قصور کس کا؟؟؟dir
ڈاکٹر صداقت علی

نسیمہ جلدی جلدی جانے کیلئے تیار ہو رہی تھی، وسیم دو دفعہ اسے ڈانٹ چکا تھا۔ ابھی ان دونوں کی شادی کو 10دن ہی گزرے تھے۔ نسیمہ کو ڈانٹ بالکل اچھی نہیں لگتی تھی جبکہ وسیم سمجھتا تھا کہ غصہ مردوں کا زیور ہے۔ وسیم ایک بار پھر دروازے پر کھڑا تھا۔

ادھر گلبرگ میں سیٹھ وقار احمد ٹیلی فون پر سیٹ بک کروانے کے بعد اطمینان سے چائے پی رہے تھے۔ بس اسٹینڈ ان کے گھر سے 15منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ ان کی بیگم انہیں نصیحت کر رہی تھی کہ گھر سے نکلتے ہی بد پرہیزی شروع نہ کر دیجئے گا۔ شوگر پچھلے کئی دنوں سے بڑھی ہوئی تھی پھر بھی سیٹھ صاحب بیگم سے نظر بچا کر میٹھا کھا لیتے تھے۔ ’’اور اپنی انسولین باقاعدگی سے لگا لیجئے گا، صبح شام۔‘‘ بیگم صاحبہ نے گھر سے سیٹھ صاحب کو گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ ڈرائیور نے گاڑی بیک گئیر میں ڈالی اور تھوڑی ہی دیر میں سیٹھ وقار کلمہ چوک کی طرف رواں دواں تھے۔

سعدیہ اور شہناز ہوسٹل کے دروازے پر کھڑی رکشہ کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ ایم بی بی ایس کے آخری سال میں تھیں اور اب انہیں امتحانوں سے پہلے تین ماہ کیلئے فارغ کر دیا گیا تھا۔ وہ دونوں تیاری کیلئے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو رہی تھیں۔ سعدیہ اسلام آباد میں اور شہناز گوجر خان میں رہتی تھی۔ سعدیہ کو ابھی سے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ جب شہناز گوجر خان میں اتر جائے گی تو پھر وہ باقی سفر تنہا کیسے کاٹے گی؟

مسلم لیگی راہنما راجہ شیر زمان لاہور میں چار مصروف دن گزارنے کے بعد آج گھر لوٹ رہے تھے، ایمبیسیڈر ہوٹل سے چیک آؤٹ کرتے ہوئے وہ خوش نہ تھے، انہیں مناسب پروٹوکول نہ ملا تھا حالانکہ وہ عملے کوکئی دفعہ باور کروا چکے تھے کہ وہ مسلم لیگ کے مرکزی راہنما ہیں۔ ہوٹل کا عملہ یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ آخر کس چیز کی کمی رہ گئی ہے؟ ان کی ’’آخری خواہش‘‘ یہ تھی کہ ہوٹل کی ٹرانسپورٹ انہیں بکر منڈی چھوڑ کر آئے تاکہ وہ ہوٹل سے کوئی تو مثبت یاد اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ راجہ شیر زمان مسلم لیگ کے تسلیم شدہ مرکزی راہنما تھے۔ یہ بات راولپنڈی کے لاکھوں لوگ ان کے خیر مقدمی بیروں پر پڑھ چکے تھے، جو وہ وقتاََ فوقتاََ شہر بھر میں آویزاں کیا کرتے تھے، خاص طور پر ایسے موقعوں پر جب کوئی کابینہ بنتی تھی یا پھر کابینہ میں نیا وزیر شامل کیا جاتا تھا۔ ایمبیسیڈر ہوٹل کی گاڑی مال روڈ پر فراٹے بھرتی ہوئی بکر منڈی کی طرف اڑی چلی جا رہی تھی۔

شہر بھر میں 48مسافروں کا رخ بکر منڈی کی طرف تھا اور سب کے دل میں کچھ نہ کچھ خاص جذبات تھے۔ ملنے اور بچھڑنے کے جذبات، ہر روز آگے بڑھتی ہوئی زندگی سے آگے بڑھنے کے جذبات اور آنے والی صبحوں اور شاموں سے وابستہ امیدوں اور خدشوں سے لبریز جذبات۔ بس اسٹینڈ پر رش تھا۔ گرمی کا موسم جولائی کے آخری دن اور حبس ایسا کہ جیسے ہوا میں تیرتا ہوا خوف۔ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ لوگ خوامخواہ ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔ ایک لمبی سی بس جلتی بجھتی روشنیوں میں مسافروں کا انتظار کر رہی تھی۔ روانگی کا وقت ڈھائی بجے سہ پہر تھا۔ بار بار لگتا کہ بس روانہ ہونے ہی والی ہے لیکن بس وہیں کھڑی تھی۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments