قصور کس کا؟؟؟

2

ڈرائیور اپنی سیٹ پر بیٹھا کھڑکی سے باہر کھڑے دو ڈرائیوروں سے باتیں کر رہا تھا، تینوں ڈرائیور ایک ہی سگریٹ شئیر کر رہے تھے۔ ان کے باتیں کرنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ جگری دوست ہیں۔ لیکن زیر بحث موضوع شاید خوشگوار نہ تھا۔ باہر کھڑا مقبول خان بار بار ایک ہی فقرہ دوہرا رہا تھا ’’اکھڑ خان! بس اس بات کو اب تم جانے دو۔‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اکھڑ خان کسی طرح مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھااور ہر دفعہ دھواں باہر نکالتے وقت اپنا سر کھڑکی سے باہر لے جاتا تاکہ بس کے اندر کسی کو پتا نہ چلے کہ وہ چرس پی رہا ہے۔ ایک گندی اور سڑی ہوئی بدبو دور سے محسوس کی جا سکتی تھی۔ اکھڑ خان میانوالی کا رہنے والا تھا۔ تینوں کے چہروں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ تینوں کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ لباس اور تراش خراش سے وہ عجیب نظر آ رہے تھے۔ مسافر بس میں بیٹھ چکے تھے اور روانگی کیلئے اصرار کر رہے تھے۔ بس میں اگرچہ اے سی چل رہا تھا لیکن ٹھنڈک نام کو نہیں تھی۔ آخر راجہ شیر زمان سے رہا نہ گیا، وہ اپنی سیٹ سے اٹھے اور ڈرائیور سے جا کر کہا ’’تم ابھی فوری طور پر روانہ ہوتے ہو یاپھر میں دفتر میں جا کر تمہاری شکایت کروں؟ تمہیں پتا ہے میں مسلم لیگ کا مرکزی راہنما راجہ شیر زمان ہوں؟‘‘ ڈرائیور نے غور سے راجہ شیر زمان کی طرف ایسے دیکھا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو، پھر کچھ کہے بناء اس نے اپنے دوستوں کو خدا حافظ کہا اور بس ایک جھٹکے سے گئیر میں ڈال دی۔ اس کے ڈرائیونگ کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے راجہ شیر زمان پر غصہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

تھوڑی ہی دیر میں بس دریائے راوی کے پل پر سے گزرتی ہوئی جی ٹی روڈ پر رواں دواں تھی۔ ٹیپ پر اکرم راہی کا گانا ’’اک پاسے یار دا جنازہ چلیا، دوجے پاسے ڈولی اے معشوق دی‘‘ اونچی آواز کے ساتھ چل رہا تھا۔ اکرم راہی کو غم کا راہی کہا جاتا ہے۔ گرمی کا احساس اب نسبتا کچھ کم ہو چکا تھا۔ مسافر ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ نسیمہ اور وسیم سب کی توجہ کا مرکز تھے۔ ایک نوبیاہتا دلہن سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ ہی لیتی ہے، وسیم فاتحانہ انداز میں کبھی اپنی دلہن کو اور کبھی مسافروں کو دیکھ رہا تھا۔ راجہ شیر زمان مسافروں کو ملک میں ہونے والے سیاسی اتار چڑھاؤ سے آگاہ کر رہا تھا۔ وہ اشارے کنائے سے یہ بھی بتا رہا تھا کہ اسے ’’اندر‘‘ کی سب خبریں کس طرح معلوم ہوتی ہیں اور اس کے رابطے کہاں کہاں تک ہیں۔ سیٹھ وقار احمد بڑی دلچسپی سے اس کی گفتگو سن رہے تھے۔ جونہی راجہ شیر زمان کا رخ ان کی طرف ہوا، سیٹھ وقار احمد نے اپنا وزیٹنگ کارڈ ان کی طرف بڑھا دیا جس پر ان کے نام کے ساتھ سیٹھ گروپ آف انڈسٹریز لکھا تھا۔ راجہ شیر زمان حیرت سے انہیں تکنے لگے کہ اتنے بڑے انڈسٹریالسٹ آخر بس میں سفر کیوں کر رہے ہیں؟ سیٹھ وقار احمد نے فورا وضاحت کی کہ انہیں ہوائی سفر کرتے ہوئے بہت ڈر لگتا ہے۔ ۱ٍ

سعدیہ اور شہناز کو یہ سیاسی شور بہت برا لگ رہا تھا لیکن روایتی جھجک کی وجہ سے وہ خاموش رہیں۔ انہیں جہاں ایک طرف کئی مہینوں بعد گھر جانے کی خوشی تھی وہاں امتحان کا خوف بھی ذہن پر بری طرح چھایا ہوا تھا۔ کھاریاں چھاؤنی سے کچھ پہلے گاڑی آدھے گھنٹے کیلئے ایک ہوٹل پر رکی تاکہ مسافر کچھ کھا پی لیں۔ ڈرائیور بس سے کچھ فاصلے پر خاص سگریٹ کے گہرے گہرے کش لے رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں بس فراٹے بھرتی ہوئی جہلم کی طرف رواں دواں تھی۔ کھاریاں چھاؤنی گزرنے کے بعد ڈرائیور نے یکدم گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔ ایک مشکل موڑ پر تو مسافروں کی چیخیں ہی نکل گئیں۔ ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ ڈرائیور نے تیز رفتاری کے ساتھ ایک اور موڑ کاٹا، بس ایک ٹرک کو اوور ٹیک کرتے ہوئے جیسے چھو کر گزر گئی۔ اکثر مسافروں نے اگلی سیٹوں کو زور سے پکڑ رکھا تھا۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments