رائٹر: سید علی بخاری

نوجوان نسل کی تباہی کا ذمہ دار کون؟ نصاب میں منشیات کے مضر اثرات کو نمایاں کر کے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے، مقررین کا اجلاس سے خطاب:

ہمارے معاشرے میں منشیات کی لعنت کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں، منشیات ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوتی ہے، حکومت کو وقت کے ساتھ ساتھ دیگر نجی اداروں کو منشیات کے علاج معالجہ اور اس کی روک تھام کیلئے ہنگامی سطح پر کام کرنا ہو گا، خطرے کی بات یہ ہے کہ منشیات کی لعنت تعلیمی اداروں اور اَپر کلاس میں ایک فیشن کے طور پر سامنے آ رہی ہے جس کے دوررس انتہائی مضر اثرات نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق آج 10 ملین متاثرین نئے ناموں سے نشہ کا استعمال کر رہے ہیں، نشے کے یہ عادی مریض اور ان کے حوالے سے مرکزی و صوبائی حکومتوں کے پاس مختص بجٹ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی جو کہ ایک المیہ ہے، لہٰذا مرکزی و صوبائی حکومتیں ڈینگی کی طرح اس کی طرف بھرپور توجہ دیں۔

تازہ ترین معلومات کے مطابق نشہ میں مبتلاء افراد کی بڑی تعداد 25 سے 31 سال تک کی ہے جبکہ دوسرا بڑا حلقہ 15 سال سے 24 سال تک کی عمر کا ہے، پاکستان میں جس نشے کا استعمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے وہ چرس ہے جبکہ منشیات کا 80 فیصد استعمال مرد کرتے ہیں اور 20 فیصد خواتین ہیں۔

350 ٹن سے زائد افغان منشیات پاکستان میں استعمال ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان کے ایک ریکارڈ کے مطابق 66.22 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 20 سے 29 سال تھی جو مختلف جرائم کی مرتکب ہوئے۔ 18.92 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 15 سے 19 سال تھی جو جرائم کے مرتکب ہوئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام تر حقائق کے باوجود پاکستان کی حکومتیں اس حوالے سے کوئی متاثر کن عملی پالیسی تشکیل نہ دے سکیں، اگر حکومت اور اداروں کے ساتھ ساتھ خود عوام اس کے خلاف پوری طرح اٹھ کھڑے نہ ہوئے اور اس کو اپنے اندر اور اردگرد سے مار نہ بھگایا تو پھر بنی نوع انسان کو تباہ کرنے کے لئے کسی عالمگیر جنگ یا مہلک جوہری ہتھیاروں کی ضرورت نہ رہے گی، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے سب سے اہم کردار والدین اور اساتذہ کا ہے، اس کے بعد علماء دین کا ہے اور پھر میڈیا کا، نشہ آور اشیاء فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارائی کی جائے اور نصاب میں منشیات کے مضر اثرات کو نمایاں کر کے پیش کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اداروں کے ساتھ ساتھ ملک کے دانشور، اساتذہ، قلم دان بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے تمام اصحاب حالات کی سنگینی کا احساس کریں اور آگے بڑھ کر اپنے اپنے دائرہ کار اور حلقہ اثر میں منشیات کے اس عفریب کو مار بھگانے کے لئے تن، من ،دھن سے ہر ممکن کوششیں کریں۔ گزشتہ دنوں شوریٰ ہمدرد کا اجلاس ” منشیات کا بڑھتا ہوا رُجحان نفسیاتی مسائل اور معاشرے پر اثرات“ کے موضوع پر ہمدرد مرکز لاہور میں ہوا۔ مقررین میں جسٹس(ر) ناصرہ اقبال، ابصار عبدالعلی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، میڈیکل سپرینٹنڈنٹ فاؤنٹین ہاؤس لاہور ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ، کنسلٹنٹ انٹی ڈرگ نارکو ٹکس کمپین سید ذوالفقار حسین، جنرل(ر) راحت لطیف، برگیڈیر(ر) محمد سلیم، ڈاکٹر عظمت الرحمن، میجر(ر) صدیق ریحان، میجر(ر) خالدنصر، پروفیسر خالد محمود عطاء شعیب مرزا، پروفیسر نصیر اے چوہدری، طارق چغتائی، طفیل اختر، عائشہ عمران، ندیم شہزاد علی و دیگر نے شرکت کی۔

