہستہ اپنی نشوونُما کے دوران سیکھتے ہیں کہ کس طرح منفی رجحانات اور بدنامی کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔

جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو انفرادی اختلافات کے بارے میں اشارہ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے، جیسے وہ بغیر گھبراہٹ محسوس کرتے ہوئے کسی کو بھی کہ سکتے ہیں کہ “آپ کے دانت پیلے ہیں” اور جب وہ ایسا والدین کے سامنے کرتے ہیں تو اس کا فوری ردِعمل ظاہر ہوتا ہے اور یہی ردِعمل بچوں کو سکھاتا ہے کہ ان کا یہ رویہ درست نہیں ہے اور ردِعمل بچوں کو سکھاتا ہے کہ دوسروں سے منفرد ہونا شرمناک ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج یہ تصور پختہ ہوتا جاتا ہے۔

جب انفرادی اختلافات کو قبول کرنے کا دروازہ تنقید کے ساتھ بند ہو جاتا ہے تو بچے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں سماجی علیحدگی اور غنڈہ گردی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

معذوری کے خلاف تحریک پیدا کرنے کا عمل اکتسابی ہے اور اِسے ایک خاص طریقے سے گزر کر سیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ ایک امید پیدا کرتا ہے کہ ہم اپنے پیغامات پر نظرثانی کر کے آنے والی نسل میں سے تعصب کو ختم کر سکتے ہیں۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ ہر نئے دن یہی کر رہی ہوں۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments