آج کے دور میں گھر سے بھاگنا روز بروز بڑھ رہا ہے۔ مغربی تہذیب میں یہ بات بہت عام پائی جاتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں بھی اسکا رحجان بڑھ رہا ہے۔ میڈیا کا اس میں بڑا کردار پایا جاتا ہے۔ فلموں میں دکھائے گئے حالات آج کل کے نوجوانوں کو اکساتے ہیں کہ وہ گھر سے بھاگ جا ئیں کیونکہ ان کو اس میں بہتری نظر آتی ہے۔ رن آوے میں صرف گھر سے بھاگ جا نا نہیں شامل بلکہ ایک نوکری چھوڑ کر دوسری کی طرف جانا، بیوی کا خاوند کو چھوڑ کر میکے چلے جانا اور ملک چھوڑ دینا، وغیرہ یہ سب رن آوے میں شامل ہیں۔ نیشنل رن آوے سویچ بورڈ کے مطابق ہر سال تقریبا ۲۔۸ ملین بچے گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ۲۴ گھنٹے کے اندر اندر ہی واپس آ جاتے ہیں، لیکن ابھی بھی کافی بڑی تعداد ہے جو کبھی واپس گھر نہیں لوٹتے۔ اکثر جب کوئی گھر سے بھاگنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اس کے بارے میں وقتََا فوقتََا دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ ایسے نازک موقع پر بات چیت کرنے کے لحاظ سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

upper

آمنہ جاوید صداقت کلینک میں کلینکل سائیکالوجسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۵ میں، کلینکل سائیکالوجی میں، سینٹر فار کلینکل سائیکالوجی، پنجاب یونیورسٹی سے ایم-ایس مکمل کیا۔ انہوں نے ۲۰۱۳ میں سینٹر فار کلینکل سائیکالوجی، پنجاب یونیورسٹی سے بی-ایس مکمل کیا۔ انہوں نے سی-بی-ٹی، آر-ای-بی-ٹی، بہیوییر تھراپی میں بھی تربیت حاصل کی اور انکو ڈائلیکٹکل تھراپی میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے دو ریسرچ پروجیکٹس بھی کیے ہیں۔ ایک پروجیکٹ، ساِئبر بلنگ، رزیلینس، سائکیلوجیکل ڈسٹرس اور سائکیلوجیکل ویل بینگ اور دوسرا پرفیکشنیزم، انکڈیشنل سیلف اسپٹنس اینڈ ڈبیلیٹیٹنگ ایموشنز ہے۔ وہ ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔

lower

وہ بچے جو کبھی گھر واپس نہیں لوٹتے ان مین سے ذیادہ تر جنسی ذیادتی یا سیکس ٹریفکنگ کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر کسی طرح کے غیر قانونی کام یا نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ذیادہ تر بچے گھر سے بھاگنے کی دھمکی دیتے ہیں تو عموما جو پہلا ردعمل سامنے آتا ہے وہ ان کو مزید اکساتا ہے کہ وہ اپنے اس خیال پر عمل کر لیں اور پھر کبھی واپس نہ آئیں۔

بچوں کو یہ بتانا کہ وہ آپکو عزیز ہیں اور آپ انہیں چاہتے ہیں اور اپنی استطاعت اور ہمت کے مطابق انکی ہر ممکن مدد کریں گے۔ یہ انہیں اس خطرناک اور تکلیف دہ قسمت کے دلدل سے بچا سکتا ہے۔
teaser-Home runawayفورا سے پہلے یہ سوچنا کہ یہ بچہ ہے ہی برا، اسکی لعن طعن شروع کر دینا ان سب سے پہلے یہ پتہ کر لینا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے؟ اور ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے؟ ایسے جو جوانوں سے بات چیت کیسے کی جائے کہ وہ آپکی بات سنیں تو اس کے مختلف طریقے ہیں۔

 

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5