کنسلٹنٹ انٹی ڈرگ نارکوٹکس کمپیئین سید ذوالفقار حسین نے کہا کہ اب تک 635 تعلیمی اداروں میں ساٹھ ہزار سے زائد طلباء وطالبات میں شعور و آگہی مہم چلا چکے ہیں اور کئی نامور کالجز و یونیورسٹیز کو ڈرگ فری ڈکلیئر کروایا ہے، آج اَپر کلاس بچیاں بھی ہیں، کوکین اور شیشہ کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں جبکہ غیر ذمہ دار اساتذہ اُن کو نشہ کی افادیت بتاتے ہیں کہ اس سے چالیس چالیس گھنٹے نیند نہیں آتی اور پیپر کی تیاری اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ہم نے شیشہ کے خلاف مہم شروع کی اور اس کے خلاف قانون بنوایا اور پنجاب اسمبلی میں بھی اسکے خلاف بل پیش کیا بالآخر پورے ملک میں شیشہ کو ایک خطرناک نشہ ثابت کیا۔

میڈیکل سپریٹنڈنٹ فاؤنٹین ہاؤس لاہور ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ نے کہا کہ نشے کی لعنت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ایک کروڑ لوگ ڈرگز کے عادی ہیں، گزشتہ اعدادوشمار کے مطابق 22 کروڑ میں سے 8 کروڑ لوگ نشہ کے عادی ہیں جس گھر میں نشے کا عادی ہوتا ہے اُسکی وجہ سے پورا گھر متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشے کی لعنت کو روکنے کیلئے سب سے پہلے گھر کے سربراہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ڈاکٹر صاحب نے موبائل کے بے جا اور بے دریغ استعمال کو بھی ایک نشہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ چھوٹوں سے محبت اور دوستانہ ماحول پیدا کیا جائے جبکہ بڑوں کی تعظیم کی جائے اور اُن کے ساتھ وقت گزارا جائے، مذکورہ مسائل کی بنیادی وجہ خاندانی نظام کا متاثر ہونا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اپنے اندر سے حسد، بغض، کینہ اور نفرت کو ختم کر دیں گے اور ہر بڑے چھوٹے کے لیے احترام، تعظیم، محبت اور معاف کرنے کی عادت اپنا لیں گے تو بے شمار نفسیاتی بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

معاشرے میں ماں کا کردار کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے، جس کی بدولت بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، عورت کو مرد کے شانہ بشانہ قرار دینے کے سبب گھر سے نکال کر گھر کے ماحول کو برباد کر دیا ہے طلاق کی گئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جو جسمانی وروحانی دونوں اطراف سے چست ہوں۔ جسٹس(ر) ناصرہ اقبال نے کہا کہ اس وقت 25 ملین بچے سڑکوں پر پھر رہے ہیں جبکہ غربت کی وجہ سے لوگ بیٹیاں بیچنے کو تیار بیٹھے ہیں، ملک کا ہر فرد تقریباََ سوا لاکھ کا مقروض ہے، معاشرہ کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں تو کیسے ہمارا معاشرہ نفسیاتی اور نشے کی بیماریوں میں مبتلا نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی مذکورہ مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر شوریٰ ہمدرد لاہور محترم ابصار عبدالعلی نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ صحت اللہ کی بڑی نعمت کی قدر کرنی چاہیے، ہمارا معاشرہ جن سلگتے ہوئے مسائل سے دوچار ہے ان میں سے نوجوانوں اور نئی نسل کے اندر منشیات کا فروغ ایک اہم مسئلہ ہے یہ ایک ایسا طاعون ہے جس نے نہ صرف لاکھوں انسانوں کو گھُٹ گھُٹ کر جینے پر مجبور کر دیا ہے
بلکہ ہزاروں نوجوانوں کو ابدی نیند بھی سلا دیا ہے، دین اسلام نے ان تمام چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جو انسانی جسم اور اخلاقی زندگی پر اثر انداز ہوں۔

میڈیا، اساتذہ، والدین علماء اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ منشیات کے خاتمے اور اسکی میخ کنی کیلئے اپنا کردار ادا کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اسکی روک تھام اور سدباب کیلئے اہم اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ منشیات سے پاک معاشرہ کا قیام عمل میں لایا جا سکے اور نشے جیسی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کر کے پاکستان کے مستقبل کر محفوظ بنایا جا سکے۔

Courtesy: Urdu Point