امیریکی سرجن کی رپورٹ کے مطابق۔۔۔
’’ای سگریٹ نوجوانوں کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے‘‘
امریکہ کے سرجن جنرل کے مطابق ای سگریٹ نوجوان نسل کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں سرجن جنرل وویک مارتھے نے ای سگریٹ سے ہونے والے تمام تر خطرات کی فہرست تیار کی اور اُس کی ساتھ ساتھ اُن تدابیر پر بھی روشنی ڈالی جن کے تحت نوجوان طبقہ تمباکو کے نقصانات کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے۔

upper

مس عترت زہرأ نقوی ویلنگ ویز اور صداقت کلینک لاہور میں ماہر نفسیات کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایم ایس سی نفیسات کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے درجہ اول میں حاصل کی اور کلینیکل سائیکولوجی میں ایڈوانس ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ارم بخاری کے زیر سایہ گنگارام ہسپتال سے اپنی پیشہ وارآنہ تربیت مکمل کی۔ انہوں نے چنیوٹ کے ڈی۔ایچ۔کیو ہسپتال میں بطور ماہر نفسیات ایکسائز کے پراجیکٹ پر کام کیا (مزید پڑھیے)

lower

مارتھے کہتے ہیں کے تمباکو نوشی کیسی صورت میں بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ خواہ وہ ای سگریٹ کی شکل میں کیوں نہ ہو۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نوجوانوں میں ای سگریٹ کا بڑھتا ہوا استعمال خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ اسکے بڑھتے ہوئے استعمال سے نوجوانوں کو تمباکو اور اس سے بنی دوسری مصنوعات کی بھی ترغیب ملتی ہے۔

مایو کلینک کے ڈاکٹر جے.ٹیلرہیز بھی اس رپورٹ سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں سکول کے طلباء میں ای سگریٹ کے استعمال میں ڈرامائی انداز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جب سے انھوں نے اس حوالے سے 2011 میں تحقیقات کا آغاز کیا تھا، اس وقت سے اب تک تعداد خصوصاََ پچھلے ماہ میں چار گناہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی پرُ خطر رواج ہے، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کے نوجوانوں کی صحت ای سگریٹ کے دور میں اس کے اثرات کیا ہوں گے اور ہم اس کو بھی نہیں سمجھتے کہ پبلک ہیلتھ نوجوانوں کے صحت ای سگریٹ کے استعمال سے کونسے خطرات سے دو چار ہو گی۔ امیریکی سرجن جنرل نے بہت درست وضاحت کی ہے کہ ’’آپ اپنے بچے پر تجربہ نہیں کر رہے‘‘۔

ڈاکٹر جے.ٹیلرہیز نے مزید وضاحت کی ہے کہ ای سگریٹ صحت کے لیے اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا کے ریگولر سگریٹ۔ اب تک پوشیدہ ہے۔ لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ اس کے استعمال سے ہماری نوجوان نسل نیکوٹین کے نشے میں مبتلا ہو رہی ہے اور مستقبل میں اُن کا دوسرے نشوں کی طرف جانا یقینی ہے۔

یہ بہت بڑا المیہ ہو گا اگر امریکہ کی ایک اور نسل کو تمباکو کی وباء کے خلاف جنگ کرنی ہو۔ والدین، اساتذہ، پالیسی بنانے والے اور صحت عامہ پہچانے والے تمام افراد کو ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیئے تاکہ وہ آئندہ نسل کو تمباکو اور نیکوٹین سے پاک نسل کی طور پر پروان چڑھائیں۔

رپورٹ میں دی گئی چند تدابیر جو ای سگریٹ کے استعمال میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔سنٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے تحت ’’تمباکو کنٹرول پروگرام‘‘ کے لیے ہر سطح پر عطیات جمع کرنے چاہییں۔
2۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دینا چاہیے۔
3۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز کے قوانین کا اطلاق یقنی بنا یا جائے۔
4۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اشہتاری مہم چلائی جائے۔

تاہم ای سگریٹ کے نوجوانوں میں نقصانات ابھی مہم ہیں ۔پھر بھی ئو۔ایس۔فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تمام تمباکو کی مصنوعات کے ضابطوں کو سختی سے رائج کر دیا ہے۔ وہ ضابطے جو 2016 کے آغاز میں کارگر ثابت ہوئے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ خریداری کے وقت تصویر شناخت درکار ہو۔
2۔کور کے بغیر تمباکو کی مصنوعات کو وینڈنگ مشین میں ڈالنا ممنوع ہے۔ مفت نمونہ تقسیم کرنا بھی ممنوع ہے۔

FDAکے مطابق ضابطے خریداروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور قابل پرہیز تمباکو سے ہونے والی بیماری اور قوت سے بھی محفوظ کرتے ہیں نیکوٹین پر انحصار کے ماہرین جن کا تعلق مایو کلینک سے بنی تمام مصنوعات سے دور رہیں اور اگر آپ تمباکو نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں تو یہ مشورے آپ کے کام آ سکتے ہیں نیکوٹین، ریپلسمینٹ تھراپی استعمال کریں۔ اسی صورتحال اور جگہوں سے پرہیز کریں جو آپ کو اشتعال دلاتی ہیں۔ تمباکو نوشی میں دیر کریں طلب ہونے کی صورت میں کم ازکم 10 منٹ انتظار کریں۔

چیونگم کا استعمال کریں۔ خود کو یہ سوچ کر بے وقوف نہ بنائیں کہ میں صرف ایک سگریٹ لوں گا ،مدد حاصل کرنے کے لئے ماہرین سے رابطہ کیجئے۔