نشے کا تسلسل اور عادی شخصیت

3

پرابلم ڈرنکر: یہ ایسے افراد ہوتے ہیں جن کے پینے پلانے میں کوئی تسلسل اور رابطہ نہیں ہوتا۔ ایسے افراد ایک خاص موقع کی تلاش میں نہیں ہوتے بلکہ یہ کسی بھی وقت پی سکتے ہیں اور شراب نوشی سے ان کے دن بھر کے معاملات پر بھی اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔ ایسے افراد معاشرے میں لوگوں سے اپنے تعلقات بھی ٹھیک طور پر سرانجام نہیں دے سکتے۔

ڈرائے ڈرنکر: یہ ایسے افراد ہوتے ہیں جنہوں نے شراب نوشی ختم کر دی ہو تی ہے مگر پھر بھی ان کے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی۔ وہ جھوٹ بولنا، لڑائی جھگڑا کرنا، دھوکہ دہی جیسے منفی کاموں کا حصہ بنے رہتے ہیں۔
addiction-willingwaystoday
سوبر: یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو شراب نوشی ترک کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رویوں میں بھی مثبت طور پر تبدیلی لے کر آ چکے ہوتے ہیں۔

پاسٹ سوبر: یہ ایسے افراد ہوتے ہیں جنہوں نے شراب نوشی ترک کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی لائی ہوتی ہے بلکہ یہ ساتھ ہی ان تمام تر عوامل سے بھی باہر نکل چکے ہوتے ہیں جو ان کو دوبارہ نشے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

میرے خیال میں سب سے اہم مثال جو میں “پاسٹ سوبر” کی دینا چاہوں گا وہ ان لوگوں کی ہے جو کہ 13 مراحل کے پروگرام میں میں نے بیان کی ہے۔ ایسے افراد بہت اچھی جگہوں پر آج ملازمت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ کافی اونچی جگہوں پر بطور ڈاکٹر بھی کام کر رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون کے ساتھ میں نے بھی کام کیا تھا جس کو شراب نوشی ترک کیے ایک عرصہ ہو گیا ہوا تھا اور وہ بطور ڈرائیور ایک جگہ ملازمت کر رہی تھی اور وہ کافی خوش تھی۔

ایک علتی کردار میں کیا کیا خامیاں اور خوبیاں ہو سکتی ہیں؟ اگر دیکھا جائے تو یہ وہ انسان ہوتا ہے جو بات بات پر دھوکہ دیتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے علاوہ ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر پاتا اکثر کسی بھی کام میں ناکام رہتا ہے۔ اکثر تناؤ اور ذہنی پریشانیوں میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ پیسوں کا بھی نقصان کر رہا ہوتا ہے۔ یہ سیٹ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ جاری رہتا ہے کیونکہ ہر طرح کے منفی رویے ایسے انسان سے سرزد ہو سکتے ہیں۔

اگر ایک الکوحلک کی جذباتی حالت کے بارے میں بات کی جائے تو اس کے جذبات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ اکثر ڈپریشن اور تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ شخصی خصوصیات کے مطابق بات کی جائے تو جیسے ایک شراب نوشی کرنے والے کے عام طور پر رویے ہوتے ہیں ویسے ہی عموماً دیکھنے میں آتے ہیں۔

نشہ ایک نقاب کی مانند ہے جو کسی پر بھی ایک خود فریبی کا جال بچھا دیتا ہے۔ اگر آپ کسی بھی ایسی علت میں مشغول ہیں تو آپ یہ جان لیں کہ آپ نے اپنی باقی ماندہ زندگی کی نفی کر دی ہے۔ پھر ایک مقام آتا ہے جب آپ کہتے ہیں کہ اب بس ہو گیا اور مجھے سوبر ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر آپ نشے سے آزادی تو پا لیتے ہیں مگر آپ کی زندگی میں شرمندگی کا عنصر جگہ لے لیتا ہے۔ آہستہ آہستہ خود فریبی کے جال میں دھنسنے لگتے ہیں کیونکہ نشے کی بیماری تاحال موجود ہوتی ہے۔

آپ نے نشے سے آزادی پا لی ہے لیکن پھر کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ اس کے نتیجے میں آپ کے تمام حواس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کیونکہ آپ کے رویوں میں تبدیلی نہیں آئی، نہ ہی آپ کے خیالات میں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ خود فریبی کے جال میں پھنس چکے ہوتے ہیں اور آپ کو اپنا آپ ٹھیک لگ رہا ہوتا ہے۔

نشے کا دائرہ کار کافی وسیع ہے میں ہمیشہ اپنے والدین کو کہتا ہوتا تھا اگر آپ سچ میں صیحح ہونا چاہتے ہیں تو پھر آپ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی کو اگر کوئی جذباتی یا سماجی مسائل کا سامنا ہو تو اس کو ذہنی بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسا اسلئے نہیں ہے کہ یہ بیماری شیزوفرینیا یا شخصی بیماریوں سے بڑھ کر ہے بلکہ نشے کی بیماری ہمارے اپنے معاشرے میں اتنی پھیل چکی ہے کہ آپ کو اس سے بچنے کیلئے اپنے آپ کو دوبارہ سے معاشرے میں ڈھالنا ہو گا تاکہ آپ اس نشے کی علت سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments