یہ بات سننے میں بہت دفعہ آتی ہے کہ جب تک انسان گھمنڈی نہیں ہوتا تب تک اس میں اعتماد نہیں آتا۔ دلچسپ بات یہ ہے ہم میں سے بہت سے لوگ اعتماد اور گھمنڈ کے درمیان کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ توازن برقرار رکھنا زیادہ تر لوگوں کے لیے چیلنج کا باعث بن جاتا ہے اور اس کی وجہ وہ غلط سوچ ہے جو پُراعتماد ہونے کی اصلی حقیقت سے ناواقف ہوتی ہے۔

کیا آپ ابھی تک الجھن کا شکار ہیں؟ آئیں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ کسی ادارے میں ایچ۔آر آفیسر کسی اعلی عہدے کی تعیناتی کے لیے انٹرویو کر رہا تھا۔ سوال پوچھتے ہوئے انہوں نے اپنے سامنے نشست پر بیھٹے امیدوار سے پوچھا کہ آپ اپنے آپ کو 5 سال بعد کہاں دیکھتے ہو؟ سوال کے جواب میں امیدوار بولا کہ اگر مجھے یہ نوکری ملتی ہے تو اگلے 3 سالوں میں، میں اپنے آپ کو، آپ کی جگہ پر دیکھتا ہوں۔ یہ سنتے ہی آفیسر نے امیدوار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انٹرویو ختم کر دیا۔

upper

ہارون کرسٹی منیر صداقت کلینک میں اپریل 2015 سے ڈائریکٹر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ولنگ ویز میں کونسلر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ انھوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر انہوں نے دوران تعلیم اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے بیسٹ وے سیمنٹ لمیٹڈ(راولپنڈی) میں انٹرن شپ کی۔ (مزید پڑھیے)

lower

کیا اس کو ہم خود پر اعتماد کہیں گے، حد سے زیادہ اعتماد یا پھر تکبر؟

خود اعتمادی کے بغیر معاشرے میں گزر بسر مشکل ہوتا ہے جبکہ اگر یہی خود اعتمادی حد سے بڑھ جائے تو مشکلات کا باعث بن سکتی ہے اس سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہمارے لیے پر اعتماد ہونا ضروری ہے لیکن حد سے زیادہ اعتماد ہونا ہمارے لیے باعث زحمت ہو سکتا ہے۔ یہ شاید سننے میں صیحح لگتا ہو لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا اصل میں کوئی وجود نہیں۔ درحقیقت جب ہم خود اعتمادی حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں تو حد سے زیادہ خود اعتمادی رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ تکبر جس کو غرور بھی کہتے ہیں اور خود اعتمادی دو بالکل مختلف تصورات ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے درحقیقت کوئی تعلق نہیں۔ یہ ضروری نہیں جس شخص میں خود اعتمادی پائی جائے اس میں تکبر بھی ہو اور جس میں تکبر ہو اس میں خود اعتمادی بھی پائی جائے۔ مثال کے طور پر ایسے لوگ جو کہ دوسروں کو تنگ کرتے ہیں کیا آپ کے خیال میں وہ خود اعتماد ہوتے ہیں؟ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ حقیقتا ایسے لوگوں میں خود اعتمادی کی شدید کمی ہوتی ہے اور یہی کمی دوسروں کو تنگ کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اہم بات جو سمجھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ تکبر کا متضاد خود اعتمادی کی کمی نہیں بلکہ اس کو ہم “احترام” کہتے ہیں۔

کوئی بھی انسان اپنے اندر جتنی بھی چاہے خود اعتمادی پیدا کر سکتا ہے لیکن اس بات کا سمجھنا اہم ہے کہ خود اعتمادی اور احترام کا آپس میں توازن رکھنا ضروری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح احترام کی اس صفت کو اپنے اندر اجاگر کیا جا سکتا ہے؟ اس صفت کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اگلے کہ نقطہ نظر کو اہمیت دے۔
2-1اگلے کے نقطہ نظر کو کیسے اہمیت دی جائے آئیے اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بھی دو انسان آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر مخصوص سوچ ان کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے محرکات اور ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی شک و شبہ محسوس ہو تو اس صورتحال میں مزید اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت تک اپنے ذہین میں یہ بات وہ اچھی طرح سے بٹھا چکے ہوتے ہیں کہ اگلا بندہ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ یہ رائے منفی، مثبت یا غیر جانبدار ہو سکتی ہے۔ اس مرحلہ پر اس بات کا اندازہ لگانا بہت ضروری ہے کہ کہی ہماری اس سوچ کا تعلق ماضی سے تو نہیں ہے۔ آخرکار آپ اپنے روئیے میں بہتری اس کے مطابق لے کر آئیں گے جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ اگلا بندہ آپ کے بارے میں رائے رکھے۔ یہ پورے کا پورا عمل کچھ ہی ملی سیکنڈ میں نادانستہ طور پر ہوتا ہے۔

آئیں دوبارہ سے اوپر دی گئی مثال کی طرف جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ امیدوار موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے سوال کا جواب دیتا۔ اس طرح سے وہ اس بات کا اندازہ لگا سکتا تھا کہ آفیسر اس کا جواب سننے کے بعد اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا۔ شائد وہ اس کے بارے میں یہ سوچے کہ یہ کل کا بچہ میرے اس عہدے پر 3 سال میں پہنچنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جبکہ یہی عہدہ میں نے 15 سال کی انتھک محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔۔۔۔ایسا کبھی نہیں ہو گا۔